ریڑھ کی ہڈی کے کسی حصے کو نقصان پہنچنے کو سپائنل کارڈ (Spinal cord injury) انجری کہتے ہیں۔ یہ چوٹ متعلقہ حصے سے نیچے والی جگہ کی طاقت اور دیگر افعال کو مستقل طور پر متاثر کرسکتی ہے اور فالج کا سبب بن سکتی ہے۔ تاہم علاج کے ذریعے بہت سے افراد بہتر زندگی گزار سکتے ہیں۔
علامات
اس کے باعث یہ علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:
٭ فالج
٭ گرمی، سردی یا چھونے کا احساس ختم یا کم ہونا
٭ توازن برقرار رکھنے میں دشواری
٭ پاخانے یا پیشاب پر کنٹرول ختم ہونا
٭ پٹھوں میں کھچاؤ
٭ جنسی افعال میں تبدیلی
٭ درد یا سوئیاں چبھنے کا احساس ہونا
٭ سانس، یا کھانسنے میں دشواری
ہنگامی صورتوں میں یہ علامات مثلاً گردن یا کمر میں شدید درد، جسم میں کمزوری یا سانس لینے میں دشواری وغیرہ شامل ہوسکتی ہیں۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
سر یا گردن پر چوٹ لگنے کی صورت میں فوراً طبی امداد حاصل کریں۔ چوٹ ہمیشہ فوری طور پر واضح نہیں ہوتی اور بروقت علاج سے مزید نقصان کو کم کیا سکتا ہے۔ اس لیے کہ اگر آپ کے سامنے کسی کو چوٹ پہنچے تو اسے جگہ سے ہلائیں نہیں۔ فوری ایمرجنسی نمبروں پر رابطہ کریں اور مدد آنے تک ابتدائی طبی امداد دیں۔ مثلاً اس کی گردن اور سر اور حرکت دئیے بغیر گردن کے دونوں سائیڈ پر تولیے رکھیں اور خون بہہ رہا ہو تو اسے روکیں۔
وجوہات
یہ ان وجوہات سے ہو سکتی ہے:
٭ ریڑھ کی ہڈی، مہرے یا رباطوں کو نقصان پہنچنا
٭ ٹریفک حادثات
٭ گر جانا (65 سال سے زائد عمر افراد میں یہ سب سے عام وجہ ہے)
٭ کھیلوں یا تفریحی سرگرمیوں کے دوران چوٹ لگنا
٭ گٹھیا، کینسر، سوزش، انفیکشن یا آسٹیوپوروسس وغیرہ کا شکار ہونا
پیچیدگیاں
سپائنل کارڈ انجری کے باعث سانس لینے یا کھانسنے میں دشواری ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ مثانے اور آنتوں کے مسائل، درد، پٹھوں کی کمزوری، جنسی صحت کے مسائل اور ڈپریشن وغیرہ ہوسکتا ہے۔
خطرے کے عوامل
یہ عوامل سپائنل کارڈ انجری کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں:
٭ 15 سے 29 سال یا 65 سال سے زیادہ عمر
٭ گاڑی یا موٹر سائیکل چلانا
٭ الکحل کا استعمال
٭ کھیلوں یا سرگرمیوں کے دوران حفاظتی تدابیر اختیار نہ کرنا
٭ آسٹیوپوروسس، گٹھیا، کینسر یا ڈسک وغیرہ کی بیماریوں کا شکار ہونا
تشخیص
اس کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر جسمانی معائنہ کرتے ہیں، چوٹ کے بارے میں تفصیلات لیتے ہیں اور چیک کرتے ہیں کہ متاثرہ شخص حرکت کرسکتا ہے یا کچھ محسوس کرسکتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر ایکسرے، سی ٹی سکین، ایم آر آئی وغیرہ کیے جاتے ہیں۔
علاج
ریڑھ کی ہڈی کو پہنچنے والے نقصان کو واپس نہیں کیا جاسکتا۔ علاج کا مقصد مزید نقصان کو روکنا اور مریض کو متحرک زندکی کی طرف واپس لانا ہے۔ اس کے لیے یہ آپشنز استعمال ہوتے ہیں:
٭ گردن کے کالر اور بورڈ کی مدد سے گردن اور ریڑھ کی ہڈی کو ایک جگہ رکھنا
٭ سرجری
٭ بحالی
٭ فزیوتھیراپی اور آکوپیشنل تھیراپی
٭ حرکت کرنے کے لیے وہیل چیئر اور دیگرآلات
سپائنل کارڈ انجری کے بعد صحت یابی کا انحصار چوٹ کی شدت پر ہوتا ہے۔ عموماً ابتدائی چھ ماہ میں زیادہ تیزی سے بہتری آتی ہے، لیکن بعض افراد میں یہ تبدیلی ایک سے دو سال بعد آتی ہے۔
بچاؤ کے طریقے
اپنی حفاظت کے لیے یہ کام کریں:
٭ گاڑی چلاتے وقت سیٹ بیلٹ اور بائیک چلاتے ہوئے ہیلمٹ پہنیں
٭ تیراکی کرنی ہو تو پہلے پانی کی گہرائی چیک کریں
٭ گرنے سے بچاؤ کے اقدامات کریں
٭ کھیلوں کے دوران حفاظتی سامان پہنیں
٭ نشے کی حالت میں گاڑی نہ چلائیں
Frequently Asked Questions (FAQs)
سپائنل کارڈ انجری کیا ہے؟
ریڑھ کی ہڈی کے کسی حصے کو نقصان پہنچنے کو سپائنل کارڈ انجری کہتے ہیں۔
کیا سپائنل کارڈ انجری فالج کا سبب بن سکتی ہے؟
جی ہاں، بعض صورتوں میں یہ جزوی یا مکمل فالج کا سبب بن سکتی ہے۔
کیا سپائنل کارڈ انجری مکمل طور پر ٹھیک ہو سکتی ہے؟
صحت یابی کا انحصار چوٹ کی شدت پر ہوتا ہے۔ عموماً ابتدائی چھ ماہ میں زیادہ تیزی سے بہتری آتی ہے، لیکن بعض افراد میں یہ تبدیلی ایک سے دو سال بعد آتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ کسی بھی طبی مسئلے یا چوٹ کی صورت میں مستند معالج سے مشورہ کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=orthopedic