Vinkmag ad

میموگرام

A woman undergoing mammogram test in a hospital setting

میموگرام (Mamogram) چھاتی کے ٹشو کا ایکسرے ہے جو بریسٹ کینسر کی سکریننگ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسے بعض اوقات مشتبہ علامات کی مزید جانچ کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

میموگرام کے دوران ایک مشین چھاتی کو دو سخت سطحوں کے درمیان دبا کر ٹشو کو پھیلاتی ہے، جس کے بعد ایکسرے کے ذریعے چھاتی کی بلیک اینڈ وائیٹ تصاویر تیار کی جاتی ہیں۔ یہ تصاویر کمپیوٹر سکرین پر دیکھی جاتی ہیں اور ماہرین ان میں کینسر کی علامات تلاش کرتے ہیں۔ میموگرام چھاتی کے کینسر کی بروقت تشخیص میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور بیماری کو ابتدائی مرحلے میں پکڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے اموات کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔

روایتی میموگرام چھاتی کی 2 ڈی تصاویر بناتا ہے جبکہ 3 ڈی میموگرام زیادہ واضح اور تفصیلی تصاویر فراہم کرتا ہے۔ آج کل کئی طبی مراکز میں دونوں اقسام کے میموگرام دستیاب ہیں

کیوں کیا جاتا ہے

میموگرام چھاتی کے ایکسرے کے ذریعے کینسر اور دیگر غیر معمولی تبدیلیوں کا جائزہ لینے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ سکریننگ اور تشخیص دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے

سکریننگ میموگرام

سکریننگ میموگرام ان افراد میں کیا جاتا ہے جن میں کوئی واضح علامات موجود نہیں ہوتیں۔ اس کا مقصد بیماری کو ابتدائی مرحلے میں تلاش کرنا ہوتا ہے تاکہ علاج نسبتاً آسان ہو سکے۔

مختلف طبی اداروں کی سفارشات میں اس بات پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ سکریننگ کب شروع کی جائے۔ عمومی طور پر اوسط خطرے والی خواتین کو 40 سال کی عمر سے سکریننگ شروع کرنے اور اسے سالانہ بنیادوں پر دہرانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ بہتر فیصلے کے لیے ڈاکٹر سے فوائد اور ممکنہ خطرات پر مشورہ کرنا ضروری ہے

تشخیصی میموگرام

تشخیصی میموگرام مشتبہ علامات کی مزید جانچ کے لیے کیا جاتا ہے، جن میں نئی گلٹی، چھاتی میں درد، جلد میں تبدیلی، نپل کا موٹا ہونا یا نپل سے مادے کا اخراج شامل ہیں۔ یہ سکریننگ میں سامنے آنے والی غیر واضح رپورٹس کو مزید واضح کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور اس میں چھاتی کی زیادہ تفصیلی تصاویر لی جاتی ہیں

خطرات

٭میموگرام میں کم مقدار میں شعاعیں استعمال ہوتی ہیں

میموگرام میں نہایت کم مقدار میں تابکاری استعمال ہوتی ہے جو زیادہ تر افراد کے لیے محفوظ سمجھی جاتی ہے۔ عام طور پر اس کے فوائد اس کے ممکنہ خطرات سے زیادہ ہوتے ہیں

٭ میموگرام مزید ٹیسٹوں کا باعث بن سکتا ہے

اگر میموگرام میں کوئی غیر معمولی بات سامنے آئے تو اضافی ٹیسٹ درکار ہو سکتے ہیں۔ ان میں الٹراساؤنڈ یا بائیوپسی بھی شامل ہو سکتی ہے۔ بائیوپسی میں ٹشو کا نمونہ لے کر لیبارٹری میں جانچا جاتا ہے۔ بعض اوقات پرانی تصاویر سے موازنہ بھی کیا جاتا ہے اور دوسرے طبی مراکز سے ریکارڈ منگوایا جا سکتا ہے

٭ سکریننگ میموگرافی تمام کینسر ظاہر نہیں کرتی

کچھ کینسر جسمانی معائنے میں سامنے آ سکتے ہیں لیکن میموگرام میں نظر نہیں آتے، خاص طور پر جب وہ بہت چھوٹے ہوں یا مشکل جگہ پر موجود ہوں

٭ تمام کینسرز میموگرام سے قابل علاج نہیں ہوتے

چھاتی کے کچھ کینسر تیزی سے بڑھتے اور پھیلتے ہیں، اس لیے ان کا بروقت پتا چل جانا ہمیشہ مکمل علاج کی ضمانت نہیں ہوتا

تیاری کیسے کریں

میموگرام سے پہلے مناسب تیاری نتائج کو بہتر بنا سکتی ہے۔

٭ ٹیسٹ کا وقت ایسا منتخب کریں جب چھاتیاں کم حساس ہوں، عام طور پر ماہواری کے بعد کا ہفتہ بہتر سمجھا جاتا ہے

٭ اگر ممکن ہو تو پچھلے میموگرام کی تصاویر ساتھ لائیں تاکہ موازنہ کیا جا سکے، نئی جگہ جانے کی صورت میں یہ تصاویر سی ڈی میں حاصل کریں اور اپوائنٹمنٹ پر ساتھ لے جائیں

٭ میموگرام سے پہلے ڈیوڈورنٹ، اینٹی پرسپیرنٹ، پاؤڈر یا لوشن استعمال نہ کریں کیونکہ یہ تصاویر کے نتائج کو متاثر کر سکتے ہیں

آپ کیا توقع رکھ سکتے ہیں

ٹیسٹ کے دوران

میموگرام سینٹر میں مریض کو گاؤن پہننے اور اوپر کے کپڑے اتارنے کو کہا جاتا ہے۔ مریض میموگرافی مشین کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور عملہ ایک چھاتی کو پلیٹ فارم پر رکھ کر مناسب پوزیشن میں لاتا ہے۔ سر، بازو اور جسم کو درست زاویے پر رکھا جاتا ہے تاکہ تصویر واضح آئے۔ ایک شفاف پلیٹ چھاتی کو چند سیکنڈ کے لیے دباتی ہے تاکہ ٹشو پھیل جائے۔ یہ دباؤ تکلیف دہ ہو سکتا ہے لیکن نقصان دہ نہیں ہوتا۔ اگر تکلیف زیادہ ہو تو عملے کو آگاہ کرنا چاہیے۔ چھاتی کو دبانے کا مقصد تصویر کو واضح بنانا اور حرکت کو کم کرنا ہوتا ہے۔ ایکسرے کے دوران مریض کو سانس روک کر ساکت رہنے کو کہا جاتا ہے

ٹیسٹ کے بعد

میموگرام کے بعد تصاویر کا معیار چیک کیا جاتا ہے۔ اگر تصاویر واضح نہ ہوں تو کچھ حصہ دوبارہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ پورا عمل عام طور پر 30 منٹ سے کم وقت میں مکمل ہو جاتا ہے، جس کے بعد مریض اپنی معمول کی سرگرمیاں جاری رکھ سکتا ہے

نتائج

میموگرافی میں چھاتی کے ٹشو کی بلیک اینڈ وائیٹ تصاویر تیار ہوتی ہیں جو کمپیوٹر سکرین پر دیکھی جاتی ہیں۔ ریڈیالوجسٹ ان تصاویر کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے اور کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ نتائج ایک رپورٹ کی صورت میں متعلقہ طبی ٹیم کو فراہم کیے جاتے ہیں، جبکہ مریض کو بتایا جاتا ہے کہ رپورٹ کب اور کیسے حاصل کی جا سکتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=oncologist

Vinkmag ad

Read Previous

جگر کی پیوندکاری

Read Next

نیڈل بائیوپسی

Leave a Reply

Most Popular