ہیپاٹائٹس اے (Hepatitis A) ایک انتہائی متعدی وائرل انفیکشن ہے جو جگر میں سوزش پیدا کرتا ہے۔ یہ بیماری ہیپاٹائٹس اے وائرس (ایچ اے وی) کی وجہ سے ہوتی ہے اور زیادہ تر آلودہ خوراک، آلودہ پانی یا متاثرہ شخص کے قریبی رابطے سے پھیلتی ہے۔ ہاتھوں کی صفائی اور ہیپاٹائٹس اے کی ویکسین اس بیماری سے بچاؤ میں مؤثر ہیں۔
علامات
ہیپاٹائٹس اے کی علامات یہ ہو سکتی ہیں:
٭ غیر معمولی تھکاوٹ یا کمزوری محسوس ہونا
٭ متلی، الٹی یا اسہال ہونا
٭ پیٹ کے اوپری دائیں حصے میں درد یا تکلیف ہونا
٭ پاخانے کا رنگ ہلکا یا مٹیالا ہونا
٭ بھوک کم لگنا
٭ پیشاب کا رنگ گہرا ہونا
٭ جوڑوں میں درد اور ہلکا بخار ہونا
٭ یرقان
٭ جلد میں شدید خارش ہونا
زیادہ تر افراد میں یہ علامات چند ہفتوں میں ختم ہو جاتی ہیں، لیکن بعض اوقات بیماری کئی ماہ تک برقرار رہ سکتی ہے۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟
ان صورتوں میں ڈاکٹر کو دکھائیں:
٭ ہیپاٹائٹس اے کی علامات ظاہر ہونا
٭ وائرس سے رابطے کے دو ہفتوں کے اندر ویکسین یا امیونوگلوبیولن لگوانا
٭ ایسے علاقے سے واپس آنا جہاں ہیپاٹائٹس اے عام ہو
٭ ایسے ریسٹورنٹ میں کھانا کھانا جہاں ہیپاٹائٹس اے کا پھیلاؤ ہوا ہو
٭ ہیپاٹائٹس اے کے مریض کے ساتھ رہنا
٭ ہیپاٹائٹس اے کے مریض کے ساتھ حال ہی میں جنسی تعلق قائم کرنا
وجوہات
یہ ان وجوہات کے باعث ہو سکتا ہے:
٭ وائرس سے جگر میں انفیکشن اور سوزش ہونا
٭ آلودہ کھانا یا پانی استعمال کرنا
٭ متاثرہ شخص کے پاخانے کے ذرات منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہونا
٭ ہیپاٹائٹس اے کے مریض کے ساتھ قریبی رابطہ رکھنا
٭ آلودہ پانی سے حاصل کی گئی کچی سمندری غذا کھانا
٭ ہیپاٹائٹس اے کے مریض کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنا
خطرے کے عوامل
یہ عوامل اس کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں:
٭ ایسے علاقوں میں سفر یا کام کرنا جہاں ہیپاٹائٹس اے عام ہو
٭ ہیپاٹائٹس اے کے مریض کے ساتھ رہنا
٭ مرد کا مرد کے ساتھ جنسی تعلق ہونا
٭ ہیپاٹائٹس اے کے مریض کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنا
٭ ایچ آئی وی ہونا
٭ کسی بھی قسم کی نشہ آور منشیات استعمال کرنا
پیچیدگیاں
یہ عموماً جگر کو مستقل نقصان نہیں پہنچاتا لیکن بہت کم صورتوں میں عمر رسیدہ افراد یا پہلے سے جگر کی بیماری میں مبتلا لوگوں میں اچانک جگر کا کام بند ہونے جیسی سنگین پیچیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔
تشخیص
یپاٹائٹس اے کی تشخیص کے لیے بلڈ ٹیسٹ کیا جاتا ہے جس میں بازو کی رگ سے خون لے کر لیبارٹری میں ہیپاٹائٹس اے وائرس کی موجودگی کی جانچ کی جاتی ہے۔
علاج
اس کے علاج میں یہ اقدامات کیے جا سکتے ہیں:
٭ مناسب آرام کرنا
٭ متوازن غذا اور زیادہ مقدار میں پانی پینا
٭ متلی کی صورت میں تھوڑا تھوڑا کھانا کھانا
٭ الٹی یا اسہال کی صورت میں جسم میں پانی کی کمی سے بچنا
٭ الکحل سے پرہیز کرنا
٭ کوئی بھی دوا ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کرنا
بچاؤ کے تدابیر
اس سے بچنے کے لیے یہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں:
٭ ہیپاٹائٹس اے کی ویکسین لگوائیں
٭ سفر کے دوران محفوظ کھانا اور صاف پانی استعمال کریں
٭ کچا یا اچھی طرح نہ پکا ہوا گوشت اور مچھلی نہ کھائیں
٭ پھل اور سبزیاں دھو کر اور چھیل کر کھائیں
٭ ہاتھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں
زیادہ تر افراد میں جسم خود ہی وائرس کو ختم کر دیتا ہے، اور جگر تقریباً چھ ماہ کے اندر صحت یاب ہو جاتا ہے۔
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا ہیپاٹائٹس اے کرونک بیماری بن جاتی ہے؟
نہیں، یہ کرونک انفیکشن نہیں بنتا اور زیادہ تر مریض مکمل صحت یاب ہو جاتے ہیں۔
کیا ہیپاٹائٹس اے کی ویکسین موجود ہے؟
جی ہاں، یہ بیماری سے بچاؤ کا مؤثر ترین طریقہ ہے۔
کیا ہیپاٹائٹس اے کھانسی یا چھینک سے پھیلتا ہے؟
نہیں، یہ کھانسی یا چھینک سے منتقل نہیں ہوتا۔
نوٹ یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے۔ اگر آپ میں ہیپاٹائٹس اے کی علامات موجود ہوں یا وائرس سے رابطہ ہونے کا شبہ ہو تو فوری طور پر اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=gastroenterologist