Vinkmag ad

پروسٹیٹ کینسر کے لیے ہارمون تھراپی

Close-up of a light blue prostate cancer awareness ribbon with a black mustache symbol

پروسٹیٹ کینسر کے علاج میں ہارمون تھراپی (Hormone therapy for prostate cancer) کا استعمال جسم میں ٹیسٹوسٹیرون کی مقدار کم کرتا یا اس کے اثرات کو روکتا ہے۔ اس علاج کو اینڈروجن ڈیپریویشن تھراپی یعنی اے ڈی ٹی (ADT) بھی کہا جاتا ہے۔

پروسٹیٹ کینسر کے زیادہ تر خلیوں کی نشوونما ٹیسٹوسٹیرون پر منحصر ہوتی ہے۔ اے ڈی ٹی ٹیسٹوسٹیرون کی پیداوار کم کرتی ہے یا اسے کینسر کے خلیوں تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں کینسر کے خلیے مر جاتے ہیں یا ان کی بڑھوتری سست ہو جاتی ہے۔

اقسام

پروسٹیٹ کینسر کے لیے ہارمون تھراپی کی مختلف اقسام درج ذیل ہیں:

٭ جسم میں ٹیسٹوسٹیرون کی پیداوار روکنے والی ادویات

٭ ٹیسٹوسٹیرون کے اثرات کو بلاک کرنے والی ادویات

٭ خصیے نکالنے کی سرجری۔ بعض صورتوں میں خصیوں کا صرف وہ حصہ نکالا جاتا ہے جو ٹیسٹوسٹیرون بناتا ہے۔ دونوں طریقے مستقل ہوتے ہیں

ادویات کی صورت میں اینڈروجن ڈیپریویشن تھراپی (اے ڈی ٹی) دو طریقوں سے دی جا سکتی ہے:

٭ مسلسل اے ڈی ٹی، جس میں علاج بغیر کسی وقفے کے جاری رکھا جاتا ہے

٭ وقفے وقفے سے اے ڈی ٹی۔ اس میں علاج ایک مقررہ مدت تک جاری رہتا ہے یا اس وقت تک دیا جاتا ہے جب تک پی ایس اے ٹیسٹ کی سطح کم نہ ہو جائے

ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض مریضوں میں وقفے وقفے سے دی جانے والی اے ڈی ٹی کے مضر اثرات کم ہوتے ہیں۔ بعض صورتوں میں یہ مسلسل اے ڈی ٹی جتنی مؤثر بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ اس طریقے سے روزمرہ زندگی کا معیار بھی بہتر رہ سکتا ہے۔

کب تجویز کی جاتی ہے

پروسٹیٹ کینسر کے مختلف مراحل میں مختلف مقاصد کے لیے ہارمون تھراپی تجویز کی جا سکتی ہے، جن میں شامل ہیں:

٭ جب کینسر جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل چکا ہو

٭ جب کینسر قریبی ٹشوز تک پھیل جائے

٭ اگر علاج کے بعد پی ایس اے کی سطح بلند رہے یا دوبارہ بڑھنے لگے

٭ ایسے مریضوں میں جن میں کینسر دوبارہ ہونے کا خطرہ زیادہ ہو

ممکنہ مضر اثرات

پروسٹیٹ کینسر کی ہارمون تھراپی کے دوران درج ذیل مضر اثرات سامنے آ سکتے ہیں:

٭ پٹھوں کا کم ہونا، ہڈیوں کا کمزور ہونا اور ہڈی ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جانا

٭ جسم میں چربی اور وزن بڑھ جانا

٭ جنسی خواہش میں کمی اور عضو تناسل کا تناؤ برقرار رکھنے میں دشواری

٭ جسم میں اچانک گرمی کی لہریں محسوس ہونا

٭ جسم کے بال کم ہونا، جنسی اعضا کا سکڑنا اور چھاتی کے غدود کا بڑھ جانا

٭ تھکن محسوس ہونا

٭ مزاج میں تبدیلی، جیسے بے چینی، افسردگی یا بے دلی

٭ ذیابیطس اور دل کی بیماری کا خطرہ بڑھ جانا

علاج

٭ خصیوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی پیداوار روکنے والی ادویات

٭ اینٹی اینڈروجن ادویات، جو ٹیسٹوسٹیرون کے اثرات کو روکتی ہیں

٭ خصیے نکالنے کی سرجری ہے جو اب کم ہی کی جاتی ہے۔ بعض صورتوں میں صرف وہ حصہ نکالا جاتا ہے جو ٹیسٹوسٹیرون پیدا کرتا ہے۔

علاج کے نتائج

٭ اگر آپ پروسٹیٹ کینسر کے لیے ااے ڈی ٹی کروا رہے ہیں تو باقاعدگی سے اپنے معالج سے معائنہ کرانا ضروری ہے

٭ باقاعدہ ورزش بھی علاج کا اہم حصہ ہے۔ اس سے پٹھوں کی کمزوری، ہڈیوں کے کمزور ہونے، وزن بڑھنے اور تھکن جیسے مسائل پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے

ہارمون تھراپی کے خلاف مزاحمت

یہ پیش گوئی کرنا آسان نہیں کہ پروسٹیٹ کینسر کب اپنے اندر اے ڈی ٹی کے خلاف مزاحمت پیدا کر لے گا۔ تقریباً نصف مریضوں میں دو سے تین سال کے اندر علاج کا اثر کم ہونے لگتا ہے۔ باقی نصف میں یہ مزاحمت تین سال سے زیادہ عرصے بعد پیدا ہوتی ہے۔

اگر کینسر علاج کے خلاف مزاحمت پیدا کر لے تو بھی عموماً ہارمون تھراپی جاری رکھی جاتی ہے تاکہ جسم میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کم رہے۔ اگر ٹیسٹوسٹیرون دوبارہ بڑھ جائے تو کینسر تیزی سے بڑھ سکتا ہے یا مزید سنگین ہو سکتا ہے۔

ایسی صورت میں معالج ہارمون تھراپی تبدیل کرنے یا دیگر علاج تجویز کر سکتا ہے، جن میں شامل ہیں:

٭ کیموتھراپی

٭ تابکار مادہ پر مشتمل دوا، جسے ریڈیوفارماسیوٹیکل کہا جاتا ہے

٭ پی اے آر پی انہیبیٹر نامی دوا، جو مخصوص جینیاتی تبدیلیوں والے بعض مریضوں کے لیے موزوں ہو سکتی ہے

٭ مدافعتی نظام کو ہدف بنانے والا علاج

پروسٹیٹ کینسر میں بقا کا انحصار کینسر کے مرحلے، اس کے جسم میں پھیلاؤ اور مریض کی مجموعی صحت پر ہوتا ہے۔

Frequently Asked Questions (FAQs)

کیا ہارمون تھراپی پروسٹیٹ کینسر کا مکمل علاج ہے؟

نہیں۔ ہارمون تھراپی کا مقصد ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کم کرکے کینسر کی بڑھوتری سست کرنا، رسولیوں کو سکڑنا اور علامات میں کمی لانا ہے۔ بعض مریضوں میں یہ دوسرے علاج کے ساتھ مل کر بہتر نتائج دیتی ہے۔

کیا ہارمون تھراپی کے دوران ورزش کرنا فائدہ مند ہے؟

جی ہاں۔ باقاعدہ ورزش پٹھوں کو مضبوط رکھنے، ہڈیوں کی کمزوری کم کرنے، وزن قابو میں رکھنے اور تھکن میں کمی لانے میں مدد دیتی ہے۔

کیا ہارمون تھراپی کے مضر اثرات ہر مریض میں ایک جیسے ہوتے ہیں؟

نہیں۔ مضر اثرات کی نوعیت اور شدت ہر مریض میں مختلف ہو سکتی ہے۔ بعض افراد کو ہلکے اثرات ہوتے ہیں، جبکہ کچھ کو زیادہ نمایاں مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اگر ہارمون تھراپی مؤثر نہ رہے تو کیا ہوتا ہے؟

اگر کینسر ہارمون تھراپی کے خلاف مزاحمت پیدا کر لے تو معالج علاج کا منصوبہ تبدیل کر سکتا ہے۔ اس میں دوسری ہارمون ادویات، کیموتھراپی، امیونوتھراپی، ریڈیوفارماسیوٹیکل یا مخصوص جینیاتی تبدیلیوں کی صورت میں پی اے آر پی انہیبیٹر شامل ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=urologist

Vinkmag ad

Read Previous

ہائی کولیسٹرول

Read Next

ہیضہ: آنتوں کا بیکٹیریل انفیکشن

Leave a Reply

Most Popular