Vinkmag ad

کارڈیو مایوپیتھی: دل کے پٹھوں کی بیماری

Heart symbol with an ECG heartbeat line representing cardiomyopathy,

کارڈیو مایوپیتھی (Cardiomyopathy) دل کے پٹھوں کی ایک بیماری ہے۔ اس میں دل کو جسم کے مختلف حصوں تک خون پمپ کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ نتیجتاً ہارٹ فیلئر کی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔ یہ بیماری دل کی دیگر سنگین پیچیدگیوں کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

علامات

بعض افراد میں کارڈیو مایوپیتھی کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی، جبکہ کچھ لوگوں میں وقت کے ساتھ علامات نمایاں ہونے لگتی ہیں۔ اس کی علامات میں شامل ہیں:

٭ جسمانی سرگرمی یا آرام کے دوران سانس پھولنا یا سانس لینے میں دشواری

٭ سینے میں درد، خاص طور پر ورزش یا زیادہ کھانا کھانے کے بعد

٭ دل کی دھڑکن کا تیز، زور سے یا بے ترتیب محسوس ہونا

٭ ٹانگوں، ٹخنوں، پیروں، پیٹ اور گردن کی رگوں میں سوجن

٭ جسم میں پانی جمع ہونے کے باعث پیٹ کا پھول جانا

٭ لیٹنے پر کھانسی آنا

٭ سیدھا لیٹ کر سونے میں دشواری ہونا

٭ مناسب آرام کے باوجود مسلسل تھکن محسوس ہونا

٭ چکر آنا

٭ بے ہوش ہو جانا

علاج نہ ہونے کی صورت میں علامات عموماً بتدریج بڑھتی جاتی ہیں۔ بعض افراد میں بیماری تیزی سے شدت اختیار کرتی ہے، جبکہ کچھ مریضوں میں طویل عرصے تک نمایاں تبدیلی نہیں آتی۔

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

٭ اگر کارڈیو مایوپیتھی کی کوئی بھی علامت ظاہر ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں

٭ اگر بے ہوشی طاری ہو جائے، سانس کی شدید تکلیف ہو یا سینے کا درد چند منٹ سے زیادہ برقرار رہے تو فوری ہنگامی طبی امداد حاصل کریں

٭ کارڈیو مایوپیتھی کی بعض اقسام موروثی ہوتی ہیں۔ اگر آپ کو یہ بیماری لاحق ہے تو ڈاکٹر خاندان کے دیگر افراد کا بھی معائنہ یا سکریننگ تجویز کر سکتا ہے

وجوہات

٭ اکثر مریضوں میں کارڈیو مایوپیتھی کی اصل وجہ معلوم نہیں ہو پاتی

٭ بعض افراد میں یہ بیماری کسی دوسری طبی حالت کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے، جسے حاصل شدہ (acquired) کارڈیو مایوپیتھی کہا جاتا ہے

٭ کچھ لوگ والدین سے منتقل ہونے والے جینز کی وجہ سے اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں، جسے موروثی کارڈیو مایوپیتھی کہا جاتا ہے

حاصل شدہ کارڈیو مایوپیتھی کی ممکنہ وجوہات میں شامل ہیں:

٭ طویل عرصے تک ہائی بلڈ پریشر رہنا

٭ دل کے دورے سے دل کے پٹھوں کو نقصان پہنچنا

٭ لمبے عرصے تک دل کی دھڑکن کا غیر معمولی طور پر تیز رہنا

٭ دل کے والوز کی خرابیاں

٭ کووڈ-19 کا انفیکشن

٭ ایسے انفیکشن جو دل میں سوزش پیدا کریں

٭ موٹاپا، تھائرائیڈ کی بیماری یا ذیابیطس جیسے جسمانی مسائل

٭ خوراک میں ضروری وٹامنز یا معدنیات، خاص طور پر وٹامن بی ون، کی کمی

٭ حمل کے دوران پیدا ہونے والی پیچیدگیاں

٭ دل کے پٹھوں میں آئرن کا غیر معمولی طور پر جمع ہونا

٭ سارکوئیڈوسس، جس میں جسم یا دل میں سوزش کی چھوٹی گلٹیاں بن جاتی ہیں

٭ جسم کے مختلف اعضا میں غیر معمولی پروٹین جمع ہونا

٭ کنیکٹو ٹشو کی بیماریاں

٭ کئی سال تک ضرورت سے زیادہ شراب نوشی

٭ کوکین، ایمفیٹامین یا اینابولک سٹیرائیڈز کا استعمال

٭ بعض کینسرز کی ادویات یا ریڈی ایشن تھراپی

کارڈیو مایوپیتھی کی اقسام

کارڈیو مایوپیتھی کی کئی اقسام ہیں۔ اہم اقسام میں دل کے خانوں کے پھیلاؤ والی کارڈیو مایوپیتھی (ڈائی لیٹڈ کارڈیو مایوپیتھی)، دل کے پٹھوں کا موٹا ہونا (ہائپرٹرافک کارڈیو مایوپیتھی) اور دل کے پٹھوں کا سخت ہونا (ریسٹرکٹو کارڈیو مایوپیتھی) شامل ہیں۔

ڈائی لیٹڈ کارڈیو مایوپیتھی

اس قسم میں دل کے خانے پھیل جاتے ہیں اور ان کی دیواریں پتلی ہو جاتی ہیں۔ یہ تبدیلی زیادہ تر دل کے مرکزی پمپنگ خانے، یعنی بائیں وینٹریکل، سے شروع ہوتی ہے۔ یہ بیماری کسی بھی عمر میں ہو سکتی ہے، لیکن زیادہ تر 50 سال سے کم عمر افراد میں پائی جاتی ہے۔

ہائپرٹرافک کارڈیو مایوپیتھی

اس قسم میں دل کے پٹھے غیر معمولی طور پر موٹے ہو جاتے ہیں، جس سے دل کے لیے خون پمپ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ کیفیت زیادہ تر دل کے مرکزی پمپنگ خانے کے پٹھوں کو متاثر کرتی ہے۔ اگر یہ بیماری بچپن میں ظاہر ہو تو عموماً زیادہ شدید ہوتی ہے۔ یہ بیماری کسی دوسری قلبی خرابی کی وجہ سے پیدا نہیں ہوتی۔

ریسٹرکٹو کارڈیو مایوپیتھی

اس قسم میں دل کے پٹھے سخت اور کم لچکدار ہو جاتے ہیں۔ اس کے باعث دل دو دھڑکنوں کے درمیان مناسب مقدار میں خون سے نہیں بھر پاتا۔ یہ کارڈیو مایوپیتھی کی نسبتاً نایاب قسم ہے اور زیادہ تر عمر رسیدہ افراد میں دیکھی جاتی ہے۔

دائیں وینٹریکل کی اریتھموجینک کارڈیو مایوپیتھی

یہ ایک نایاب قسم ہے، جو عموماً 10 سے 50 سال کی عمر کے درمیان ظاہر ہوتی ہے۔ اس میں دل کے دائیں نچلے خانے کے پٹھوں کی جگہ چربی اور داغ دار ٹشو بن جاتا ہے، جس سے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو سکتی ہے۔ بعض مریضوں میں بائیں وینٹریکل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

خطرے کے عوامل

درج ذیل عوامل کارڈیو مایوپیتھی کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں:

٭ کارڈیو مایوپیتھی، دل کی کمزوری یا اچانک دل بند ہونے کی فیملی ہسٹری

٭ طویل عرصے تک ہائی بلڈ پریشر رہنا

٭ دل کا دورہ، دل کی شریانوں کی بیماری یا دل کا انفیکشن

٭ موٹاپا، جس سے دل پر اضافی دباؤ پڑتا ہے

٭ طویل عرصے تک زیادہ شراب نوشی

٭ کوکین، ایمفیٹامین یا اینابولک سٹیرائیڈز کا استعمال

٭ بعض کینسر کی ادویات یا ریڈی ایشن تھراپی

سبب بننے والی بیماریاں

درج ذیل بیماریاں بھی اس کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں:

٭ ذیابیطس

٭ تھائرائیڈ کی بیماری

٭ جسم میں آئرن کا غیر معمولی طور پر جمع ہونا

٭ جسم کے مختلف اعضا میں غیر معمولی پروٹین جمع ہونا

٭ جسم کے مختلف اعضا میں سوزش کی چھوٹی گلٹیاں بننے کی بیماری

٭ کنیکٹو ٹشو کی بیماریاں

پیچیدگیاں

کارڈیو مایوپیتھی درج ذیل سنگین پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے:

٭ دل کی کمزوری، جس میں دل جسم کی ضرورت کے مطابق خون پمپ نہیں کر پاتا۔ بروقت علاج نہ ہونے پر یہ جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے

٭ دل کے اندر خون کے کلاٹ بننا، جو خون کے ذریعے دماغ یا دیگر اعضا تک پہنچ کر خون کی روانی روک سکتے ہیں

٭ دل کے والوز کی خرابی، کیونکہ دل کے پھیل جانے سے والوز مکمل طور پر بند نہیں ہو پاتے اور خون الٹی سمت بہنے لگتا ہے

٭ اچانک دل بند ہونا اور اچانک موت، کیونکہ بے ترتیب دھڑکن بعض اوقات دل کی کارکردگی مکمل طور پر روک سکتی ہے

بچاؤ کی تدابیر

موروثی کارڈیو مایوپیتھی سے بچاؤ ممکن نہیں، لیکن اگر خاندان میں یہ بیماری موجود ہو تو اپنے ڈاکٹر کو ضرور آگاہ کریں۔ حاصل شدہ کارڈیو مایوپیتھی کے خطرے کو کم کرنے کے لیے درج ذیل صحت مند عادات اپنائیں:

٭ شراب اور منشیات سے مکمل پرہیز کریں

٭ ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور ذیابیطس کو قابو میں رکھیں

٭ متوازن اور صحت بخش غذا کھائیں

٭ باقاعدگی سے ورزش کریں

٭ مناسب اور بھرپور نیند لیں

٭ ذہنی دباؤ کم رکھنے کی کوشش کریں

یہ عادات موروثی کارڈیو مایوپیتھی کے مریضوں میں بھی علامات کو بہتر انداز میں قابو رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔

تشخیص

ڈاکٹر پہلے جسمانی معائنہ کرتا ہے اور ذاتی و خاندانی میڈیکل ہسٹری کے بارے میں سوالات پوچھتا ہے۔ تشخیص کے لیے درج ذیل ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں:

٭ خون کے ٹیسٹ

٭ سینے کا ایکسرے

٭ ایکو کارڈیوگرام

٭ الیکٹروکارڈیوگرام (ای سی جی

٭ ورزش کے دوران دل کا ٹیسٹ

٭ کارڈیئک کیتھیٹرائزیشن

٭ دل کا ایم آر آئی

٭ دل کا سی ٹی سکین

٭ جینیاتی ٹیسٹنگ یا سکریننگ

علاج

کارڈیو مایوپیتھی کے علاج کے بنیادی مقاصد یہ ہیں:

٭ علامات کو کم کرنا

٭ بیماری کو مزید بڑھنے سے روکنا

٭ پیچیدگیوں کے خطرے کو کم کرنا

علاج کا انتخاب کارڈیو مایوپیتھی کی قسم اور بیماری کی شدت کے مطابق کیا جاتا ہے۔

ادویات

کارڈیو مایوپیتھی کے علاج میں مختلف ادویات استعمال کی جاتی ہیں، جو درج ذیل مقاصد کے لیے دی جا سکتی ہیں:

٭ دل کی خون پمپ کرنے کی صلاحیت بہتر بنانا

٭ خون کی روانی بہتر کرنا

٭ بلڈ پریشر کم کرنا

٭ دل کی دھڑکن کو معمول پر لانا یا رفتار کم کرنا

٭ جسم سے اضافی پانی اور نمک خارج کرنا

٭ خون کے کلاٹ بننے سے روکنا

نان سرجیکل علاج

دل کی بے ترتیب دھڑکن یا بعض اقسام کی کارڈیو مایوپیتھی کے علاج کے لیے درج ذیل طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں:

سیپٹل ایبلیشن: اس میں کیتھیٹر کے ذریعے متاثرہ شریان میں الکوحل پہنچائی جاتی ہے۔ اس سے دل کے موٹے حصے کا حجم کم ہو جاتا ہے اور خون کی روانی بہتر ہوتی ہے

ایبلیشن کے دیگر طریقے: اس میں کیتھیٹر کے ذریعے گرم یا سرد توانائی استعمال کی جاتی ہے۔ اس طرح دل میں ننھے داغ بنائے جاتے ہیں، جو غیر معمولی برقی سگنلز کو روک کر دل کی دھڑکن کو معمول پر لانے میں مدد دیتے ہیں

سرجری اور دیگر پروسیجرز

اگر ادویات اور دیگر علاج سے مطلوبہ فائدہ نہ ہو تو دل کی کارکردگی بہتر بنانے، علامات کم کرنے یا پیچیدگیوں سے بچانے کے لیے بعض طبی آلات یا سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ دل میں لگائے جانے والے آلات میں شامل ہیں:

٭ وینٹریکولر اسسٹ ڈیوائس (VAD):

٭ پیس میکر

٭ کارڈیئک ریسنکرونائزیشن تھراپی (CRT) ڈیوائس:

٭ امپلانٹیبل کارڈیوورٹر ڈیفبریلیٹر (ICD):

کارڈیو مایوپیتھی کے علاج کے لیے درج ذیل سرجریاں بھی کی جا سکتی ہیں:

٭ سیپٹل ماییکٹومی: اس میں سرجن دل کے درمیانی موٹے پٹھے کا ایک حصہ نکال دیتا ہے، جس سے خون کی روانی بہتر ہو جاتی ہے۔

٭ دل کی پیوند کاری

طرزِ زندگی اور گھریلو احتیاطیں

صحت مند طرزِ زندگی اپنانے سے بیماری پر بہتر قابو پایا جا سکتا ہے اور پیچیدگیوں کا خطرہ کم ہو سکتا ہے:

٭ اگر سگریٹ نوشی کرتے ہیں تو اسے ترک کریں

٭ اگر وزن زیادہ ہے تو اسے صحت مند حد تک کم کریں

٭ ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق باقاعدگی سے ورزش کریں

٭ پھل، سبزیاں اور ثابت اناج پر مشتمل متوازن غذا کھائیں

٭ نمک کا استعمال کم کریں اور روزانہ سوڈیم کی مقدار 1,500 ملی گرام سے کم رکھنے کی کوشش کریں

٭ شراب سے پرہیز کریں یا اس کا استعمال انتہائی محدود رکھیں

٭ ذہنی دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کریں

٭ روزانہ مناسب اور معیاری نیند لیں

٭ تمام ادویات ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق استعمال کریں

٭ باقاعدگی سے طبی معائنہ کراتے رہیں

Frequently Asked Questions (FAQs)

کیا کارڈیو مایوپیتھی مکمل طور پر ٹھیک ہو سکتی ہے؟

کارڈیو مایوپیتھی ہمیشہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی، لیکن بروقت تشخیص، مناسب علاج اور صحت مند طرزِ زندگی سے اس کی علامات اور پیچیدگیوں کو مؤثر انداز میں قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔

کیا کارڈیو مایوپیتھی کے مریض ورزش کر سکتے ہیں؟

زیادہ تر مریض مناسب نوعیت کی ورزش کر سکتے ہیں، لیکن ورزش کی قسم، شدت اور دورانیے کا تعین ہمیشہ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ہونا چاہیے۔

کیا ہر مریض کو دل کی پیوند کاری کی ضرورت پڑتی ہے؟

نہیں، زیادہ تر مریض ادویات، طبی آلات یا دیگر علاج سے بہتر رہتے ہیں۔ دل کی پیوند کاری صرف ان مریضوں کے لیے زیر غور آتی ہے، جن میں بیماری انتہائی شدید ہو اور دیگر تمام علاج ناکام ہو جائیں۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=cardiologist

Vinkmag ad

Read Previous

جنجیوائٹس

Read Next

گیسٹرائٹس: معدے کی سوزش

Leave a Reply

Most Popular