لیوکوپینیا (Leukopenia) سے مراد لیبارٹری ٹیسٹ میں خون کے سفید خلیوں کی کم تعداد (Low white blood cell count) سامنے آنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں خون میں بیماریوں سے لڑنے والے خلیوں کی تعداد معمول سے کم ہے۔
خون کے سفید خلیوں کی کتنی تعداد کم سمجھی جائے، اس کا معیار ہر لیبارٹری میں مختلف ہو سکتا ہے۔ عام طور پر بالغ افراد میں ایک مائیکرو لیٹر خون میں 3,500 سے کم خلیے کم تصور کیے جاتے ہیں۔ بچوں میں معمول کی تعداد ان کی عمر کے مطابق مختلف ہوتی ہے۔
وجوہات
خون کے سفید خلیے بڑی ہڈیوں کے اندر موجود نرم ٹشو بون میرو میں بنتے ہیں۔ اس لیے بون میرو کو متاثر کرنے والی بیماریاں خون کے سفید خلیوں کی کمی کی سب سے عام وجہ ہوتی ہیں۔ ان میں سے بعض بیماریاں پیدائشی بھی ہو سکتی ہیں۔ اس کی ممکنہ وجوہات میں شامل ہیں:
٭ اے پلاسٹک انیمیا، یعنی ایسی بیماری جس میں بون میرو مناسب مقدار میں خون کے خلیے نہیں بنا پاتا
٭ کیموتھراپی
٭ ایپسٹین بار وائرس کا انفیکشن
٭ ہیپاٹائٹس اے
٭ ہیپاٹائٹس بی
٭ ایچ آئی وی / ایڈز
٭ مختلف اقسام کے انفیکشنز
٭ لیوکیمیا، یعنی خون کا سرطان
٭ لوپس
٭ روماٹائیڈ آرتھرائٹس
٭ ملیریا
٭ بعض ادویات، خصوصاً اینٹی بائیوٹکس
٭ ناقص غذا یا بعض ضروری وٹامنز کی کمی
٭ ریڈی ایشن تھراپی
٭ سارکوئیڈوسس
٭ سیپسس، یعنی ایسا شدید انفیکشن جو پورے جسم میں پھیل جائے
٭ ٹی بی
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
کسی بیماری کی تشخیص کے لیے کرایا جانے والا خون کا ٹیسٹ یہ ظاہر کر سکتا ہے کہ خون کے سفید خلیوں کی تعداد معمول سے کم ہے۔ بعض صورتوں میں درست تشخیص کے لیے مزید ٹیسٹ بھی درکار ہوتے ہیں۔
اگر خون کے سفید خلیوں کی تعداد طویل عرصے تک بہت کم رہے تو جسم میں انفیکشن ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اپنے معالج سے پوچھیں کہ متعدی بیماریوں سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے کون سی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہییں۔ عمومی ہدایات یہ ہیں کہ باقاعدگی سے اور اچھی طرح ہاتھ دھوئیں، ضرورت پڑنے پر چہرے کا ماسک پہنیں، اور نزلہ، زکام یا کسی بھی متعدی بیماری میں مبتلا افراد سے فاصلہ رکھیں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=medical-specialist