زندگی میں کبھی کبھار بے چینی محسوس ہونا نارمل ہے، تاہم اینگزائٹی ڈس آرڈرز (Anxiety Disorders) میں یہ کیفیت غیر معمولی شدت اختیار کر لیتی ہے۔ ایسے افراد کو روزمرہ حالات کے بارے میں مسلسل، غیر ضروری اور حد سے زیادہ خوف یا فکر لاحق رہتی ہے۔ بعض اوقات یہ کیفیت اچانک شدید گھبراہٹ کے دوروں (پینک اٹیک) کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے جو چند منٹوں میں عروج پر پہنچ جاتے ہیں۔ یہ حالت روزمرہ زندگی کو متاثر کرتی ہے، اس پر قابو پانا مشکل ہوتا ہے اور یہ حقیقی خطرے کے مقابلے میں غیر متناسب ہوتی ہے۔
علامات
بے چینی کی علامات جسمانی اور ذہنی دونوں صورتوں میں ظاہر ہو سکتی ہیں۔ مثلاً:
٭ مسلسل گھبراہٹ، بے چینی یا ذہنی تناؤ محسوس ہونا
٭ خطرے یا کسی بڑے نقصان کا غیر حقیقی احساس برقرار رہنا
٭ دل کی دھڑکن کا تیز ہو جانا
٭ تیز سانس لینا یا سانس پھولنا
٭ زیادہ پسینہ آنا
٭ جسم میں کپکپی یا لرزش ہونا
٭ کمزوری اور تھکن محسوس ہونا
٭ توجہ مرکوز کرنے میں دشواری ہونا
٭ نیند کے مسائل پیدا ہونا
٭ نظام ہاضمہ یا معدے کی خرابی
٭ بے چینی پر قابو نہ رکھ پانا
٭ ایسے حالات یا جگہوں سے بچنے کی کوشش کرنا جو اضطراب پیدا کریں
اینگزائٹی ڈس آرڈرز کی اقسام
٭ ایگورافوبیا میں فرد ایسی جگہوں یا حالات سے خوف محسوس کرتا ہے جہاں وہ خود کو پھنسا ہوا یا بے بس سمجھے
٭ جسمانی بیماری سے پیدا ہونے والی بے چینی میں علامات براہ راست کسی طبی مسئلے کا نتیجہ ہوتی ہیں
٭ عمومی اینگزائٹی ڈس آرڈر میں روزمرہ معاملات کے بارے میں مسلسل اور بے قابو فکر رہتی ہے جو جسمانی اور ذہنی حالت دونوں کو متاثر کرتی ہے
٭ پینک ڈس آرڈر میں اچانک شدید خوف کے دورے پڑتے ہیں جن میں دل کی دھڑکن تیز ہونے، سینے میں درد اور سانس لینے میں مشکل شامل ہو سکتی ہے
٭ سلیکٹو میوٹزم میں بچہ مخصوص جگہوں پر، جیسے سکول میں، بول نہیں پاتا جبکہ گھر میں نارمل گفتگو کر سکتا ہے
٭ علیحدگی سے متعلق اینگزائٹی ڈس آرڈر میں بچوں کو والدین یا سرپرست سے دور ہونے پر غیر معمولی خوف محسوس ہوتا ہے
٭ سوشل اینگزائٹی ڈس آرڈر میں سماجی حالات، لوگوں کے سامنے آنے یا بات کرنے کے دوران شدید شرمندگی اور خوف پیدا ہوتا ہے
٭ مخصوص فوبیا میں کسی خاص چیز یا صورتحال سے شدید خوف پیدا ہوتا ہے اور مریض اس سے بچنے کی کوشش کرتا ہے
٭ نشہ آور اشیاء کی وجہ سے پیدا ہونے والا اضطرابی مرض ایسی علامات پر مشتمل ہوتا ہے جن میں شدید بے چینی یا گھبراہٹ شامل ہوتی ہے
٭ بعض کیسز میں بے چینی کسی واضح قسم میں فٹ نہیں بیٹھتی لیکن روزمرہ زندگی کو متاثر کرتی ہے
کب ڈاکٹر سے رجوع کریں
٭ اگر بے چینی کام، تعلقات یا روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے لگے
٭ اگر خوف یا پریشانی پر کنٹرول نہ رہے
٭ اگر کسی جسمانی بیماری کا شبہ ہو
٭ اگر خودکشی کے خیالات یا رویے پیدا ہوں
اگر علاج میں تاخیر کی جائے تو علامات بڑھ سکتی ہیں، اس لیے ابتدائی مرحلے میں مدد لینا زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔
وجوہات
بے چینی کے امراض کی مکمل وجوہات واضح نہیں ہیں۔ بعض افراد میں تکلیف دہ تجربات اس کیفیت کو متحرک کر سکتے ہیں، خاص طور پر جب پہلے سے ذہنی حساسیت موجود ہو۔ موروثی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
طبی وجوہات
کچھ افراد میں بے چینی کسی جسمانی بیماری سے جڑی ہو سکتی ہے اور بعض اوقات یہ پہلی علامت کے طور پر ظاہر ہوتی ہے، مثلاً:
٭ دل کی بیماریاں
٭ ذیابیطس
٭ تھائرائیڈ کے مسائل
٭ دمہ اور سی او پی ڈی جیسے سانس کے امراض
٭ دائمی درد یا آنتوں کے مسائل
٭ ہارمون پیدا کرنے والے ٹیومرز
بعض ادویات بھی بے چینی پیدا کر سکتی ہیں۔
خطرے کے عوامل
٭ بچپن یا زندگی کے کسی حصے میں صدمہ یا تشدد
٭ بیماری سے متعلق ذہنی دباؤ
٭ زندگی کے مسلسل یا شدید مسائل
٭ مخصوص شخصیت کی مزاجی خصوصیات
٭ دیگر ذہنی امراض کی موجودگی
٭ فیملی ہسٹری
٭ منشیات یا الکحل کا استعمال
پیچیدگیاں
بے چینی کے امراض صرف پریشانی تک محدود نہیں رہتے بلکہ دیگر مسائل بھی پیدا کر سکتے ہیں، جیسے:
٭ ڈپریشن اور دیگر ذہنی بیماریاں
٭ نشہ آور اشیاء کا استعمال
٭ نیند کی خرابی
٭ نظام ہاضمہ کے مسائل
٭ سر درد اور دائمی درد
٭ سماجی تنہائی
٭ تعلیمی یا پیشہ ورانہ کارکردگی میں کمی
٭ معیار زندگی میں کمی
٭ خودکشی کا خطرہ
بچاؤ کے طریقے
٭ ابتدائی علامات پر فوری مدد حاصل کریں
٭ جسمانی سرگرمی اور مثبت مصروفیات جاری رکھیں
٭ سماجی تعلقات اور صحت مند روابط برقرار رکھیں
٭ الکحل اور منشیات سے پرہیز کریں
تشخیص
ابتدائی طور پر ڈاکٹر جسمانی صحت کا معائنہ کرتا ہے تاکہ کسی ممکنہ بیماری سے تعلق معلوم کیا جا سکے۔ اگر علامات شدید ہوں تو ذہنی صحت کے ماہر سے رجوع کیا جاتا ہے۔ تشخیص کے دوران مریض کے خیالات، احساسات اور رویوں کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے۔
علاج
بے چینی کے امراض کا علاج عام طور پر دو بنیادی طریقوں سے کیا جاتا ہے، نفسیاتی علاج اور ادویات۔ اکثر دونوں کا امتزاج زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
٭ کوگنیٹو بیہیوریل تھیراپی (سی بی ٹی) سب سے مؤثر طریقہ علاج ہے، جس میں مریض کو آہستہ آہستہ خوف کا سامنا کروایا جاتا ہے تاکہ اعتماد پیدا ہو
٭ عام طور پر اینٹی ڈپریسنٹس استعمال کی جاتی ہیں
٭ شدید صورتوں میں مختصر مدت کے لیے سکون آور ادویات یا بیٹا بلاکرز دیے جا سکتے ہیں
٭ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ادویات کا استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا بے چینی کے امراض مکمل طور پر ختم ہو سکتے ہیں؟
مناسب علاج سے علامات کافی حد تک کنٹرول ہو سکتی ہیں اور نارمل زندگی ممکن ہوتی ہے
کیا بے چینی صرف ذہنی مسئلہ ہے؟
نہیں، یہ جسمانی بیماریوں اور ذہنی عوامل دونوں سے متعلق ہو سکتی ہے
پینک اٹیک کی علامات کتنی دیر رہتی ہیں؟
یہ عام طور پر چند منٹوں میں شدید ہو کر خود بخود کم ہو جاتی ہیں
کیا بچوں میں بھی بے چینی کا مرض ہو سکتا ہے؟
جی ہاں، یہ بچپن یا نوجوانی میں شروع ہو سکتا ہے اور وقت کے ساتھ برقرار رہ سکتا ہے
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=psychiatrist