آئرن کی کمی سے ہونے والا انیمیا (Iron deficiency anemia) خون کی کمی کی ایک قسم ہے۔ جب جسم میں آئرن کی مقدار کم ہو جاتی ہے تو خون کے سرخ خلیوں کا ایک اہم جز، ہیموگلوبن مناسب مقدار میں نہیں بن پاتا۔ اس سے جسم کے مختلف حصوں تک آکسیجن کی فراہمی اور روزمرہ زندگی متاثر ہوسکتی ہے۔
علامات
بعض افراد میں ابتدائی طور پر کوئی واضح علامت ظاہر نہیں ہوتی۔ اگر علامات ظاہر ہوں تو وہ یہ ہو سکتی ہیں:
٭ تھکاوٹ، کمزوری اور سانس پھولنا
٭ جلد کا پیلا پڑ جانا
٭ ہاتھوں اور پاؤں کا ٹھنڈا اور ناخنوں کا کمزور ہونا
٭ زبان میں جلن ہونا
٭ بھوک کم لگنا
بعض افراد میں غیر غزائی اشیاء مثلاً مٹی وغیرہ کھانے کی خواہش ہوسکتی ہیں اور انہیں ڈٹرجنٹ یا صفائی کی دیگر اشیاء کی بو پسند آسکتی ہے۔
وجوہات
آئرن کی کمی کی چند عام وجوہات یہ ہیں:
٭ خون کا ضیاع
٭ خوراک میں آئرن کی کمی یا اس کا مناسب طور پر جذب نہ ہونا
٭ معدے یا آنتوں کی بعض بیماریاں
٭ بعض پین کلرز
خطرے کے عوامل
ان صورتوں میں اس کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے:
٭ وہ خواتین جن میں ماہواری کے دوران زیادہ خون بہتا ہو
٭ شیر خوار بچے
٭ بچے اور نوعمر افراد
٭ سبزی خور افراد
٭ معدے یا آنتوں کی سرجری کروانے والے افراد
٭ سیلیئک، کرونز یا السرٹیو کولائٹس کے مریض
٭ گردوں کی بیماری میں مبتلا افراد
٭ بار بار خون عطیہ کرنے والے افراد
پیچیدگیاں
آئرن کی معمولی کمی کسی سنگین مسئلے کا باعث نہیں بنتی تاہم علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ بڑھ کر پیچیدہ مسائل پیدا کرسکتی ہے مثلاً:
٭ دل کی کمزوری اور دھڑکن تیز ہونا
٭ حمل کے دوران پیچیدگیاں
٭ بچے کی قبل از وقت پیدائش
٭ بچوں کی نشوونما میں تاخیر
٭ انفیکشن کا بڑھتا ہوا خطرہ
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
ان صورتوں میں ڈاکٹر کو دکھانا ضروری ہے:
٭ مسلسل تھکاوٹ
٭ سانس پھولنا
٭ جلد غیر معمولی طور پر پیلی نظر آنا
٭ علامات کا وقت کے ساتھ بڑھنا
٭ بچے میں نشوونما کے مسائل نظر آنا
تشخیص
آئرن کی کمی سے ہونے والے انیمیا کی تشخیص کے لیے بلڈ، ہیموگلوبن اور فیریٹن کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ضرورت پڑنے پر خون کی کمی کی وجہ معلوم کرنے کے لیے اینڈوسکوپی، کولونوسکوپی یا الٹراساؤنڈ بھی کیا جا سکتا ہے۔
علاج
بیماری کی شدت اور وجہ کو مدنظر رکھتے ہوئے بالعموم یہ اپشنز تجویز کیے جاسکتے ہیں:
٭ آئرن سپلیمنٹس
٭ تیزاببت کم کرنے والی ادویات کا استعمال
آئرن کی شدید کمی کی صورت میں رگ کے ذریعے بھی آئرن دیا جاتا ہے جبکہ بعض صورتوں میں بلڈ ٹرانسفیوژن کی ضرورت پڑسکتی ہے۔
احتیاطی تدابیر
صحت بہتر رکھنے اور آئرن کی کمی سے بچاؤ کے لیے آئرن والی غذائیں مثلاً چھوٹا بڑا گوشت، پھلیاں، پالک اور دیگر سبز پتوں والی سبزیاں وغیرہ اور وٹامن سی سے بھرپور غذائیں مثلاً مالٹا، سٹرابری، ٹماٹر وغیرہ استعمال کریں۔ ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق سپلیمنٹس لیں، تجویز کردہ مدت تک علاج مکمل کریں۔
Frequently Asked Questions (FAQs)
آئرن کی کمی کی سب سے عام وجہ کیا ہے؟
خون کا ضیاع اور خوراک میں آئرن کی کمی۔
کیا آئرن سپلیمنٹس سے علاج ممکن ہے؟
زیادہ تر مریضوں میں آئرن سپلیمنٹس مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔
آئرن سپلیمنٹس کتنے عرصے تک استعمال کرنا پڑتے ہیں؟
بعض مریضوں کو چند ماہ یا اس سے زیادہ عرصے تک سپلیمنٹس لینا پڑ سکتے ہیں۔
کیا زیادہ آئرن نقصان دہ ہو سکتا ہے؟
جی ہاں، جسم میں آئرن کی بہت زیادہ مقدار نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق کسی بھی مسئلے کی صورت میں اپنے معالج سے مشورہ ضرور کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=oncologist