کولیسٹرول خون میں موجود ایک مومی مادہ ہے۔ جسم کو صحت مند خلیے بنانے کے لیے اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہائی کولیسٹرول (High cholesterol) کی صورت میں چکنائی اور دیگر مادے شریانوں میں جمع ہونے لگتے ہیں۔ اس جمع شدہ مادے کو پلاک کہا جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ پلاک بڑھنے سے شریانیں تنگ یا بند ہو سکتی ہیں، جس سے خون کی روانی متاثر ہوتی ہے۔ بعض اوقات پلاک کا ایک حصہ ٹوٹ کر کلاٹ بنا دیتا ہے، جو دل کے دورے یا فالج کا سبب بن سکتا ہے۔
علامات
ہائی کولیسٹرول کی عام طور پر کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی۔ اس کی تشخیص کا واحد قابلِ اعتماد طریقہ خون کا ٹیسٹ ہے۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
٭ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق بچوں کا ہائی کولیسٹرول کے لیے ایک بار معائنہ 9 سے 11 سال کی عمر کے درمیان ہونا چاہیے۔ اگر فیملی میں ہائی کولیسٹرول، دل کے دورے یا فالج کی ہسٹری موجود ہو تو یہ جانچ اس سے پہلے بھی کی جا سکتی ہے۔ ذیابیطس یا موٹاپے میں مبتلا بچوں کو بھی کم عمری میں سکریننگ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
٭ 17 سے 21 سال کی عمر میں دوبارہ کولیسٹرول ٹیسٹ تجویز کیا جاتا ہے
٭ زیادہ تر بالغ افراد کو ہر 4 سے 6 سال بعد کولیسٹرول کی جانچ کرانی چاہیے۔ تاہم ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس یا دیگر طویل مدتی بیماریوں میں مبتلا افراد کو زیادہ بار ٹیسٹ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ یہی مشورہ ان افراد کے لیے بھی ہے جو کولیسٹرول کم کرنے والی دوائیں استعمال کرتے ہیں، یا جن کے خاندان میں ہائی کولیسٹرول یا دل کی بیماری کی ہسٹری ہو۔
اگر ٹیسٹ کے نتائج مطلوبہ حد میں نہ ہوں تو ڈاکٹر زیادہ وقفے سے ٹیسٹ کرانے کی ہدایت دے سکتے ہیں
وجوہات
درج ذیل بیماریاں ہائی کولیسٹرول کا سبب بن سکتی ہیں:
٭ موروثی ہائی کولیسٹرول
٭ گردوں کی طویل مدتی بیماری
٭ دائمی جگر کی بیماری
٭ ذیابیطس
٭ ایچ آئی وی/ایڈز
٭ تھائیرائیڈ ہارمون کی کمی
٭ لیوپس
٭ زیادہ وزن اور موٹاپا
٭ نیند کے دوران سانس رکنے کی بیماری
کچھ بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی بعض دوائیں بھی کولیسٹرول کی سطح بڑھا سکتی ہیں، جن میں شامل ہیں:
٭ ایکنی
٭ کینسر
٭ ہائی بلڈ پریشر
٭ ایچ آئی وی/ایڈز
٭ دل کی بے ترتیب دھڑکن
٭ اعضا کی پیوندکاری
کولیسٹرول کی اقسام
کولیسٹرول خون میں پروٹین کے ساتھ مل کر گردش کرتا ہے۔ پروٹین اور کولیسٹرول کے اس امتزاج کو لپوپروٹین کہا جاتا ہے۔ لیپوپروٹین کی مختلف اقسام ہوتی ہیں، جن کی درجہ بندی ان کے ذریعے منتقل ہونے والے کولیسٹرول کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔
ایل ڈی ایل
اسے "خراب کولیسٹرول” کہا جاتا ہے۔ ایل ڈی ایل کولیسٹرول کے ذرات کو جسم کے مختلف حصوں تک پہنچاتا ہے جو شریانوں کی دیواروں میں جمع ہو کر انہیں سخت اور تنگ کر دیتا ہے۔
ایچ ڈی ایل
اسے "اچھا کولیسٹرول” کہا جاتا ہے۔ ایچ ڈی ایل اضافی کولیسٹرول کو خون سے واپس جگر تک پہنچاتا ہے، جہاں اسے جسم سے خارج کرنے کا عمل ہوتا ہے۔
خطرے کے عوامل
درج ذیل عوامل ہائی کولیسٹرول کا خطرہ بڑھا سکتے ہی:۔
٭ سیر شدہ یا ٹرانس چکنائی سے بھرپور غذا کا زیادہ استعمال
٭ موٹاپا
٭ جسمانی سرگرمی کی کمی
٭ سگریٹ نوشی
٭ زیادہ مقدار میں الکوحل کا استعمال
٭ بڑھتی عمر، خصوصاً 40 سال کے بعد
پیچیدگیاں
شریانوں میں خون کی روانی کم ہونے سے درج ذیل سنگین پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں:
٭ سینے میں درد، جسے اینجائنا کہا جاتا ہے
٭ دل کا دورہ
٭ فالج
بچاؤ کی تدابیر
مندرجہ ذیل صحت مند عادات اپنا کر ہائی کولیسٹرول کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے:
٭ کم چکنائی والے پروٹین، پھل، سبزیاں اور ثابت اناج پر مشتمل متوازن غذا کھائیں
٭ نمک، اضافی چینی، سیر شدہ چکنائی اور ٹرانس چکنائی کا استعمال محدود رکھیں
٭ مچھلی، گریاں، زیتون یا کینولا کے تیل جیسے صحت بخش چکنائی والے غذائی اجزا استعمال کریں
٭ اضافی وزن کم کریں اور اسے دوبارہ بڑھنے سے بچائیں
٭ اگر سگریٹ نوشی کرتے ہیں تو اسے چھوڑ دیں
٭ ہفتے کے زیادہ تر دن کم از کم 30 منٹ ورزش کریں
٭ الکوحل سے پرہیز کریں یا بہت محدود مقدار میں استعمال کریں
تشخیص
ہائی کولیسٹرول کی تشخیص خون کے ٹیسٹ سے کی جاتی ہے۔ اس ٹیسٹ میں درج ذیل اجزا کی مقدار معلوم کی جاتی ہے:
٭ ٹوٹل کولیسٹرول
٭ ایل ڈی ایل
٭ ایچ ڈی ایل
٭ ٹرائی گلیسرائیڈز
عام طور پر اس ٹیسٹ سے 9 سے 12 گھنٹے پہلے پانی کے علاوہ کچھ بھی کھانے یا پینے سے گریز کیا جاتا ہے۔
ٹیسٹ کے نتائج کی تشریح
امریکا میں کولیسٹرول کی سطح ملی گرام فی ڈیسی لیٹر( (mg/dL)میں ماپی جاتی ہے، جبکہ بہت سے یورپی ممالک میں ملی مول فی لیٹر (mmol/L) استعمال ہوتا ہے۔
کل کولیسٹرول
| گرام فی ڈیسی لیٹر (mg/dL) | ملی مول فی لیٹر (mmol/L) | رزلٹ |
| 200 سے کم | 5.2 سے کم | مطلوبہ |
| 200 تا 239 | 5.2 تا 6.2 | حد کے قریب زیادہ |
| 240 یا اس سے زیادہ | 6.2 سے زیادہ | زیادہ |
ایل ڈی ایل
| گرام فی ڈیسی لیٹر (mg/dL) | ملی مول فی لیٹر (mmol/L) | رزلٹ |
| 70 سے کم | 5.2 سے کم | دل یا شریانوں کی بیماری والے افراد کے لیے مطلوبہ۔ بعض زیادہ خطرے والے افراد میں ہدف 55 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے بھی کم ہو سکتا ہے |
| 100 سے کم | 2.6 | صحت مند افراد کے لیے بہترین |
| 100 تا 129 | 2.6 تا 3.3 | صحت مند افراد میں تقریباً بہترین، لیکن دل کی بیماری کی صورت میں زیادہ تصور کیا جا سکتا ہے |
| 130 تا 159 | 3.4 تا 4.1 | صحت مند افراد میں حد کے قریب زیادہ، جبکہ دل کی بیماری میں |
| 160 تا 189 | 4.1 تا 4.9 | صحت مند افراد میں زیادہ، جبکہ دل کی بیماری میں بہت زیادہ |
| 190 یا اس سے زیادہ | 4.9 سے زیادہ | بہت زیادہ |
ایچ ڈی ایل (اچھا) کولیسٹرول
| گرام فی ڈیسی لیٹر (mg/dL) | ملی مول فی لیٹر (mmol/L) | رزلٹ |
| مردوں میں 40 سے کم | 1.0 سے کم | کم |
| خواتین میں 50 سے کم | 1.3 سے کم | کم |
| مردوں میں 40 تا 59 | 1.0 تا 1.5 | بہتر |
| خواتین میں 50 تا 59 | 1.3 تا 1.5 | بہتر |
| 60 یا اس سے زیادہ | 1.5 سے زیادہ | بہترین |
ٹرائی گلیسرائیڈز
| گرام فی ڈیسی لیٹر (mg/dL) | ملی مول فی لیٹر (mmol/L) | رزلٹ |
| 150 سے کم | 1.7 سے کم | مطلوبہ |
| 150 تا 199 | 1.7 تا 2.2 | حد کے قریب زیادہ |
| 200 تا 499 | 2.3 تا 5.6 | زیادہ |
| 500 یا اس سے زیادہ | 5.6 سے زیادہ | بہت زیادہ |
علاج
ہائی کولیسٹرول کے علاج کے لیے مختلف ادویات استعمال کی جاتی ہیں۔ دوا کا انتخاب مریض کی عمر، کولیسٹرول کی سطح، دیگر بیماریوں اور مجموعی صحت کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔
عام طور پر درج ذیل ادویات استعمال کی جاتی ہیں۔
٭ سٹیٹنز، جو جگر میں کولیسٹرول بنانے والے مادے کی تیاری کو کم کرتی ہیں
٭ کولیسٹرول کے جذب کو روکنے والی ادویات
٭ بیمپیڈوئک ایسڈ، جو ان افراد کو دیا جا سکتا ہے جنہیں سٹیٹنز سے شدید مضر اثرات ہوں
٭ بائل ایسڈ سیکویسٹرنٹس
٭ پی سی ایس کے 9 انہیبیٹرز
زیادہ ٹرائی گلیسرائیڈز کے لیے ادویات
بچوں میں علاج
دو سال یا اس سے زیادہ عمر کے بچوں میں ہائی کولیسٹرول کے علاج کا پہلا مرحلہ غذا اور طرزِ زندگی میں تبدیلی ہے۔ متوازن خوراک اور باقاعدہ ورزش سے اکثر بچوں میں کولیسٹرول کی سطح بہتر ہو جاتی ہے۔
اگر 10 سال یا اس سے زیادہ عمر کے بچے میں کولیسٹرول بہت زیادہ ہو تو ڈاکٹر سٹیٹنز جیسی کولیسٹرول کم کرنے والی دوائیں بھی تجویز کر سکتے ہیں۔
طرزِ زندگی اور گھریلو احتیاطیں
ادویات کے ساتھ صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرنا بھی ہائی کولیسٹرول پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے:
٭ اضافی وزن کم کریں اور صحت مند وزن برقرار رکھیں
٭ دل کے لیے مفید اور متوازن غذا اختیار کریں
٭ روزمرہ زندگی میں جسمانی سرگرمی بڑھائیں اور باقاعدگی سے ورزش کریں
٭ سگریٹ نوشی سے مکمل پرہیز کریں
٭ الکوحل کا استعمال محدود کریں یا مکمل طور پر ترک کر دیں
٭ ذہنی دباؤ کو کم رکھنے کی کوشش کریں
٭ روزانہ مناسب اور پرسکون نیند لیں
Frequently Asked Questions (FAQs)
ایل ڈی ایل اور ایچ ڈی ایل کولیسٹرول میں کیا فرق ہے؟
ایل ڈی ایل کو "خراب کولیسٹرول” کہا جاتا ہے کیونکہ یہ شریانوں میں جمع ہو کر دل کی بیماری کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ ایچ ڈی ایل "اچھا کولیسٹرول” ہے، جو اضافی کولیسٹرول کو واپس جگر تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے۔
کیا صرف موٹے افراد کو ہائی کولیسٹرول ہوتا ہے؟
نہیں۔ نارمل وزن رکھنے والے افراد کو بھی موروثی عوامل، غیر صحت مند غذا، بعض بیماریوں یا مخصوص ادویات کی وجہ سے ہائی کولیسٹرول ہو سکتا ہے۔
ہائی کولیسٹرول کو کم کرنے کے لیے کون سی غذائیں مفید ہیں؟
پھل، سبزیاں، ثابت اناج، کم چکنائی والے پروٹین، چکنائی والی مچھلی، گریاں اور زیتون یا کینولا کا تیل مفید غذاؤں میں شامل ہیں۔ سیر شدہ چکنائی، ٹرانس چکنائی، نمک اور اضافی چینی کا استعمال محدود رکھنا چاہیے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=cardiologist