جگر کی پیوندکاری (Liver transplant) ایک اہم سرجری ہے جس میں خراب جگر کو نکال کر صحت مند جگر لگایا جاتا ہے۔ نیا جگر فوت شدہ یا زندہ عطیہ دہندہ سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
یہ سرجری عموماً ان افراد کے لیے کی جاتی ہے جو جگر کی شدید طویل مدتی بیماری کے آخری مرحلے میں ہوں۔ کم صورتوں میں، یہ اس وقت بھی کی جاتی ہے جب جگر اچانک کام کرنا بند کر دے۔ زیادہ تر پیوندکاریاں فوت شدہ عطیہ دہندگان کے جگر سے کی جاتی ہیں، اس لیے عطیہ شدہ جگر کی اکثر قلت رہتی ہے۔ ایسے میں زندہ عطیہ دہندہ سے جگر کا حصہ لینا ایک متبادل طریقہ ہے، اس لیے کہ جگر سرجری کے بعد دوبارہ بڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جگر کیا کام کرتا ہے؟
جگر انسانی جسم کا سب سے بڑا اندرونی عضو ہے اور یہ کئی بنیادی کام انجام دیتا ہے:
٭ غذائی اجزاء، ادویات اور ہارمونز کو پراسیس کرتا ہے
٭ بائل تیار کرتا ہے، جو چکنائی، کولیسٹرول اور وٹامن جذب کرنے میں مدد دیتا ہے
٭ ایسے پروٹین بناتا ہے جو خون کو جمنے میں مدد دیتے ہیں
٭ خون سے بیکٹیریا اور زہریلے مادے خارج کرتا ہے
٭ جسم کو انفیکشن سے لڑنے میں مدد فراہم کرتا ہے
پیوندکاری کیوں کی جاتی ہے
جگر کی پیوندکاری جگر فیل ہونے والے مریضوں کے لیے ایک مؤثر علاج ہے۔ بعض صورتوں میں یہ جگر کے کینسر میں بھی کی جاتی ہے، خاص طور پر جب دیگر علاج مؤثر نہ رہیں۔
جگر فیل ہونے کی دو بنیادی اقسام ایکیوٹ اور کرانک ہیں۔ ایکیوٹ چند ہفتوں میں ہوتی ہے، جبکہ کرانک مہینوں یا سالوں میں پیدا ہوتی ہے۔ ایکیوٹ کی صورت میں جگر کم ہی فیل ہوتا ہے۔ ایسا اکثر ادویات کے استعمال یا انفیکشن کے باعث ہوتا ہے۔ زیادہ تر کیسز میں پیوندکاری دائمی جگر فیل کے علاج کے لیے کی جاتی ہے۔ اس کی سب سے عام وجہ جگر کا سکڑ جانا، یعنی سروسس ہے۔ اس حالت میں جگر کے صحت مند ٹشو کی جگہ داغ دار ٹشو لے لیتا ہے، جس سے جگر درست کام نہیں کر پاتا۔
سروسس کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں:
٭ ہیپاٹائٹس بی یا سی
٭ الکحل کا زیادہ استعمال، جو جگر کو شدید نقصان پہنچاتا ہے
٭ میٹابولک بیماری، جس میں جگر میں چکنائی جمع ہو جاتی ہے
٭ جینیاتی بیماریاں جیسے ہیموکرومیٹوسس اور ولسن بیماری
٭ بائل ڈکٹ کی بیماریاں
خطرات
جگر کی پیوندکاری ایک بڑی سرجری ہے، جس میں کئی سنجیدہ خطرات شامل ہوتے ہیں۔ یہ خطرات سرجری اور بعد کی ادویات، دونوں سے متعلق ہو سکتے ہیں۔ ممکنہ پیچیدگیاں یہ ہو سکتی ہیں:
٭ بائل ڈکٹ کے مسائل
٭ خون بہنا
٭ خون کے کلاٹ بننا
٭ عطیہ شدہ جگر کا فیل ہونا
٭ انفیکشن
٭ جسم کا نئے جگر کو رد کرنا
٭ ذہنی الجھن یا دورے
وقت کے ساتھ یہ امکان بھی رہتا ہے کہ جگر کی پرانی بیماری نئے جگر میں دوبارہ ظاہر ہو جائے۔
ادویات کے مضر اثرات
پیوندکاری کے بعد مریض کو عمر بھر مخصوص ادویات لینا پڑتی ہیں، جو جسم کو نئے جگر کو رد کرنے سے روکتی ہیں۔ ان ادویات کے ممکنہ مضر اثرات میں شامل ہیں:
٭ ہڈیوں کی کمزوری
٭ ذیابیطس
٭ اسہال
٭ سر درد
٭ ہائی بلڈ پریشر
٭ کولیسٹرول میں اضافہ
چونکہ یہ ادویات مدافعتی نظام کو کمزور کرتی ہیں، اس لیے انفیکشن کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
تیاری کیسے کریں
ٹرانسپلانٹ سینٹر کا انتخاب
اگر ڈاکٹر پیوندکاری تجویز کرے تو آپ کو کسی مخصوص سینٹر بھیجا جا سکتا ہے، یا آپ خود بھی انتخاب کر سکتے ہیں۔ سینٹر کے انتخاب میں درج ذیل پہلو اہم ہوتے ہیں:
٭ سالانہ سرجریوں کی تعداد اور نوعیت
٭ کامیابی اور پیوندکاری کے بعد زندہ رہنے کی شرح
٭ اخراجات، جن میں ٹیسٹ، سرجری اور بعد کی دیکھ بھال شامل ہے
٭ اضافی سہولیات جیسے سپورٹ گروپس اور رہائش
٭ جدید ٹیکنالوجی اور طریقۂ علاج کا استعمال
سینٹر منتخب کرنے کے بعد مکمل طبی جانچ کی جاتی ہے، تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ مریض پیوندکاری کے لیے موزوں ہے یا نہیں۔ اس جانچ کا مقصد یہ جاننا ہوتا ہے کہ مریض سرجری اور بعد کی ادویات کے لیے جسمانی طور پر تیار ہے، کوئی ایسی بیماری موجود نہیں جو نتائج کو متاثر کرے، اور مریض ہدایات پر عمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس عمل میں مختلف ٹیسٹ شامل ہوتے ہیں:
٭ خون اور پیشاب کے ٹیسٹ
٭ جگر کا الٹراساؤنڈ
٭ دل کا معائنہ
٭ عمومی صحت کا جائزہ
مزید جائزوں میں شامل ہو سکتے ہیں:
٭ غذائی مشورہ
٭ نفسیاتی معائنہ
٭ سماجی مدد کا جائزہ
٭ نشہ چھوڑنے کی رہنمائی
٭ مالی مشاورت
تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد ماہرین کی کمیٹی پیوندکاری کا فیصلہ کرتی ہے۔ اگر مریض موزوں ہو تو اسے ویٹنگ لسٹ میں شامل کر لیا جاتا ہے۔
طریقہ کار
سرجری سے پہلے
ویٹنگ لسٹ
مریض کی حالت کی شدت جانچنے کے لیے مختلف ٹیسٹ کیے جاتے ہیں، اور انہی کی بنیاد پر فہرست میں اس کی ترجیح طے کی جاتی ہے۔ بالغوں کے لیے ”ایم ای ایل ڈی” اور بچوں کے لیے ”پی ای ایل ڈی” سکور استعمال ہوتا ہے۔ زیادہ سکور کا مطلب زیادہ فوری ضرورت ہے۔ جگر دستیاب ہونے پر خون کے گروپ اور سکور کے مطابق مریض کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ زیادہ سکور والے مریض کو ترجیح دی جاتی ہے۔
جگر کا انتظار
انتظار کا دورانیہ مختلف ہو سکتا ہے۔ کچھ مریضوں کو جلد جگر مل جاتا ہے، جبکہ کچھ کو مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس دوران میڈیکل ٹیم مریض کا خیال رکھتی ہے، اور اگر بیماری بڑھ جائے تو سکور کو اپڈیٹ کیا جاتا ہے۔
زندہ عطیہ دہندہ
زندہ عطیہ دہندہ سے جگر کی پیوندکاری ایک مؤثر متبادل ہے، جو انتظار کے خطرات کم کر سکتی ہے۔ زیادہ تر عطیہ دہندگان مریض کے قریبی رشتہ دار یا دوست ہوتے ہیں، اور ان کی مکمل طبی جانچ کی جاتی ہے۔
ڈومینو پیوندکاری
یہ ایک کم استعمال ہونے والا طریقہ ہے، جس میں ایک مریض کا جگر دوسرے کو منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ مخصوص جینیاتی بیماریوں میں استعمال ہوتا ہے، اور مریض کا انتخاب احتیاط سے کیا جاتا ہے۔
صحت مند رہنا
چاہے آپ انتظار میں ہوں یا سرجری طے ہو چکی ہو، آپ کے لئے اپنی صحت برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اس کے لئے:
٭ ادویات باقاعدگی سے لیں
٭ متوازن غذا کھائیں اور ورزش کریں
٭ ڈاکٹر سے مسلسل رابطہ رکھیں
٭ مثبت اور آرام دہ سرگرمیوں میں حصہ لیں
سرجری کے دوران
فوت شدہ عطیہ دہندہ کی صورت میں مریض کو فوری ہسپتال بلایا جاتا ہے۔ سرجری عمومی بے ہوشی میں کی جاتی ہے۔ سرجن پیٹ میں کٹ لگا کر پرانا جگر نکالتا ہے اور نیا جگر نصب کرتا ہے۔ پھر خون کی نالیاں اور بائل ڈکٹس جوڑ دی جاتی ہیں۔ یہ پروسیجر تقریباً 12 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔
زندہ عطیہ دہندہ کی سرجری
اس صورت میں دونوں افراد کی سرجری پہلے سے طے ہوتی ہے، جہاں عطیہ دہندہ سے جگر کا حصہ نکال کر مریض میں منتقل کیا جاتا ہے۔ چند ماہ میں دونوں افراد کے جگر اپنی اصل جسامت کے قریب پہنچ جاتے ہیں۔
سرجری کے بعد
پیوندکاری کے بعد مریض کو درج ذیل مراحل سے گزرنا پڑتا ہے:
٭ چند دن انتہائی نگہداشت یونٹ میں قیام
٭ 5 سے 10 دن ہسپتال میں رہائش
٭ گھر واپسی کے بعد باقاعدہ معائنے
٭ عمر بھر ادویات کا استعمال
مکمل صحت یابی میں عموماً چھ ماہ یا اس سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
نتائج
زندہ رہنے کی شرح
عمومی طور پر تقریباً 75 فیصد مریض سرجری کے بعد کم از کم پانچ سال تک زندہ رہتے ہیں، جبکہ تقریباً 60 فیصد مریض 10 سال یا اس سے زیادہ عرصہ زندہ رہتے ہیں۔ زندہ عطیہ دہندہ سے جگر حاصل کرنے والے مریضوں کے ابتدائی نتائج بہتر ہوتے ہیں، تاہم طویل مدتی موازنہ مختلف عوامل کی وجہ سے مشکل ہوتا ہے۔ مختلف ٹرانسپلانٹ سینٹرز میں کامیابی کی شرح مختلف ہو سکتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=liver-transplant