مرنے مارنے پر تُلے رہنے والے

0

ڈاکٹر فواد قیصر

السلام علیکم !میرا نام اظہر عباس ہے اور میں گجرات سے تعلق رکھتا ہوں اور میڈیکل کا طالب علم ہوں ۔ اپنا مسئلہ بیان کرنے سے پہلے میں اپنی خاندانی روایات کے بارے میں بتا دوں تاکہ آپ کو صحیح صورت حال کا اندازہ ہو سکے ۔
ہمارے خاندان میں لوگ چھوٹی چھوٹی بات پر مارنے مرنے پر تیا ر ہو جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ دشمنی کا سلسلہ ایک بار شروع ہو جائے تو پھر سالوں صدیوں تک چلتا رہتا ہے ۔ میرے ماموں ہمارے خاندان کے سربراہ ہیں۔ ان کے تین بیٹے ہیں جن میں سے ایک پولیس میں ہے ، دوسراتعلیم کے لیے فرانس گیا ہو ا ہے اور تیسرا ماموں کے ساتھ زمیندارہ کرتا ہے ۔ آج کل ہم ماموں کے غصے کی وجہ سے بہت پریشان ہیں‘ اس لئے کہ وہ چھوٹی چھوٹی بات پر بگڑ جاتے ہیںاور کسی کے قابو میں نہیں آتے ۔

ڈاکٹر صاحب ! مسئلہ یہ ہے کہ میرا فرانس والا کزن جب چھٹیوں میں پاکستان آیا تو اسے برادری سے باہر ایک ایسی لڑکی سے محبت ہو گئی جن کے خاندان سے ہماری دشمنی چلی آ رہی ہے۔ اس نے چپکے سے شادی کی اور بیوی کو اپنے ساتھ فرانس لے گیااوراب ان کی ایک بیٹی بھی ہے ۔یہ بات گیارہ سال تک صغیہ راز میں رہی لیکن جب انہوں نے وطن آنے کا ارادہ ظاہر کیا تو ہم سب پریشان ہوگئے‘ اس لئے کہ ماموں کے سامنے بھانڈا پھوٹ جائے گا۔ میرے بڑے کزن نے ایک دن ماموں کو اچھے موڈ میں دیکھا تو ساری بات بتا دی ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ انہوں نے اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہ کیا بلکہ بالکل خاموش ہو گئے اور خود کو اپنے کمرے تک محدود کرلیا۔اب ان کی بھوک اور نیندبھی کم ہو گئی ۔ ہم سب کو ان کی بہت زیادہ فکر ہونے لگی کہ ایک ایسا شخص جو پورے خاندان پر حکمرانی کیا کرتا تھا‘ اب بچے کی طرح گھر کے ایک کونے میں پڑا رہتا ہے۔انہیں سائیکاٹرسٹ لے کر گئے جس نے اینٹی ڈپریسنٹ دیںجس سے ان کی طبیعت بہتر ہوگئی۔ اب ان کا پھر وہی کہنا ہے کہ ان کے بیٹے نے خاندانی روایات کو پامال کیا ہے جس کی سزا اسے ہر صورت بھگتنا ہو گی۔ان کی اس بات کے بعد گھر کی بزرگ خواتین اور دوسرے بڑوں نے ماموں کی منت سماجت کی کہ انہیں معاف کردیں۔ان کی بات مانتے ہوئے انہوں نے اپنے بیٹے اور بہو کو معاف تو کر دیا لیکن انہیں اپنے سامنے آنے سے منع کر دیا اور کہا کہ وہ کسی دوسرے شہر میں جاکر رہیں۔یہ مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہو سکا۔

ایک دن انہوں نے کہا کہ وہ صبح خالص دودھ ، دہی اور مکھن کے بغیر ناشتہ نہیں کر سکتے اس لیے گائوں سے ان کی بھینس منگوائی جائے ۔ ان کے حکم کی تعمیل کی گئی اور بھینس کو اسلام آباد لایا گیا۔ ڈاکٹر صاحب! بدقسمتی سے اُن کی بھینس چوری ہو گئی اور اب وہ ایک دفعہ پھر پہلے والے انسان بن گئے ہیں او رہر وقت شدید غصے میں رہتے ہیں ۔ انہوںنے اپنے پولیس مین بیٹے کو دس دن کی مہلت دی ہے کہ اگر اس نے چور کو نہ پکڑا تو وہ کچھ بھی کر لیں گے۔ انہوںنے دھمکی دی ہے کہ وہ دوسری شادی کر کے اُن سب کو چھوڑ دیں گے یا پھر خود کشی کر لیں گے۔ڈاکٹر صاحب ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ وہ کچھ غلط نہ کربیٹھیں ‘ اس لئے کہ ان کے ایک اور بھائی نے بھی معمولی سی بات پر خود کشی کر لی تھی۔ڈاکٹرصاحب! پوچھنا یہ تھا کہ چھوٹی چھوٹی باتوںپر غصے کا ایسا اظہار کسی ذہنی بیماری کی علامت ہے یا یہ محض اپنی روایات کی پاسداری کا عزم ہے ۔ ہمارے کلچر میں روایات کے نام پر بہت کچھ کیا جاتا ہے۔ کیا ان کے پیچھے کوئی ذہنی بیماری موجود ہوتی ہے؟
O وعلیکم السلام ! خط لکھنے کا بہت بہت شکریہ۔پہلی بات تو یہ کہ اپنے ماموں کے ڈپریشن کا مکمل علاج کرائیں۔ اب ایسی ادویات موجود ہیں جو ان کے غصے کوکم کرنے میں مدد گار ثابت ہوسکتی ہیں۔آپ نے بتایا ہے کہ انہوںنے اپنے بیٹے اور بہو کو سامنے آنے سے منع کر دیا ہے ۔ ایسے میں انہیں سائیکو تھراپی کی ضرورت ہے ۔ ان کے جذبات کو ایک نیا رخ دینے کے لئے آپ ان کی پوتی کو ان کے قریب لائیں ۔ہو سکتا ہے اس سے اُن کے دل میں بیٹے اور بہو کے لئے کوئی نرم گوشہ پیدا ہوجائے ۔
جہاں تک بھینس چوری کا تعلق ہے تو انہیں سمجھائیں کہ اسلام آباد جیسے شہر میں لوگوں کی لاکھوں روپے مالیت کی گاڑیاں چور ی ہو جاتی ہیں‘ آپ کی تو صرف ایک بھینس چوری ہوئی ہے ۔ اس کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ان کے لئے دوسری بھینس کا بندوبست کیا جائے ۔
ٓٓآپ کے سوال کا آخری حصہ اہم ہے ۔ جی ہاں!ڈپریشن جیسی بیماری کسی کو بھی لاحق ہونے کا بہانہ ڈھونڈ رہی ہوتی ہے ۔یہ کبھی کلچر کے ساتھ مکس ہو کر تو کبھی معاشی مسائل کی آڑ لے کر آتی ہے ۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بہت سے افراد ذہنی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں لیکن کسی کو اس بات کا ادراک نہیں ہوتا۔ ایسے افراد کے غصے اور چھوٹی چھوٹی بات پر مرنے مارنے کے لئے تیار ہوجانے کو غیرت اور رسم رواج کا نام دیا جاتا ہے جبکہ سائیکاٹری رِیت پریت کو نہیں مانتی بلکہ وہ اسے جذبات کے تیز بہائو کا نام دیتی ہے ۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اینٹی ڈپریسنٹ کسی ایسے شخص کی سوچ کو تبدیل کر سکتی ہے جو ایسے پر تشدد کلچر کا حصہ ہوں۔ اس بات کا جواب یہ ہے کہ ادویات اس کی سوچ کو مکمل طور پر تبدیل نہیں کر سکتیں لیکن ان افراد کے مزاج کی تیزی کو کم کر سکتی ہیں۔یہاں میں یہ بات بھی کہنا چاہوں گا کہ پرتشدد رویوں کے حامل افراد کے رشتہ داروں اور گھر والوں کو اُن سے معاملہ کرتے وقت دیگر پہلوئوں کے علاوہ اس پر بھی سوچناچاہیے کہ وہ شخص ذہنی طور پر بیمار بھی ہو سکتا ہے ۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of