بائل جگر میں بننے والا ایک ہاضم مائع ہے، جو چکنائی ہضم کرنے میں مدد دینے کے لیے چھوٹی آنت میں خارج ہوتا ہے۔ بعض اوقات یہ چھوٹی آنت سے واپس معدے اور پھر غذائی نالی میں آ جاتا ہے۔ اس کیفیت کو بائل ریفلکس (Bile reflux) کہتے ہیں۔ یہ ایسڈ ریفلکس سے مختلف بیماری ہے۔ ایسڈ ریفلکس میں معدے کا تیزاب غذائی نالی میں واپس آ جاتا ہے۔ بعض افراد میں بائل ریفلکس اور ایسڈ ریفلکس ایک ساتھ بھی ہو سکتے ہیں۔
علامات
بائل ریفلکس اور ایسڈ ریفلکس میں فرق کرنا آسان نہیں ہوتا، کیونکہ دونوں کی علامات ملتی جلتی ہو سکتی ہیں اور بعض افراد میں دونوں ایک ساتھ بھی ہوتے ہیں۔ بائل ریفلکس کی علامات میں شامل ہیں:
٭ پیٹ کے اوپری حصے میں درد، جو شدید بھی ہو سکتا ہے
٭ سینے میں جلن، جو بعض افراد میں گلے تک محسوس ہو سکتی ہے
٭ متلی
٭ سبزی مائل زرد رنگ کی قے
٭ بھوک میں کمی
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر درج ذیل میں سے کوئی بھی کیفیت ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں:
٭ بار بار ریفلکس کی علامات ظاہر ہوں یا بغیر کسی وجہ کے وزن کم ہونے لگے
٭ ایسڈ ریفلکس کی تشخیص اور علاج کے باوجود دواؤں سے مناسب آرام نہ مل رہا ہو
وجوہات
معدے میں بائل ریفلکس
معدے اور چھوٹی آنت کے درمیان موجود عضلاتی والو کو پائلورک والو کہا جاتا ہے۔ یہ عام طور پر اتنا ہی کھلتا ہے کہ خوراک تھوڑی تھوڑی مقدار میں چھوٹی آنت میں جا سکے۔ اگر یہ درست طریقے سے بند نہ ہو تو بائل واپس معدے میں آ سکتا ہے۔ اس سے معدے کی اندرونی جھلی میں سوزش پیدا ہو سکتی ہے، جسے بائل ریفلکس گیسٹرائٹس کہا جاتا ہے۔
غذائی نالی میں بائل ریفلکس
غذائی نالی کے نچلے حصے کا عضلاتی والو صرف خوراک کو معدے میں جانے دیتا ہے۔ اگر یہ کمزور ہو جائے یا درست طریقے سے بند نہ ہو تو بائل اور معدے کا تیزاب غذائی نالی میں واپس آ سکتے ہیں۔
پیچیدگیاں
بائل ریفلکس اور ایسڈ ریفلکس ایک ساتھ ہونے سے درج ذیل پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے:
٭ بائل ریفلکس بعض افراد میں ایسڈ ریفلکس کو مزید شدید بنا سکتا ہے
٭ بائل یا معدے کے تیزاب کے طویل اثر سے غذائی نالی کے خلیوں میں تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ ان سے بعد میں کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے
٭ بعض تحقیقات میں ایسڈ ریفلکس، بائل ریفلکس اور غذائی نالی کے کینسر کے درمیان تعلق دیکھا گیا ہے
٭ بائل ریفلکس گیسٹرائٹس کا تعلق معدے کے کینسر سے بھی جوڑا گیا ہے
تشخیص
غذائی نالی اور معدے کو پہنچنے والے نقصان، نیز کینسر سے پہلے کی تبدیلیوں کا جائزہ لینے کے لیے درج ذیل ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں:
٭ اینڈوسکوپی کے ذریعے بائل، معدے کے زخم اور سوزش دیکھی جا سکتی ہے۔ ضرورت پڑنے پر ٹشو یا معدے کے مائع کا نمونہ بھی لیا جا سکتا ہے
٭ ایمبولیٹری ایسڈ ٹیسٹ میں ایک کیتھیٹر ناک کے ذریعے غذائی نالی میں ڈالا جاتا ہے۔ اس کے سرے پر موجود آلہ 24 گھنٹے تک تیزاب کی مقدار ریکارڈ کرتا ہے۔ یہ ٹیسٹ ایسڈ ریفلکس کی نشاندہی کرتا ہے، لیکن بائل ریفلکس کی نہیں
٭ غذائی نالی کے امپیڈینس ٹیسٹ سے معلوم کیا جاتا ہے کہ گیس یا مائع غذائی نالی میں واپس آ رہا ہے یا نہیں
علاج
ادویات
٭ علامات کی شدت اور بیماری کے بار بار ہونے کی شکایت کم کرنے والی میڈیسنز
٭ معدے کا تیزاب کم کرنے والی ادویات، جو ایسڈ ریفلکس میں آرام دے سکتی ہیں
٭ معدے اور غذائی نالی پر حفاظتی تہہ بنا کر جلن کم کرنے والی دوا
٭ بائل کے اثرات کم کرنے والی ادویات
٭ معدے کا مواد غذائی نالی میں واپس آنے سے روکنے میں مدد دینے والی دوا
عموماً علاج میں ایک سے زیادہ ادویات ایک ساتھ استعمال کی جاتی ہیں۔
احتیاطی تدابیر
اگرچہ بائل ریفلکس کا براہِ راست تعلق طرزِ زندگی سے ثابت نہیں ہوا، لیکن چونکہ بہت سے افراد میں ایسڈ ریفلکس بھی ساتھ ہوتا ہے، اس لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر علامات میں کمی لا سکتی ہیں:
٭ تمباکو نوشی ترک کریں
٭ کھانے کی مقدار کم رکھیں اور اسے دن میں زیادہ بار تھوڑا تھوڑا کھائیں
٭ کھانے کے بعد کم از کم دو سے تین گھنٹے تک نہ لیٹیں
٭ زیادہ چکنائی والی غذاؤں سے پرہیز کریں یا ان کا استعمال کم کریں
٭ ایسی غذاؤں اور مشروبات سے پرہیز کریں جو معدے میں تیزاب بڑھاتے ہیں۔ کیفین والے اور کاربونیٹڈ مشروبات، چاکلیٹ، ترش پھل، سرکہ، پیاز، ٹماٹر، مصالحہ دار غذائیں اور پودینہ اس کی مثالیں ہیں۔
٭ شراب نوشی سے پرہیز کریں یا اس کا استعمال محدود رکھیں
٭ اگر وزن زیادہ ہو تو اسے کم کریں
٭ سوتے وقت بستر کا تکیہ تقریباً 15 سے 20 سینٹی میٹر اونچا رکھیں
٭ ذہنی دباؤ کم رکھنے کی کوشش کریں۔ گہری سانسیں، میڈی ٹیشن اور یوگا اس میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=gastroenterologist