Vinkmag ad

سفید موتیا کی سرجری

A patient undergoing cataract surgery in an operating room

سفید موتیا (Cataract surgery) کی سرجری ایک ایسا پروسیجر ہے جس میں آنکھ کے عدسے کو نکال کر اس کی جگہ مصنوعی عدسہ لگایا جاتا ہے۔ قدرتی عدسہ عام طور پر صاف ہوتا ہے جو اس مرض کی وجہ سے دھندلا ہو جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ بینائی کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

سفید موتیا کی سرجری ماہرِ امراضِ چشم کرتے ہیں۔ یہ عمل عام طور پر ہسپتال میں داخل ہوئے بغیر کیا جاتا ہے، یعنی سرجری کے بعد ہسپتال میں رکنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ عموماً محفوظ پروسیجر سمجھا جاتا ہے۔

کیوں کی جاتی ہے

یہ سرجری سفید موتیا کے علاج کے لیے کی جاتی ہے۔ سفید موتیا عدسے میں بے قاعدگیوں کی وجہ سے ہوتا ہے جو دھندلی نظر کا سبب بنتا ہے۔ سفید موتیا والے مریض کو تیز روشنی میں دیکھنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔ اگر یہ روزمرہ کی سرگرمیوں میں رکاوٹ بنے تو اس سرجری کا مشورہ دیا جا سکتا ہے۔

کبھی کبھار یہ سرجری اس وقت بھی تجویز کی جاتی ہے جب یہ آنکھ کے دیگر اندرونی مسائل کی تشخیص، مانیٹرنگ یا علاج میں مشکل پیدا کرے۔ ان میں عمر سے متعلق میکولر ڈیجنریشن یا ذیابیطس ریٹینوپیتھی شامل ہیں۔

سرجری پر غور کرتے وقت یہ سوالات ذہن میں رکھیں:

٭ کیا آپ ملازمت اور محفوظ ڈرائیونگ کے لیے مناسب حد تک دیکھ سکتے ہیں؟

٭ کیا آپ کو پڑھنے یا ٹی وی دیکھنے میں مشکل ہوتی ہے؟

٭ کیا کھانا پکانے، خریداری، سیڑھیاں چڑھنے یا دوائیں لینے میں مشکل ہوتی ہے؟

٭ کیا آپ کی بینائی آپ کی خود مختاری پر اثر ڈالتی ہے؟

٭ کیا تیز روشنی میں دیکھنا مزید مشکل ہو جاتا ہے؟

خطرات

سفید موتیا کی سرجری کے بعد پیچیدگیاں کم ہی ہوتی ہیں۔ اگر ہوں تو زیادہ تر صورتوں میں ان کا کامیابی سے علاج کیا جا سکتا ہے۔ ممکنہ خطرات میں شامل ہیں:

٭ سوجن

٭ انفیکشن

٭ خون بہنا

٭ پلک کا جھک جانا

٭ مصنوعی عدسے کا اپنی جگہ سے ہٹ جانا

٭ ریٹینا کا اپنی جگہ سے ہٹ جانا

٭ گلوکوما

٭ ثانوی سفید موتیا (پی سی او)۔ سرجری کے بعد جس جھلی میں مصنوعی عدسہ رکھا جاتا ہے، وہ وقت کے ساتھ دوبارہ دھندلی ہو سکتی ہے۔ اس دھندلاہٹ کو ثانوی سفید موتیا کہا جاتا ہے۔

٭ بینائی کا نقصان

اگر آپ کو آنکھ کی کوئی اور بیماری یا سنگین طبی مسئلہ ہو تو خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ بعض اوقات دیگر امراض جیسے گلوکوما یا میکولر ڈیجنریشن کی وجہ سے سرجری کے باوجود بینائی بہتر نہیں ہوتی۔ اس لیے بہتر ہے کہ پہلے آنکھوں کے دیگر مسائل کا جائزہ لیا جائے، اور ان کا علاج کیا جائے۔

تیاری کیسے کریں

خوراک اور ادویات

آپ کو سرجری سے 12 گھنٹے پہلے کھانے پینے سے منع کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر کچھ ایسی دوائیں عارضی طور پر بند کرنے کا کہہ سکتا ہے جو خون بہنے کا خطرہ بڑھاتی ہیں۔ پروسٹیٹ کی دوا استعمال کرنے والے مریض سرجری سے قبل اپنے معالج کو ضرور آگاہ کریں، کیونکہ بعض ادویات سرجری کے دوران پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہیں۔

انفیکشن کے خطرے کو کم کرنے کے لیے سرجری سے ایک یا دو دن پہلے آنکھ کے دوائی والے قطرے تجویز کیے جا سکتے ہیں۔

دیگر احتیاطیں

آپ عموماً اسی دن گھر جا سکتے ہیں، لیکن اس دن ڈرائیونگ ممکن نہیں ہوتی، لہٰذآ واپسی کے لیے بروقت انتظام کریں۔ ضرورت پڑنے پر گھر میں بھی مدد گار رکھیں۔ ڈاکٹر سرجری کے بعد کچھ دن جھکنے اور وزن اٹھانے جیسی سرگرمیوں سے منع کر سکتے ہیں۔

پروسیجر سے پہلے

سرجری سے پہلے ڈاکٹر آنکھ کا الٹراساؤنڈ کرتا ہے تاکہ آنکھ کے سائز اور شکل کا اندازہ لگایا جا سکے۔ اس سے درست مصنوعی عدسے کا انتخاب کیا جاتا ہے۔

مصنوعی عدسہ 

مصنوعی عدسہ نظر نہیں آتا اور نہ ہی محسوس ہوتا ہے۔ اسے کسی دیکھ بھال کی ضرورت نہیں ہوتی اور یہ مستقل طور پر آنکھ کا حصہ بن جاتا ہے۔ اس کی اقسام درج ذیل ہیں:

فکسڈ فوکس مونو فوکل

یہ لینز مخصوص فاصلے پر واضح بینائی فراہم کرتا ہے۔ اس سے عموماً دور کی نظر بہتر ہو جاتی ہے، جبکہ قریب دیکھنے کے لیے عینک کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

ملٹی فوکل یا ایکسٹینڈڈ ڈیپتھ آف فوکس

یہ لینز مختلف فاصلوں پر واضح دیکھنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔ اس سے دور اور قریب دونوں کی بینائی بہتر ہو سکتی ہے۔

ایسٹگمیٹزم درست کرنے والا (ٹورِک)

ایسٹگمیٹزم نظر کی ایک خرابی ہے جس میں کورنیا یا عدسے کی شکل مکمل گول ہونے کے بجائے غیر ہموار یا بیضوی ہو جاتی ہے۔ اس بگاڑ کی وجہ سے روشنی ایک ہی نقطے پر فوکس نہیں ہو پاتی۔ اس کے نتیجے میں نظر دھندلی ہو جاتی ہے اور دور یا قریب دونوں فاصلے متاثر ہو سکتے ہیں۔ مریض کو آنکھوں میں تھکن، دباؤ یا سر درد بھی محسوس ہو سکتا ہے۔ اس کیفیت کو عینک، ٹورک کانٹیکٹ لینز یا بعض صورتوں میں لیزر سرجری کے ذریعے درست کیا جا سکتا ہے۔

مصنوعی عدسہ پلاسٹک، ایکریلک یا سلیکون سے بنے ہوتے ہیں اور بعض الٹرا وائلٹ روشنی کو بھی روکتے ہیں۔ کچھ عدسے سخت ہوتے ہیں جبکہ زیادہ تر نرم ہوتے ہیں اور چھوٹے کٹ سے داخل کیے جاتے ہیں۔ نرم عدسے کو فولڈ کر کے اندر رکھا جاتا ہے اور اندر جا کر یہ کھل جاتا ہے۔

پروسیجر کے دوران

یہ سرجری عام طور پر ایک گھنٹے یا اس سے کم وقت میں مکمل ہو جاتی ہے اور یہ زیادہ تر آؤٹ پیشنٹ پروسیجر ہوتا ہے۔ پہلے آنکھ میں قطرے ڈال کر پُتلی کو بڑا کیا جاتا ہے، اور جگہ کو سن کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات سکون آور دوا بھی دی جاتی ہے۔

بعض اوقات مصنوعی عدسہ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی صورت میں قدرتی عدسہ نکال دیا جاتا ہے لیکن اس کی جگہ کچھ نہیں رکھا جاتا۔  پھر عینک یا کانٹیکٹ لینز سے بینائی درست کی جاتی ہے۔

سرجری کے طریقے

٭ عدسہ کو توڑ کر نکالنا (فیکوایمولسیفیکیشن): سب سے عام طریقہ ہے، جس میں الٹراساؤنڈ سے عدسہ کو توڑا اور نکالا جاتا ہے، پھر مصنوعی عدسہ لگایا جاتا ہے۔

٭ مکمل عدسہ نکالنا (ایکسٹرا کیپسولر ایکسٹریکشن): یہ کم استعمال ہوتا ہے۔ اس میں بڑا چیرا لگا کر پورا عدسہ نکالا جاتا ہے اور ٹانکے لگتے ہیں۔

سرجری کے بعد

سرجری کے بعد چند دنوں میں بینائی بہتر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ ابتدا میں دھندلا نظر آ سکتا ہے۔

سفید موتیا کی وجہ سے پہلے رنگ پھیکے لگتے ہیں، لیکن سرجری کے بعد زیادہ واضح محسوس ہوتے ہیں۔

زیادہ تر مریض اگلے دن ڈاکٹر کو دکھاتے ہیں، پھر ایک ماہ بعد فالو اپ ہوتا ہے۔ کچھ دن ہلکی خارش یا تکلیف ہو سکتی ہے، تاہم اسے گڑنے سے بچنا ضروری ہے۔

ڈاکٹر آئی پیچ یا شیلڈ پہننے کا مشورہ دے سکتا ہے، خاص طور پر سوتے وقت۔

اینٹی بائیوٹک اور سوجن کم کرنے والی دوائیں دی جا سکتی ہیں۔

زیادہ تر تکلیف دو دن میں ختم ہو جاتی ہے۔ مکمل شفایابی تقریباً آٹھ ہفتوں میں ہوتی ہے۔

اگر درج ذیل علامات ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں:

٭ نظر کمزور ہونا

٭ شدید درد

٭ آنکھ کی لالی میں اضافہ

٭ پلک کی سوجن

٭ آنکھ کے سامنے نظر آنے والے چھوٹے دھبے، دھاگے یا سائے جو تیرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں

زیادہ تر افراد کو سرجری کے بعد بھی عینک کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ عینک کا حتمی نمبر عموماً آنکھ مکمل طور پر ٹھیک ہونے کے بعد، یعنی ایک سے تین ماہ میں تجویز کیا جاتا ہے۔ اگر دونوں آنکھوں میں سفید موتیا ہو تو دوسری سرجری پہلی کے ٹھیک ہونے کے بعد کی جاتی ہے۔

نتائج

سفید موتیا کی سرجری زیادہ تر افراد کی بینائی بحال کر دیتی ہے۔ کبھی کبھار ثانوی سفید موتیا بھی ہو جاتا ہے، جسے پوسٹیریئر کیپسول اوپیسفیکیشن کہا جاتا ہے۔ اس کا علاج وائی اے جی لیزر کے ذریعے کیا جاتا ہے، جس میں دھندلے حصے میں ایک چھوٹا سا سوراخ بنا کر روشنی کا راستہ دوبارہ صاف کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد آنکھ کے دباؤ کی نگرانی کی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ طریقہ عموماً محفوظ ہے، تاہم شاذ و نادر صورتوں میں ریٹینا کے ہٹنے جیسی پیچیدگیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=ophthalmologist

Vinkmag ad

Read Previous

سی بی ٹی: سوچ اور رویے کا علاج

Read Next

آئرن کی کمی سے انیمیا

Leave a Reply

Most Popular