Vinkmag ad

پیشاب بے اختیار نکل جانا

پیشاب بے اختیار نکل جانا (Urinary Incontinence) یا بالفاظ دیگر مثانے پر کنٹرول ختم ہونا شرمندگی کا باعث بننے والا مسئلہ ہے۔ اس کی شدت ہر فرد میں مختلف ہو سکتی ہے۔ اگرچہ یہ مسئلہ عمر بڑھنے کے ساتھ زیادہ عام ہو جاتا ہے، لیکن اسے بڑھاپے کا لازمی حصہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

علامات

اس کی عام اقسام درج ذیل ہیں:

٭ کھانسنے، چھینکنے، ہنسنے، ورزش کرنے یا بھاری چیز اٹھانے سے مثانے پر دباؤ پڑتا ہے اور پیشاب نکل جاتا ہے

٭ اچانک شدید حاجت محسوس ہوتی ہے، اور اس کے فوراً بعد پیشاب بے اختیار نکل جاتا ہے

٭ مثانہ مکمل خالی نہ ہونے کی وجہ سے پیشاب مسلسل یا وقفے وقفے سے تھوڑی مقدار میں ٹپکتا رہتا ہے

٭ کوئی جسمانی یا ذہنی مسئلہ مثلاً جوڑوں کا درد بروقت بیت الخلا پہنچنے میں رکاوٹ بنتا ہے

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

بہت سے لوگ شرمندگی کی وجہ سے اس مسئلے پر ڈاکٹر سے بات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ان صورتوں میں طبی مشورہ ضرور حاصل کریں:

٭ روزمرہ سرگرمیاں محدود ہو رہی ہوں

٭ سماجی میل جول متاثر ہو رہا ہو

وجوہات

عارضی وجوہات

بعض مشروبات، غذائیں اور ادویات پیشاب آور ہوتی ہیں۔ ان میں شامل ہیں:

٭ الکوحل

٭ کیفین

٭ کاربونیٹڈ مشروبات اور سوڈا واٹر

٭ مصنوعی مٹھاس

٭ چاکلیٹ

٭ مرچیں

٭ بہت زیادہ مصالحے دار، میٹھی یا تیزابی غذائیں، خاص طور پر ترش پھل

٭ دل اورہائی بلڈ پریشر کی بعض ادویات

٭ سکون آور ادویات

٭ پٹھوں کو ریلیکس کرنے والی ادویات

٭ وٹامن سی کی زیادہ مقدار

طبی مسائل

٭ پیشاب کی نالی کا انفیکشن

٭ قبض کی شکایت

٭ حمل

٭ زچگی

٭ مینوپاز

٭ پروسٹیٹ کا بڑھ جانا

٭ پروسٹیٹ کینسر

٭ پیشاب کی نالی میں رکاوٹ

٭ اعصابی بیماریاں

خطرے کے عوامل

٭ خواتین میں حمل، زچگی، سنِ یاس اور مردوں میں پروسٹیٹ کے مسائل

٭ عمر میں اضافہ

٭ وزن زیادہ ہونا

٭ تمباکو نوشی

٭ فیملی ہسٹری

٭ اعصابی بیماریاں اور ذیابیطس

پیچیدگیاں

٭ مسلسل نمی کی وجہ سے جلد پر خارش، سرخی، انفیکشن یا زخم بننے کا امکان

٭ بار بار پیشاب رسنے سے پیشاب کی نالی کے انفیکشن کا خطرہ

٭ سماجی سرگرمیوں، ملازمت، ازدواجی زندگی اور ذاتی تعلقات پر اثرات

احتیاطی تدابیر

چند احتیاطی تدابیر اختیار کرکے اس کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے:

٭ صحت مند وزن برقرار رکھیں

٭ پیلوک فلور یا کیگل ورزشیں باقاعدگی سے کریں

٭ کیفین، الکحل اور تیزابی غذاؤں سے حتیٰ الامکان پرہیز کریں

٭ غذا میں فائبر کی مقدار بڑھائیں

٭ تمباکو نوشی سے پرہیز کریں

تشخیص

ضرورت کے مطابق درج ذیل ٹیسٹ تجویز کیے جا سکتے ہیں:

٭ پیشاب کے نمونے کی جانچ کرکے انفیکشن، خون یا دیگر غیر معمولی علامات کا جائزہ لینا

٭ چند روز تک پانی پینے کی مقدار، پیشاب کے اوقات، خارج ہونے والے پیشاب کی مقدار، اچانک حاجت کے احساس اور پیشاب رسنے کے واقعات کا ریکارڈ رکھنا

٭ پیشاب کے بعد مثانے میں باقی رہ جانے والی مقدار کی پیمائش کرنا۔ مریض پہلے ایک مخصوص برتن میں پیشاب کرتا ہے، پھر کیتھیٹر یا الٹراساؤنڈ کے ذریعے دیکھا جاتا ہے کہ مثانے میں کتنا پیشاب باقی رہ گیا ہے۔

اگر ان ٹیسٹوں سے مزید معلومات درکار ہوں تو ڈاکٹر یوروڈائنامک ٹیسٹ یا پیلوک الٹراساؤنڈ بھی تجویز کر سکتا ہے۔ یہ ٹیسٹ عموماً ان مریضوں میں کیے جاتے ہیں جن کے لیے سرجری پر غور کیا جا رہا ہو۔

علاج

طرزِ زندگی میں تبدیلیاں

روزمرہ عادات میں چند تبدیلیاں پیشاب پر بہتر کنٹرول حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ ڈاکٹر درج ذیل طریقے تجویز کر سکتا ہے۔

مثانے کی تربیت

پیشاب کی حاجت محسوس ہوتے ہی بیت الخلا جانے کے بجائے کچھ دیر انتظار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ابتدا میں تقریباً دس منٹ انتظار کیا جاتا ہے، پھر آہستہ آہستہ یہ وقفہ بڑھایا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ مریض ہر ڈھائی سے ساڑھے تین گھنٹے بعد پیشاب کرنے کا عادی ہو جائے۔

دو مرتبہ پیشاب کرنا

پہلے معمول کے مطابق پیشاب کریں، پھر چند منٹ انتظار کرکے دوبارہ پیشاب کرنے کی کوشش کریں۔ اس سے مثانہ زیادہ مکمل طور پر خالی ہو جاتا ہے۔

مقررہ اوقات میں بیت الخلا جانا

پیشاب کی حاجت کا انتظار کرنے کے بجائے ہر دو سے چار گھنٹے بعد بیت الخلا جانا بعض مریضوں کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔

پانی اور غذا کا مناسب انتظام

الکحل، کیفین اور تیزابی غذاؤں کا استعمال کم کرنا یا ان سے پرہیز کرنا علامات میں بہتری لا سکتا ہے۔ اسی طرح مناسب مقدار میں پانی پینا، وزن کم کرنا اور جسمانی سرگرمی بڑھانا بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

پیلوک فلور کے پٹھوں کی ورزشیں

ڈاکٹر مثانے کو سہارا دینے والے پٹھوں کو مضبوط بنانے کے لیے پیلوک فلور یا کیگل ورزشیں باقاعدگی سے کرنے کا مشورہ دے سکتا ہے۔

ادویات

اگر صرف ورزش یا طرزِ زندگی میں تبدیلی کافی نہ ہو تو ڈاکٹر ادویات تجویز کر سکتا ہے۔

برقی تحریک

اس طریقۂ علاج میں مقعد یا وجائنا میں عارضی طور پر الیکٹروڈ رکھے جاتے ہیں، جو ہلکی برقی رو کے ذریعے پیلوک فلور کے پٹھوں کو متحرک اور مضبوط بناتے ہیں۔

طبی آلات

بعض خواتین میں پیشاب بے اختیار نکل جانے پر قابو پانے کے لیے مخصوص طبی آلات بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔

یوریتھرا اِنسرٹ: یہ ٹیمپون سے مشابہ ایک چھوٹا، یک بار استعمال ہونے والا آلہ ہے

پیسری: یہ نرم سلیکون کی انگوٹھی ہوتی ہے، جسے وجائنا میں رکھا جاتا ہے اور پورا دن استعمال کیا جا سکتا ہے

مداخلتی علاج

اگر طرزِ زندگی میں تبدیلی، ورزش اور ادویات سے مطلوبہ فائدہ نہ ہو تو ڈاکٹر بعض مداخلتی علاج تجویز کر سکتا ہے۔

٭ بلکنگ میٹیریل کے انجیکشن

٭ بوٹوکس انجیکشن

٭ اعصاب کو متحرک کرنے والے آلات

سرجری

اگر دیگر تمام علاج مؤثر ثابت نہ ہوں تو پیشاب بے اختیار نکل جانے کی بنیادی وجہ دور کرنے کے لیے سرجری کی جا سکتی ہے۔

٭ سلنگ پروسیج، جس میں مصنوعی جالی یا جسم کے اپنے ٹشوز کی مدد سے پیشاب کی نالی اور مثانے کی گردن کے نیچے سہارا بنایا جاتا ہے

٭ مثانے کے نچلے حصے کو سہارا دینے کی سرجری

٭ پیلوک اعضا کی مرمت کی سرجری

٭ مصنوعی پیشابی اسفنکٹر

جاذب پیڈ اور کیتھیٹر کا استعمال

Frequently Asked Questions (FAQs)

کیا پیشاب بے اختیار نکل جانا مکمل طور پر قابلِ علاج ہے؟

بہت سے مریضوں میں طرزِ زندگی میں تبدیلی، ورزش، ادویات یا سرجری کے ذریعے علامات میں نمایاں بہتری آ جاتی ہے۔

کیا کیگل ورزشیں ہر مریض کے لیے مفید ہیں؟

کیگل ورزشیں خاص طور پر سٹریس اِن کانٹیننس میں مؤثر ہیں، لیکن بعض دیگر اقسام میں بھی فائدہ پہنچا سکتی ہیں۔ بہتر نتائج کے لیے انہیں باقاعدگی سے اور درست طریقے سے کرنا ضروری ہے۔

کیا ہر مریض کو سرجری کرانا پڑتی ہے؟

نہیں۔ زیادہ تر مریضوں میں ادویات، ورزش اور طرزِ زندگی میں تبدیلی سے کافی بہتری آ جاتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=urologist

Vinkmag ad

Read Previous

بائل ریفلکس: بائل کی غذائی نالی میں واپسی

Read Next

پھوڑے اور ان کا باہم جڑا ہوا مجموعہ

Leave a Reply

Most Popular