پھوڑے اور ان کا باہم جڑا ہوا مجموعہ (Boils and carbuncles) پیپ سے بھری ہوئی گلٹیاں ہیں۔ یہ اس وقت بنتی ہیں جب بیکٹیریا بالوں کی ایک یا زیادہ جڑوں میں انفیکشن پیدا کرتے ہیں۔ جڑا ہوا پھوڑا کئی پھوڑوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ جلد کے نیچے مل کر ایک ہی متاثرہ حصہ بنا دیتے ہیں۔
پھوڑے عموماً سرخ یا جامنی رنگ کی نرم گلٹی کے طور پر شروع ہوتے ہیں اور جلد ہی پیپ سے بھر جاتے ہیں۔ پھر بڑے اور زیادہ دردناک ہو جاتے ہیں۔ آخرکار وہ پھٹ جاتے ہیں اور پیپ باہر نکل آتی ہے۔ یہ زیادہ تر چہرے، گردن کے پچھلے حصے، بغلوں، رانوں اور کولہوں پر بنتے ہیں۔
علامات
پھوڑے
پھوڑے جسم کے کسی بھی حصے پر ہو سکتے ہیں، تاہم یہ زیادہ تر چہرے، گردن، بغلوں، رانوں اور کولہوں پر بنتے ہیں۔ یہ وہ حصے ہیں جہاں بال ہوتے ہیں، زیادہ پسینہ آتا ہے یا رگڑ لگتی ہے۔ پھوڑے کی علامات میں عموماً شامل ہیں:
٭ ایک دردناک، سرخ گلٹی جو ابتدا میں چھوٹی ہوتی ہے، لیکن 2 انچ (5 سینٹی میٹر) سے زیادہ بڑی ہو سکتی ہے
٭ گلٹی کے اردگرد سرخ یا جامنی رنگ کی سوجی ہوئی جلد
٭ چند دنوں میں گلٹی کا بڑا ہونا، کیونکہ اس میں پیپ بھر جاتی ہے
٭ پھوڑے کی چوٹی پر زرد مائل سفید حصہ بن جاتا ہے، جو آخرکار پھٹ جاتا ہے اور پیپ باہر نکل آتی ہے۔
جڑے ہوئے پھوڑے
جڑا ہوا پھوڑا کئی پھوڑوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ جلد کے نیچے مل کر ایک بڑا انفیکشن بنا دیتے ہیں۔ ایک عام پھوڑے کے مقابلے میں یہ زیادہ گہرا اور شدید ہوتا ہے۔ اس سے جلد پر نشان رہنے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے شکار افراد طبیعت کی خرابی محسوس کرتے ہیں۔ انہیں بخار اور کپکپی بھی ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
ایک چھوٹے، اکیلے پھوڑے کی دیکھ بھال عموماً گھر پر کی جا سکتی ہے۔ لیکن درج ذیل صورتوں میں ڈاکٹر سے ضرور رجوع کریں:
٭ اگر ایک وقت میں ایک سے زیادہ پھوڑے ہوں
٭ اگر پھوڑا چہرے پر ہو یا بینائی کو متاثر کر رہا ہو
٭ اگر پھوڑا تیزی سے بگڑ رہا ہو یا بہت زیادہ دردناک ہو
٭ اگر اس کے ساتھ بخار ہو جائے
٭ اگر گھریلو دیکھ بھال کے باوجود پھوڑا مسلسل بڑا ہوتا جائے
٭ اگر دو ہفتوں میں ٹھیک نہ ہو
٭ اگر پھوڑا بار بار دوبارہ بنے
وجوہات
زیادہ تر پھوڑے سٹیفیلوکوکس اوریئس نامی بیکٹیریا کی وجہ سے بنتے ہیں۔ یہ بیکٹیریا عام طور پر جلد اور ناک کے اندر موجود ہوتا ہے۔ جلد کے نیچے پیپ جمع ہونے سے گلٹی بن جاتی ہے۔ بعض اوقات معمولی زخم یا کیڑے کے کاٹنے سے بیکٹیریا آسانی سے جسم میں داخل ہو جاتے ہیں۔
خطرے کے عوامل
اگرچہ ہر شخص پھوڑوں یا جڑے ہوئے پھوڑوں کا شکار ہو سکتا ہے، لیکن چند عوامل اس خطرے کو بڑھا دیتے ہیں:
٭ ایسے شخص کے ساتھ قریبی رابطہ یا رہائش، جو ان سے متاثرہ ہو
٭ ذیابیطس ہونا
٭ جلد کی دیگر بیماریاں، مثلاً ایکنی یا ایگزیما ہونا
٭ کمزور قوت مدافعت
پیچیدگیاں
شاذ و نادر صورتوں میں پھوڑے یا جڑے ہوئے پھوڑے کے بیکٹیریا خون میں داخل ہو سکتے ہیں۔ خون کا انفیکشن (سیپسس) دل کی اندرونی جھلی یا ہڈیوں میں شدید انفیکشن کا سبب بن سکتا ہے۔
بچاؤ کی تدابیر
پھوڑوں سے ہمیشہ مکمل بچاؤ ممکن نہیں ہوتا، خاص طور پر اگر مدافعتی نظام کمزور ہو۔ تاہم، درج ذیل احتیاطی تدابیر ان سے بچاؤ میں مدد دے سکتی ہیں:
٭ اپنے ہاتھ باقاعدگی سے ہلکے صابن سے دھوئیں، یا الکحل والے ہینڈ رب کا استعمال کریں
٭ زخموں کو ڈھانپ کر رکھیں۔ کٹ یا خراش کو صاف رکھیں۔ مکمل صحت یابی تک جراثیم سے پاک، خشک پٹی استعمال کریں
٭ ذاتی استعمال کی اشیا دوسروں کے ساتھ مشترک استعمال نہ کریں۔
٭ اگر جسم پر زخم ہو، تو تولیوں اور چادروں کو ڈٹرجنٹ، گرم پانی اور بلیچ سے دھوئیں۔ پھر انہیں گرم ڈرائر میں خشک کریں
تشخیص
ڈاکٹر عموماً صرف معائنہ کر کے پھوڑے یا جڑے ہوئے پھوڑے کی تشخیص کر لیتا ہے۔ بعض اوقات پیپ کا نمونہ جانچ کے لیے لیبارٹری بھیجا جاتا ہے۔ یہ جانچ اس وقت مفید ہوتی ہے، جب انفیکشن بار بار ہو یا معمول کے علاج سے ٹھیک نہ ہو۔
علاج
چھوٹے پھوڑوں کا علاج عموماً گھر پر کیا جا سکتا ہے۔ متاثرہ جگہ پر گرم پٹی رکھنے سے درد کم ہوتا ہے۔ اس سے پیپ قدرتی طور پر باہر نکلنے میں بھی مدد ملتی ہے۔
بڑے پھوڑوں اور جڑے ہوئے پھوڑوں کے علاج میں درج ذیل شامل ہو سکتے ہیں:
٭ چیرا لگا کر پیپ نکالنا۔ اگر پیپ مکمل طور پر نہ نکلے تو جراثیم سے پاک گاز رکھی جا سکتی ہے
٭ اینٹی بائیوٹکس۔ شدید یا بار بار ہونے والے انفیکشن میں ڈاکٹر اینٹی بائیوٹکس تجویز کر سکتا ہے
سیلف کیئر
چھوٹے پھوڑوں کی صورت میں درج ذیل اقدامات انفیکشن کو جلد ٹھیک ہونے اور پھیلنے سے روکنے میں مدد دیتے ہیں:
٭ متاثرہ جگہ پر دن میں کئی بار تقریباً 10 منٹ کے لیے گرم پٹی رکھیں
٭ پھوڑے کو خود نہ دبائیں اور نہ ہی کاٹیں۔ ایسا کرنے سے انفیکشن پھیل سکتا ہے
٭ پھوڑے کی دیکھ بھال کے بعد ہاتھ اچھی طرح دھوئیں۔ متاثرہ جگہ سے لگنے والے کپڑے، تولیے اور پٹیاں بھی دھوئیں، خاص طور پر اگر انفیکشن بار بار ہوتا ہو
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا ہر پھوڑے کا علاج اینٹی بائیوٹکس سے کیا جاتا ہے؟
نہیں، چھوٹے پھوڑے اکثر گرم پٹی اور مناسب دیکھ بھال سے ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ شدید یا بار بار ہونے والے انفیکشن میں اینٹی بائیوٹکس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
کیا جڑے ہوئے پھوڑے عام پھوڑے سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں؟
جی ہاں، یہ زیادہ گہرے اور شدید ہوتے ہیں۔ ان سے جلد پر نشان رہنے اور پیچیدگیوں کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔
کیا پھوڑے سے نکلنے والی پیپ دوسروں کو بھی متاثر کر سکتی ہے؟
جی ہاں، یہ انفیکشن متاثرہ پیپ، ذاتی اشیا یا قریبی رابطے سے دوسرے افراد تک منتقل ہو سکتا ہے۔
بار بار پھوڑے بننے کی صورت میں کیا مزید جانچ ضروری ہوتی ہے؟
جی ہاں، ڈاکٹر پیپ کا نمونہ لیبارٹری بھیج سکتا ہے۔ اس سے مناسب اینٹی بائیوٹک کے انتخاب میں مدد ملتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=dermatologist