Vinkmag ad

اکیلیس ٹینڈن پھٹ جانا: ایڑی کے پچھلے حصے کی چوٹ

Orthopedic surgeon examining a patient with an Achilles tendon rupture, assessing the back of the ankle and heel for pain, swelling, and tendon injury

اکیلیس ٹینڈن پنڈلی کے پٹھوں کو ایڑی کی ہڈی سے جوڑتا ہے۔ اگر اس پر اچانک حد سے زیادہ دباؤ یا کھچاؤ پڑے تو یہ جزوی یا مکمل طور پر پھٹ سکتا ہے۔ اسے اکیلیس ٹینڈن پھٹ جانا (Achilles Tendon Rupture) کہا جاتا ہے۔ یہ صورت حال زیادہ تر کھیلوں، خصوصاً چھلانگ لگانے والے کھیلوں کے دوران پیش آتی ہے، تاہم کسی بھی عمر اور پیشے کے فرد کو متاثر کر سکتی ہے۔

علامات

زیادہ تر مریضوں میں درج ذیل علامات ظاہر ہوتی ہیں:

٭ پنڈلی پر زور سے کِک لگنے جیسا احساس ہونا

٭ ایڑی کے قریب اچانک شدید درد اور سوجن ہونا

٭ پاؤں کو نیچے موڑنے یا چلتے وقت زور لگانے میں دشواری ہونا

٭ متاثرہ پاؤں کے پنجے پر کھڑے نہ ہو پانا

٭ چوٹ لگنے کے وقت چٹخنے جیسی آواز سنائی دینا

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

اگر ایڑی میں اچانک پاپ کی آواز آئے، یا اس کے بعد چلنا مشکل ہو جائے، تو فوراً کسی طبی ماہر سے رجوع کریں۔

وجوہات

اکیلیس ٹینڈن پھٹنے کی بنیادی وجہ اس پر اچانک اور غیر معمولی دباؤ پڑنا ہے۔ یہ درج ذیل حالات میں ہو سکتا ہے:

٭ کھیل کے دوران چھلانگ لگاتے یا اچانک سمت بدلتے وقت

٭ اونچائی سے گرنے یا چھلانگ کے بعد غلط انداز میں زمین پر اترنے سے

٭ چلتے ہوئے اچانک کسی گڑھے میں قدم پڑ جانے سے

خطرے کے عوامل

درج ذیل عوامل اکیلیس ٹینڈن پھٹنے کے خطرے میں اضافہ کر سکتے ہیں:

٭ عمر 30 سے 40 سال کے درمیان ہونا

٭ مرد ہونا، کیونکہ ان میں یہ خطرہ تقریباً پانچ گنا زیادہ ہوتا ہے

٭ تفریحی یا شوقیہ کھیلوں میں باقاعدگی سے حصہ لینا

٭ سٹیرائیڈ انجیکشن لگوانا، کیونکہ یہ ٹینڈن کو کمزور کر سکتے ہیں

٭ بعض اینٹی بائیوٹک ادویات کا استعمال

٭ موٹاپا، کیونکہ زیادہ وزن ٹینڈن پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے

بچاؤ

اکیلیس ٹینڈن کی چوٹ سے بچنے کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں:

٭ پنڈلی کے پٹھوں کی سٹریچنگ اور انہیں مضبوط بنانے کی ورزشیں کریں

٭ ورزش میں تنوع رکھیں اور دوڑ کے ساتھ پیدل چلنا، سائیکل چلانا یا تیراکی بھی شامل کریں

٭ پہاڑی علاقوں میں دوڑنے اور زیادہ چھلانگ والی سرگرمیوں کو محدود رکھیں

٭ سخت یا پھسلن والی سطح پر دوڑنے سے گریز کریں، اور مناسب کھیلوں کے جوتے پہنیں

٭ ورزش کی شدت، دورانیہ اور فاصلہ بتدریج بڑھائیں۔ ہر ہفتے 10 فیصد سے زیادہ اضافہ نہ کریں

تشخیص

٭ آرتھوپیڈک سرجن پہلے ٹانگ کا معائنہ کرتا ہے تاکہ درد، سوجن اور ٹینڈن میں خلا کی موجودگی کا جائزہ لیا جا سکے

٭ اس کے بعد پنڈلی کے پٹھے کو دبا کر دیکھا جاتا ہے کہ پاؤں حرکت کرتا ہے یا نہیں۔ اگر پاؤں حرکت نہ کرے تو اکیلیس ٹینڈن کے پھٹنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے

٭ جزوی یا مکمل چوٹ کی تصدیق کے لیے الٹراساؤنڈ یا ایم آر آئی بھی کیا جا سکتا ہے

علاج

علاج کا انتخاب مریض کی عمر، جسمانی سرگرمی اور چوٹ کی شدت کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔

بغیر سرجری علاج

اس طریقۂ علاج میں عموماً درج ذیل اقدامات شامل ہوتے ہیں:

٭ چند ہفتوں تک ٹخنے کو حرکت سے محفوظ رکھنا

٭ بیساکھیوں کی مدد سے پاؤں پر وزن کم ڈالنا اور مناسب آرام کرنا

٭ متاثرہ جگہ پر برف لگانا

٭ درد کم کرنے والی عام دستیاب ادویات استعمال کرنا

سرجری

سرجری کے دوران عام طور پر پنڈلی کے پچھلے حصے میں چیرا لگایا جاتا ہے تاکہ پھٹے ہوئے ٹینڈن کی مرمت کی جا سکے۔ اگر ٹینڈن کو شدید نقصان پہنچا ہو تو سرجن عطیہ کیے گئے ٹینڈن یا دوسرے ٹشو کی مدد سے اس کی مرمت کر سکتا ہے۔

سرجری کے بعد انفیکشن یا اعصاب کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے، تاہم کم چیروں والی سرجری میں انفیکشن کا امکان نسبتاً کم ہوتا ہے۔

بحالی

٭ سرجری یا بغیر سرجری علاج، دونوں صورتوں میں فزیوتھراپی سے پنڈلی کے پٹھے اور اکیلیس ٹینڈن دوبارہ مضبوط ہوتے ہیں۔

٭ زیادہ تر مریض چوٹ کے 18 سے 24 ماہ کے اندر اپنی معمول کی جسمانی سرگرمیوں کی طرف واپس لوٹ آتے ہیں۔

٭ فنکشنل ری ہیبلیٹیشن میں ورزش نسبتاً جلد شروع کی جاتی ہے۔ صرف زخمی حصے کے بجائے پورے جسم کی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دی جاتی ہے۔

Frequently Asked Questions (FAQs)

کیا اکیلیس ٹینڈن بغیر سرجری کے ٹھیک ہو سکتا ہے؟

جی ہاں، بہت سے مریض مناسب آرام، بریس یا پلاسٹر اور فزیوتھراپی کی مدد سے بغیر سرجری بھی صحت یاب ہو جاتے ہیں۔

مکمل صحت یابی میں کتنا وقت لگتا ہے؟

زیادہ تر افراد کو مکمل بحالی میں تقریباً 18 سے 24 ماہ لگ سکتے ہیں۔

کیا علاج کے بعد دوبارہ کھیل شروع کیے جا سکتے ہیں؟

جی ہاں، مناسب علاج اور مکمل بحالی کے بعد اکثر افراد دوبارہ کھیلوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔

اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو کیا ہو سکتا ہے؟

علاج میں تاخیر سے چلنے، دوڑنے اور پنجوں پر کھڑے ہونے میں مستقل مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=orthopedic

Vinkmag ad

Read Previous

بارتھولن سسٹ: خواتین کی صحت کا ایک عام مسئلہ

Read Next

لمفوسائٹوسس: خون میں لمفوسائٹس بڑھ جانا

Leave a Reply

Most Popular