Vinkmag ad

دمہ

A female using an inhaler to relieve asthma symptoms and improve breathing during an asthma attack.

دمہ (Asthma) سانس کی نالیوں کی ایک طویل مدتی بیماری ہے جس میں نالیاں تنگ اور سوجن زدہ ہو جاتی ہیں، اور بلغم سے بھر سکتی ہیں۔ اس کیفیت میں سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے اور مریض کو کھانسی، سانس باہر نکالتے وقت سیٹی جیسی آواز آنے اور سانس پھولنے جیسی علامات کا سامنا ہوتا ہے۔

کچھ افراد میں دمہ معمولی نوعیت کا ہوتا ہے اور روزمرہ زندگی پر زیادہ اثر نہیں ڈالتا۔ تاہم بعض مریضوں میں یہ کیفیت شدید ہو کر معمول کی سرگرمیوں میں رکاوٹ بنتی ہے۔

علامات

دمے کی علامات ہر فرد میں مختلف انداز سے ظاہر ہوتی ہیں۔ بعض افراد کو وقفے وقفے سے اس کے اٹیک ہوتے ہیں جبکہ کچھ میں علامات مستقل رہ سکتی ہیں۔ دمہ کی عام علامات میں شامل ہیں

٭ سانس پھولنا

٭ سینے میں جکڑن یا درد

٭ سانس باہر نکالتے وقت سیٹی جیسی آواز آنا

٭ کھانسی، یا سانس کی تکلیف کی وجہ سے نیند میں خلل

٭ نزلہ یا فلو جیسے انفیکشن کے بعد کھانسی اور سیٹی جیسی آواز میں اضافہ

علامات کے بگڑنے کی نشانیاں

٭ علامات کی شدت اور تسلسل میں اضافہ

٭ سانس لینے میں بڑھتی ہوئی دشواری

٭ ریسکیو انہیلر کا بار بار استعمال

کچھ حالات میں دمہ مزید بڑھ سکتا ہے:

٭ ورزش کے دوران، خاص طور پر سرد اور خشک ہوا میں

٭ کام کی جگہ پر کیمیکلز، دھول یا دھوئیں کے باعث

٭ الرجی پیدا کرنے والے عناصر جیسے پولن، پھپھوندی یا پالتو جانوروں کے ذرات

فوری طبی توجہ کی ضرورت

شدید دمہ کا حملہ خطرناک اور جان لیوا ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں فوری طبی مدد ضروری ہوتی ہے۔ ہنگامی علامات میں شامل ہیں:

٭ سانس کی تکلیف یا سیٹی جیسی آواز میں اچانک شدت

٭ ریسکیو انہیلر کے استعمال کے باوجود بہتری نہ آنا

٭ معمولی سرگرمی میں بھی شدید سانس پھولنا

ڈاکٹر سے رابطہ ضروری ہوتا ہے، اگر:

٭ کھانسی یا ویزنگ کئی دن تک برقرار رہے

٭ تشخیص کے بعد علامات پر کنٹرول نہ رہے

٭ ریسکیو انہیلر کا استعمال غیر معمولی طور پر بڑھ جائے

٭ علاج کا اثر کم محسوس ہو

وجوہات

دمہ کے حتمی اسباب مکمل طور پر واضح نہیں، تاہم ماحولیاتی اور جینیاتی عوامل اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مثلاً:

٭ پولن، دھول، فنگس اور جانوروں کے ذرات جیسے الرجی پیدا کرنے والے عناصر

٭ سانس کا انفیکشن جیسے نزلہ زکام

٭ جسمانی مشقت یا ورزش

٭ سرد ہوا

٭ فضائی آلودگی اور دھواں

٭ بعض ادویات جیسے اسپرین اور درد کم کرنے والی دوائیں

٭ ذہنی دباؤ اور شدید جذبات

٭ کچھ کھانوں میں موجود سلفائٹس اور پریزرویٹو

٭ معدے کے تیزاب کا اوپر آنا

خطرے کے عوامل

دمہ کے امکانات بڑھانے والے عوامل یہ ہیں:

٭ فیملی میں دمہ یا الرجی کی موجودگی

٭ جلدی الرجی یا ناک کی الرجی

٭ زیادہ وزن

٭ سگریٹ نوشی یا دوسرے کا دھواں

٭ آلودہ ماحول میں رہائش یا کام

٭ کیمیکل یا صنعتی شعبوں میں کام

پیچیدگیاں

اگر دمہ پر کنٹرول نہ ہو تو یہ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں:

٭ نیند اور روزمرہ زندگی میں خلل

٭ کام یا تعلیمی ادارے سے غیر حاضری

٭ سانس کی نالیوں کا مستقل طور پر تنگ ہونا

٭ شدید حملوں کی صورت میں ہسپتال میں داخلہ

٭ بعض ادویات کے طویل استعمال کے سائیڈ ایفیکٹس

روک تھام اور کنٹرول

اگرچہ دمہ کو مکمل طور پر روکا نہیں جا سکتا، لیکن اس پر مؤثر کنٹرول ممکن ہے۔ اس کے لیے:

٭ انفلوئنزا اور نمونیا سے بچاؤ کی ویکسین لگوائیں

٭ ذاتی محرکات کی نشاندہی کر کے ان سے بچاؤ کریں

٭ سانس کی کیفیت کو پیک فلو میٹر سے باقاعدگی سے چیک کریں

٭ ابتدائی علامات پر فوری اقدامات کریں تاکہ حملہ شدید نہ ہو

٭ ادویات صرف ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق استعمال کریں

٭ ریسکیو انہیلر کے زیادہ استعمال پر فوری مشورہ لیں

تشخیص

دمہ کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر مختلف طریقے استعمال کرتا ہے۔ پہلے جسمانی معائنہ کیا جاتا ہے اور دیگر بیماریوں کو خارج کیا جاتا ہے۔

اہم ٹیسٹ میں شامل ہیں

٭ سپائرو میٹری کے ذریعے سانس کی رفتار اور مقدار کی پیمائش

٭ پیک فلو ٹیسٹ سے سانس چھوڑنے کی طاقت کی جانچ

اضافی ٹیسٹ

٭ الرجی ٹیسٹ

٭ ایکسرے

٭ میتھی کولین چیلنج ٹیسٹ

٭ نائٹرک آکسائیڈ ٹیسٹ

٭ ورزش یا سردی سے متاثرہ سانس کی جانچ

علاج

طویل مدتی کنٹرول کی ادویات

انہیلڈ سٹیرائڈز: سانس کی نالیوں کی سوجن کم کر کے دمہ کو قابو میں رکھتی ہیں

لیوکوٹرین موڈیفائرز: الرجی اور سوجن کم کرتی ہیں

کمبی نیشن انہیلرز: دمہ کو روزانہ کنٹرول میں رکھنے والی انہیلر

تھیوفیلین: سانس لینے میں آسانی پیدا کرتی ہے

فوری آرام دینے والی ادویات

شارٹ ایکٹنگ انہیلرز: دمہ کے حملے میں فوراً سانس کھولتی ہیں

اینٹی کولینرجک ادویات: سانس کی نالیوں کو آرام دیتی ہیں

سٹیرائڈ گولیاں یا انجیکشن: شدید حالت میں فوری آرام دیتے ہیں

الرجی کا علاج

الرجی شاٹس: جسم کو الرجی کے اثر سے کم حساس بناتے ہیں

بائیولوجک ادویات: شدید دمہ میں علامات کم کرنے کا خاص علاج

شدید کیسز میں

٭ برونکل تھرموپلاسٹی کے ذریعے سانس کی نالیوں کے پٹھوں کو کم کیا جاتا ہے تاکہ ان کی حساسیت کم ہو

دمہ کی مینجمنٹ

دم کا علاج مسلسل نگرانی اور وقتاً فوقتاً تبدیلی کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر علامات قابو میں ہوں تو دوا کم کی جا سکتی ہے اور اگر بڑھیں تو علاج بڑھایا جاتا ہے۔ باقاعدہ نگرانی اور ڈاکٹر سے رابطہ دمہ کے بہتر کنٹرول کے لیے ضروری ہے۔

Frequently Asked Questions (FAQs)

دمہ مکمل طور پر کیوں ختم نہیں ہوتا؟

دمہ سانس کی نالیوں کی دائمی حساسیت ہے جو وقت کے ساتھ مکمل ختم نہیں ہوتی

کیا دمہ صرف بچپن کی بیماری ہے؟

نہیں، یہ کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے اور بالغ افراد بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں

کیا دمہ کے مریض ورزش کر سکتے ہیں؟

جی ہاں، مناسب احتیاط اور دوا کے ساتھ ورزش ممکن اور فائدہ مند ہو سکتی ہے

دمہ کا حملہ کیسے روکا جا سکتا ہے؟

محرکات سے بچاؤ، باقاعدہ علاج اور ابتدائی علامات پر فوری اقدام سے حملہ روکا جا سکتا ہے

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=pulmonologist

Vinkmag ad

Read Previous

ٹریکوما

Read Next

سپائنل کارڈ انجری

Leave a Reply

Most Popular