برطانیہ کی یونیورسٹی آف ایڈنبرگ کی قیادت میں مختلف یونیورسٹیوں کی ایک نئی تحقیق میں اینڈومیٹریوسس کی شکار خواتین کے خون میں ایک منفرد ہارمونل نمونہ دریافت کیا گیا ہے۔ محققین کے مطابق یہ پیش رفت مستقبل میں بلڈ ٹیسٹ کے ذریعے بیماری کی تشخیص میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
تحقیق کے دوران 159 مریض خواتین اور 57 صحت مند خواتین کے خون میں ہارمونز کا موازنہ کیا گیا۔ محققین نے متاثرہ خواتین میں ایک منفرد ہارمونل فنگر پرنٹ دریافت کیا۔ اس کی مدد سے 95 فیصد سے زائد مریضوں کی درست شناخت ممکن ہوئی۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ اینڈومیٹریوسس میں بعض اینڈروجن ہارمونز کی سطح معمول سے مختلف ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ ہارمونل فرق مستقبل میں اینڈومیٹریوسس کے بلڈ ٹیسٹ کی بنیاد بن سکتا ہے اور تشخیص آسان بنا سکتا ہے۔ بعض مریضوں میں سرجری کی ضرورت بھی کم ہو سکتی ہے۔
تحقیق کے سربراہ ڈاگلس گپسن کے مطابق، یہ نتائج اینڈومیٹریوسس کو بہتر سمجھنے میں اہم پیش رفت ہیں۔ ان کے مطابق، اینڈروجن ہارمونز کو بہتر سمجھنے سے جلد تشخیص اور نئے علاج کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔