بچے زہر نگل لیں تو کیا کریں

1

بچے زہر نگل لیں تو کیا کریں

ہمارے ہاں عموماً بچوں اوربعض اوقات بڑوں میں بھی غلطی سے زہرنگل لینے کے واقعات اکثردیکھنے میں آتےہیں۔اس کی بہت سی وجوہات میں سےایک شاید یہ ہے کہ گھروں میں عموماً وہ چیزیں بھی لا کر رکھ دی جاتی ہیں جن کی ضرورت کبھی کبھار ہی پڑتی ہے۔ اکثر صورتوں میں انہیں رکھنے کے لئے کوئی محفوظ جگہ بھی نہیں ہوتی۔ یہ چیزیں ٹھوس شکل میں بھی ہو سکتی ہیں جیسےگندم کوکیڑوں مکوڑوں سےمحفوظ رکھنے والی گولیاں اورکیڑے/ چوہے ماردوائیں وغیرہ۔ اس کے علاوہ یہ مائع شکل میں بھی پائی جاتی ہیں مثلاً ٹوائلٹ کلینراورتیزاب وغیرہ۔ ان میں سے بعض ایسےزہرہیں جن کا کم مقدارمیں استعمال زیادہ نقصان دہ ثابت نہیں ہوتا۔ تاہم اس صورت میں بھی غفلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے اورایسے ہی سمجھناچاہئے جیسےیہ زیادہ مقدار میں لیا گیا ہے۔

کرنے کے کام

٭کسی پوائزن کنٹرول سینٹر پرفون سے رابطہ کریں۔ فون کرنے پر آپ سے چندسوال پوچھے جائیں گے جیسے مریض سے رشتہ، عمر، کیا اور کتناکھایا ہےاوررابطے کے لئے نمبر وغیرہ۔ ایسی صورت حال میں بعض لوگ ناراض ہونے لگتےہیں۔ اس کی بجائے تحمل سے جواب دیں کیونکہ یہ تمام معلومات مشورہ دینے کے لئے ضروری ہیں۔ اگرایسی سروس دستیاب نہ ہو تو بلا تاخیرقریبی ہسپتال جائیں۔

٭حلق میں انگلی ڈال کر یا نمک والا پانی پلا کر قے مت کروائیں ۔اس کا نقصان فائدے سے زیادہ ہے۔ بعض زہر ایسے ہیں جنہیں ہسپتال میں نلکی کے ذریعے پانی ڈال کر خارج کروایا جاتا ہے جبکہ بعض مثلاً گندم کی گولیوں کے ساتھ پانی ری ایکٹ کر جاتا ہےلہٰذا ان کے لئے تیل استعمال ہوتا ہے۔ اس لئے گھر پرازخود فیصلہ کرنے کی بجائے ڈاکٹر پراعتماد کریں۔

٭بچے کوپیٹ کے بل یا سیدھا لیٹنے نہ دیں تا کہ اگر وہ قے کرے تو اس کے حلق میں نہ جائے۔ اگرلیٹنا ضروری ہو تو کروٹ کے بل لٹایا جاسکتا ہے ۔

٭بچے کو سونے نہ دیں۔

٭یہ بھی ممکن ہے کہ کافی وقت گزرجائےاوروالدین اس بات سے ہی بے خبر ہوں کہ بچہ زہر نگل چکا ہے۔ ایسی صورت میں ان کا بدلتا رویہ جیسے چلنے میں دقت ہونا، بہت زیادہ سونا یا نیند بالکل نہ آنا، دل کی دھڑکن غیر معمولی ہونا، سانس لینے میں دشواری اورجسم کا درجہ حرارت بہت کم یابڑھ جاناجیسےعوامل اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بچے کو طبی امداد کی ضرورت ہے۔ انہیں سنجیدہ لینا چاہئے۔

پرہیزعلاج سے بہتر

٭اس معاملے میں پرہیز کا پہلو سب سے زیادہ اہم ہے جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ اپنے گھر کا جائزہ لے کر ان تمام چیزوں کو ہٹا دیں یا محفوظ جگہ پر رکھیں جونقصان کا باعث بن سکتی ہیں اورجن کی ضرورت ہمیں عام طور پر نہیں پڑتی۔

٭چیزوں کے بندکرنے کے لئے ان ڈھکنوں کا انتخاب کریں جو بچوں کے لئے کھولنا مشکل ہیں۔

٭جو چیز جس پیکنگ میں آئے، اسے اسی میں رہنے دیں۔ انہیں کولامشروبات یا کھانے کی چیزوں کے لئے استعمال ہونےوالی بوتلوں یا ڈبوں میں نہ رکھیں۔

٭چیزوں کو اونچی جگہ پر بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔

٭اگر آپ یقین کے ساتھ بتا سکتے ہوں کہ کیا چیزکتنی مقدارمیں کھائی ہے تو ہی فون کریں ورنہ وقت ضائع کیے بغیر ہسپتال یا قریبی کلینک جائیں۔ صرف شک ہوکہ کچھ کھایا ہےتو بھی علامات ظاہر ہونے کا انتظار نہ کریں۔

accidental poisoning, what to do, first aid, precautionary measures

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x