آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر (Autism Spectrum Disorder) دماغ کی نشوونما سے متعلق ایک کیفیت ہے۔ یہ کسی شخص کی سماجی تعلقات قائم کرنے، دوسروں کو سمجھنے اور مؤثر انداز میں بات چیت کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔ اس کے ساتھ محدود دلچسپیاں اور بار بار دہرائے جانے والے رویے بھی دیکھے جاتے ہیں۔ "سپیکٹرم” سے مراد علامات اور ان کی شدت میں پایا جانے والا وسیع فرق ہے۔
علامات
کچھ بچوں میں آٹزم کی علامات شیر خوار عمر ہی میں ظاہر ہو جاتی ہیں۔ ان میں مخاطب کی آنکھوں میں کم دیکھنا، نام پکارنے پر ردعمل نہ دینا یا والدین اور دیکھ بھال کرنے والوں میں کم دلچسپی لینا نمایاں ہیں۔
بعض بچوں کی نشوونما ابتدائی مہینوں یا برسوں تک معمول کے مطابق رہتی ہے، لیکن بعد میں وہ دوسروں سے الگ تھلگ ہونے لگتے ہیں۔
ہلکی علامات والے بعض افراد کی تشخیص بچپن کے درمیانی یا آخری برسوں، بلکہ بعض اوقات بالغ عمر میں ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں علامات ابتدا میں نمایاں نہیں ہوتیں۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
ہر بچے کی نشوونما کی رفتار مختلف ہوتی ہے۔ تاہم آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر والے بچوں میں عموماً تین سال کی عمر سے پہلے زبان، سماجی تعلقات یا دیگر نشوونما سے متعلق تاخیر کی علامات ظاہر ہو جاتی ہیں۔
اگر آپ کو اپنے بچے کی نشوونما کے بارے میں تشویش ہو تو فوراً کسی طبی ماہر سے مشورہ کریں۔ ماہر بچے کی سیکھنے، زبان، سوچنے اور سماجی مہارتوں کا جائزہ لینے کے لیے مختلف ٹیسٹ تجویز کر سکتا ہے۔
وجوہات
آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر کی کوئی ایک معلوم وجہ نہیں۔ اس کی علامات اور شدت ہر فرد میں مختلف ہوتی ہیں۔ اس لیے جینیاتی اور ماحولیاتی دونوں عوامل اس میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
٭ متعدد جینز آٹزم سے وابستہ ہیں۔ بعض بچوں میں یہ کیفیت ریٹ سنڈروم یا فریجائل ایکس سنڈروم جیسی جینیاتی بیماریوں سے منسلک ہوتی ہے
٭ محققین وائرس سے ہونے والے انفیکشن، بعض ادویات، حمل کے دوران پیچیدگیوں اور فضائی آلودگی سمیت مختلف عوامل پر تحقیق کر رہے ہیں۔ تاہم ابھی تک کوئی ایک ماحولیاتی وجہ ثابت نہیں ہو سکی
ویکسین اور آٹزم
آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر اور بچپن کی ویکسینز کے درمیان کوئی تعلق موجود نہیں۔ جس تحقیق نے یہ تاثر پیدا کیا تھا، اسے ناقص تحقیق اور طریقۂ کار کی وجہ سے واپس لے لیا گیا تھا۔
خطرے کے عوامل
چند عوامل اس کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں، جو یہ ہیں:
٭ لڑکوں میں اس کی تشخیص لڑکیوں کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ ہوتی ہے
٭ اگر فیملی کے ایک بچے کو آٹزم ہو تو دوسرے بچے میں بھی اس کیفیت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے
٭ فریجائل ایکس سنڈروم، ٹیوبرس اسکلروسیس اور ریٹ سنڈروم جیسی بیماریاں آٹزم کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہیں
٭ حمل کے 26 ہفتے مکمل ہونے سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں میں خطرہ نسبتاً زیادہ ہو سکتا ہے
٭ زیادہ عمر کے والدین کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں میں آٹزم کا امکان بڑھ سکتا ہے، تاہم اس تعلق کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق درکار ہے
پیچیدگیاں
٭ تعلیم اور سیکھنے میں دشواری
٭ ملازمت حاصل کرنے یا برقرار رکھنے میں مشکلات
٭ آزادانہ زندگی گزارنے میں دشواری
٭ سماجی تنہائی
٭ خاندان پر ذہنی اور جذباتی دباؤ
٭ ہراسانی یا بُلیئنگ کا شکار ہونا
بچاؤ کی تدابیر
٭ آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر سے مکمل بچاؤ کا کوئی ثابت شدہ طریقہ موجود نہیں
٭ جلد تشخیص اور بروقت علاج بچے کی زبان، رویے، سماجی مہارتوں اور مجموعی نشوونما بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں
تشخیص
طبی ماہر معمول کے معائنے کے دوران بچے کی نشوونما کا جائزہ لیتا ہے۔ اگر آٹزم کی علامات ظاہر ہوں تو بچے کو مزید جانچ کے لیے متعلقہ ماہر کے پاس بھیجا جاتا ہے۔ یہ ماہر بچوں کا ماہرِ نفسیات، بچوں کا اعصابی امراض کا ماہر یا نشوونما کے امراض کا ماہرِ اطفال ہو سکتا ہے۔
چونکہ آٹزم کی علامات اور ان کی شدت ہر بچے میں مختلف ہوتی ہے، اس لیے اس کی تشخیص صرف ایک ٹیسٹ سے ممکن نہیں۔ ضرورت پڑنے پر ریٹ سنڈروم یا فریجائل ایکس سنڈروم جیسے جینیاتی امراض کی تشخیص کے لیے جینیاتی ٹیسٹ بھی تجویز کیا جا سکتا ہے۔
علاج
آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر کا مکمل علاج موجود نہیں اور ہر بچے کے لیے ایک ہی طریقہ مؤثر نہیں ہوتا۔ علاج میں درج ذیل طریقے شامل ہو سکتے ہیں:
٭ رویے اور ابلاغ سے متعلق علاج
٭ منظم تعلیمی پروگرام، ماہرین کی مشترکہ نگرانی اور انفرادی تربیت
٭ فیملی کی تربیت، جس میں اہلِ خانہ بچے کے ساتھ مؤثر انداز میں بات چیت اور روزمرہ کی معاونت کے طریقے سیکھتے ہیں
٭ سپیچ تھراپی، آکوپیشنل تھراپی، فزیکل تھراپی اور ماہرِ نفسیات کی رہنمائی
٭ آٹزم کی بنیادی علامات ختم کرنے والی کوئی دوا موجود نہیں، تاہم بعض ادویات حد سے زیادہ سرگرمی، شدید رویہ جاتی مسائل یا بے چینی جیسی علامات کو قابو میں رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں
دیگر طبی اور ذہنی مسائل
٭ بعض بچوں کو مرگی، نیند کی خرابی، محدود غذائی پسند یا معدے کے مسائل ہو سکتے ہیں
٭ نوعمری کے دوران جسمانی اور سماجی تبدیلیوں کو سمجھنا آٹزم والے بچوں کے لیے مشکل ہو سکتا ہے، جبکہ اس عمر میں رویے اور جذبات سے متعلق مسائل بھی بڑھ سکتے ہیں
٭ بے چینی، ڈپریشن، اے ڈی ایچ ڈی اور منشیات یا نشہ آور اشیا کے غلط استعمال جیسے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں
٭ بعض بچوں میں چڑچڑاپن، جارحیت، توجہ برقرار رکھنے میں دشواری، حد سے زیادہ سرگرمی، اچانک غصہ یا خود کو نقصان پہنچانے کا رجحان پیدا ہو سکتا ہے
Frequently Asked Questions (FAQs)
آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر کی تشخیص کس عمر میں زیادہ قابلِ اعتماد ہوتی ہے؟
زیادہ تر بچوں میں دو سے تین سال کی عمر تک علامات واضح ہو جاتی ہیں، تاہم بعض بچوں میں اس سے پہلے بھی تشخیص ممکن ہوتی ہے۔
کیا آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر کا مکمل علاج ممکن ہے؟
فی الحال اس کیفیت کا مکمل علاج موجود نہیں۔ تاہم جلد تشخیص، مناسب تربیت اور مسلسل علاج سے بچے کی زبان، سماجی مہارتوں، رویے اور روزمرہ زندگی کی صلاحیتوں میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
کیا آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر والے تمام بچوں کی ذہانت کم ہوتی ہے؟
نہیں۔ بعض بچوں میں ذہنی صلاحیت معمول سے کم ہو سکتی ہے، جبکہ بہت سے بچوں کی ذہانت معمول کے مطابق یا اس سے زیادہ ہوتی ہے۔ تاہم انہیں بات چیت، سماجی تعلقات اور روزمرہ زندگی میں سیکھی ہوئی مہارتیں استعمال کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
کیا آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر والے بچے عام سکول میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں؟
یہ بچے کی علامات اور ضروریات پر منحصر ہوتا ہے۔ بہت سے بچے مناسب معاونت اور انفرادی تعلیمی منصوبے کے ساتھ عام سکول میں کامیابی سے تعلیم حاصل کر سکتے ہیں، جبکہ بعض کو خصوصی تعلیمی سہولیات کی ضرورت ہوتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=psychiatrist