Vinkmag ad

ہیپاٹائٹس بی

Hepatitis B symptoms, diagnosis, treatment, and liver health illustration

ہیپاٹائٹس بی (Hepatitis B) ایک سنگین وائرل انفیکشن ہے جو جگر کو متاثر کرکے اس میں سوزش پیدا کرتا ہے۔ یہ بیماری ہیپاٹائٹس بی وائرس (ایچ بی وی) سے ہوتی ہے اور متاثرہ خون، منی یا جسمانی رطوبتوں کے ذریعے ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہوتا ہے۔ یہ عام طور پر چھ ماہ سے کم عرصے میں ختم ہو جاتا ہے۔ تاہم بعض افراد میں یہ انفیکشن چھ ماہ سے زیادہ برقرار رہتا ہے، جسے کرونک ہیپاٹائٹس بی کہا جاتا ہے۔

علامات

ہیپاٹائٹس بی کی علامات عموماً وائرس لگنے کے 1 سے 4 ماہ بعد ظاہر ہوتی ہیں تاہم بعض افراد میں دو ہفتوں کے اندر بھی شروع ہو سکتی ہیں۔ اس کی علامات یہ ہو سکتی ہیں:

٭ پیٹ میں درد ہونا

٭ پیشاب کا رنگ گہرا ہونا

٭ بخار یا جوڑوں میں درد ہونا

٭ بھوک میں کمی

٭ متلی یا الٹی آنا

٭ کمزوری یا شدید تھکاوٹ محسوس ہونا

٭ یرقان

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟

اگر آپ کا ہیپاٹائٹس بی وائرس سے رابطہ ہوا ہو یا اس کی علامات ظاہر ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ وائرس سے رابطے کے 24 گھنٹوں کے اندر احتیاطی علاج شروع کرنے سے انفیکشن کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔

وجوہات

ہیپاٹائٹس بی ان وجوہات کے باعث ہو سکتا ہے:

٭ متاثرہ خون، منی یا جسمانی رطوبتوں کے ذریعے وائرس منتقل ہونا

٭ غیر محفوظ جنسی تعلق قائم کرنا

٭ آلودہ سوئیاں یا سرنجیں مشترکہ استعمال کرنا

٭ متاثرہ سوئی چبھ جانا

٭ متاثرہ ماں سے بچے کو پیدائش کے دوران وائرس منتقل ہونا

٭ وائرس کا جسم میں 6 ماہ سے زیادہ رہ جانا اور کرونک ہیپاٹائٹس بی بن جانا

خطرے کے عوامل

یہ عوامل ہیپاٹائٹس بی کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں:

٭ غیر محفوظ جنسی تعلق یا ایک سے زیادہ جنسی ساتھی ہونا

٭ انجیکشن کے لیے سوئیاں مشترکہ استعمال کرنا

٭ مرد کا مرد کے ساتھ جنسی تعلق ہونا

٭ ہیپاٹائٹس بی کے مریض کے ساتھ رہنا

٭ متاثرہ ماں کے ہاں پیدا ہونا

٭ ایسے کام سے وابستہ ہونا جہاں خون سے واسطہ پڑتا ہو

٭ ہیپاٹائٹس سی یا ایچ آئی وی ہونا

٭ ڈائلیسس کروانا

٭ مدافعتی نظام کمزور کرنے والی ادویات استعمال کرنا

٭ ایسے علاقوں کا سفر کرنا جہاں ہیپاٹائٹس بی زیادہ پایا جاتا ہو

پیچیدگیاں

اگر کرونک ہیپاٹائٹس بی کا بروقت علاج نہ ہو تو یہ پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں:

٭ جگر پر مستقل زخم (cirrhosis) بننا

٭ جگر کا کینسر

٭ جگر کا کام کرنا بند ہو جانا

٭ وائرس دوبارہ فعال ہو کر جگر کو نقصان پہنچانا

٭ گردوں کی بیماری یا خون کی نالیوں میں سوزش ہونا

تشخیص

اس کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر علامات، جسمانی معائنہ اور یہ ٹیسٹ کر سکتے ہیں:

٭ بلڈ ٹیسٹ

٭ الٹراساؤنڈ یا ٹرانزینٹ ایلاسٹوگرافی

٭ ضرورت پڑنے پر جگر کی بائیوپسی

٭ خطرے سے دوچار افراد کی ہیپاٹائٹس بی سکریننگ کروانا

علاج

اس کے علاج میں یہ اقدامات کیے جا سکتے ہیں:

٭ وائرس سے رابطے کے بعد امیونوگلوبیولن اور ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین لگوانا

٭ شدید علامات کی صورت میں آرام کرنا، مناسب غذا لینا اور زیادہ پانی پینا

٭ ضرورت پڑنے پر اینٹی وائرل ادویات استعمال کرنا

٭ کرونک ہیپاٹائٹس بی میں طویل مدت تک اینٹی وائرل ادویات لینا

٭ بعض مریضوں میں انٹرفیرون انجیکشن لگوانا

٭ جگر کو شدید نقصان پہنچنے پر جگر کی پیوندکاری کروانا

بچاؤ کے تدابیر

ہیپاٹائٹس بی سے بچاؤ کے لیے یہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں:

٭ ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین لگوانا

٭ غیر محفوظ جنسی تعلق سے بچنا

٭ منشیات کے لیے سوئیاں مشترکہ استعمال نہ کرنا

٭ ٹیٹو کے لیے جراثیم سے پاک آلات استعمال کرنا

٭ زیادہ خطرے والے علاقوں میں سفر سے پہلے ویکسین لگوانا

Frequently Asked Questions (FAQs)

کیا ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین موجود ہے؟

جی ہاں، یہ بیماری سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔

کیا یہ کھانسنے یا چھینکنے سے پھیلتا ہے؟

نہیں، یہ خون، منی یا جسمانی رطوبتوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔

کیا ہیپاٹائٹس بی کے مریض کو جگر کا کینسر ہو سکتا ہے؟

اگر بیماری طویل عرصے تک برقرار رہے تو جگر کے کینسر اور سروسس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

نوٹ یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے۔ اگر آپ کو ہیپاٹائٹس بی ہونے کا شبہ ہو یا تشخیص ہو چکی ہو تو اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں اور تجویز کردہ علاج پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=gastroenterologist

Vinkmag ad

Read Previous

ہیپاٹائٹس سی

Read Next

ہیپاٹائٹس اے

Leave a Reply

Most Popular