Vinkmag ad

وٹلائيگو: پھلبہری کیا ہے؟

وٹیلائگو (Vitiligo) کو برص یا پھلبہری بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک جلدی بیماری ہے جس میں جلد کے مخصوص حصوں کی رنگت ختم ہو جاتی ہے اور وہاں سفید یا ہلکے دھبے ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ یہ دھبے وقت کے ساتھ بڑھ سکتے ہیں اور جسم کے کسی بھی حصے کو متاثر کر سکتے ہیں۔ بعض صورتوں میں یہ مرض بالوں اور منہ کے اندرونی حصوں تک بھی پھیل جاتا ہے۔

یہ بیماری ہر عمر اور ہر رنگت کے افراد میں ہو سکتی ہے، تاہم گہری جلد رکھنے والے افراد میں یہ زیادہ واضح نظر آتی ہے۔ وٹیلائگو نہ تو متعدی ہے اور نہ ہی جان لیوا، تاہم اس کے نفسیاتی اور سماجی اثرات اہم ہو سکتے ہیں۔

علامات

وٹیلائگو کی علامات درج ذیل ہیں:

٭ جلد پر سفید یا ہلکے دھبوں کی صورت میں رنگت کا ختم ہونا، جو عموماً ہاتھوں، چہرے اور جسم کے کھلے حصوں پر ظاہر ہوتے ہیں

٭ سر کے بالوں، بھنوؤں، پلکوں یا داڑھی کا قبل از وقت سفید یا سرمئی ہو جانا

٭ منہ اور ناک کے اندرونی حصوں کی جھلیوں (جو ان حصوں کو ڈھانپتی ہیں) سے رنگت کا ختم ہو جانا

یہ بیماری کسی بھی عمر میں شروع ہو سکتی ہے، لیکن زیادہ تر 30 سال کی عمر سے پہلے ظاہر ہوتی ہے۔

اقسام

وٹیلائگو مختلف انداز میں ظاہر ہو سکتا ہے:

٭ یونیورسل وٹیلائگو میں تقریباً پوری جلد متاثر ہو جاتی ہے

٭ جنرلائزڈ وٹیلائگو میں جسم کے مختلف حصوں پر متوازن دھبے ظاہر ہوتے ہیں

٭ سیگمنٹل وٹیلائگو جسم کے ایک حصے تک محدود رہتا ہے اور کچھ عرصے بعد رک جاتا ہے

٭ لوکلائزڈ وٹیلائگو میں صرف چند محدود حصے متاثر ہوتے ہیں

٭ ایکروفیشل وٹیلائگو میں چہرہ، ہاتھ اور جسم کے کھلے حصے متاثر ہوتے ہیں

بیماری کے بڑھنے کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے، بعض اوقات یہ رک جاتی ہے اور بعض صورتوں میں آہستہ آہستہ پھیلتی رہتی ہے۔

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

اگر جلد، بالوں یا اندرونی جھلیوں میں رنگت کی واضح کمی ظاہر ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ اگرچہ اس کا مکمل علاج موجود نہیں، لیکن بروقت علاج سے بیماری کے پھیلاؤ کو کم کیا جا سکتا ہے اور کچھ حد تک رنگ واپس لایا جا سکتا ہے۔

وجوہات

جلد اور بالوں کا رنگ میلانن نامی مادے سے بنتا ہے۔ وٹیلائگو اس وقت ہوتا ہے جب میلانن بنانے والے خلیے (میلانوسائٹس) کام کرنا بند کر دیں یا ختم ہو جائیں۔ اس کی حتمی وجہ واضح نہیں، تاہم ممکنہ عوامل درج ذیل ہو سکتے ہیں:

٭ مدافعتی نظام کی خرابی جس میں جسم اپنے ہی خلیوں پر حملہ کرتا ہے

٭ موروثی اثرات یعنی خاندان میں بیماری کی موجودگی

٭ شدید ذہنی دباؤ، دھوپ سے جھلسنا یا جلد کا کیمیکل سے متاثر ہونا

خطرے کے عوامل

یہ بیماری کسی کو بھی ہو سکتی ہے، لیکن خطرہ ان افراد میں زیادہ ہوتا ہے جن میں:

٭ فیملی میں وٹیلائگو کی تاریخ موجود ہو

٭ فینول پر مشتمل کیمیکلز سے بار بار رابطہ ہو، جیسے صفائی کے استعمال میں استعمال ہونے والا مواد

پیچیدگیاں

وٹیلائگو بعض افراد میں درج ذیل مسائل پیدا کر سکتا ہے:

٭ ذہنی اور سماجی دباؤ

٭ دھوپ سے جلد کے جلنے کا زیادہ خطرہ

٭ آنکھوں سے متعلق مسائل

٭ بعض صورتوں میں سماعت میں کمی

تشخیص

ڈاکٹر مریض کی طبی تاریخ لیتا ہے اور جلد کا معائنہ کرتا ہے۔ بعض اوقات خصوصی لیمپ، جلد کی بایوپسی اور خون کے ٹیسٹ بھی کیے جاتے ہیں تاکہ درست تشخیص ممکن ہو سکے۔

علاج

علاج کا انتخاب بیماری کی شدت، پھیلاؤ اور مریض کی حالت کے مطابق کیا جاتا ہے۔ ادویات اور روشنی پر مبنی علاج سے جلد کی رنگت بحال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تاہم نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔ بعض صورتوں میں ایک سے زیادہ طریقے استعمال کیے جاتے ہیں اور علاج میں وقت لگ سکتا ہے۔

ادویات

٭ کورٹیکوسٹیرائیڈ کریم ابتدائی مراحل میں سوزش کم کر کے رنگت واپس لا سکتی ہے، تاہم جلد پتلی ہونے جیسے سائیڈ ایفیکٹس ہو سکتے ہیں

٭ ٹیکرولیمس اور پائمیکرولیمس جیسے مرہم چھوٹے حصوں میں مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

٭ رکسولٹینیب ایک جدید دوا ہے جو 12 سال سے زائد عمر کے افراد میں رنگت بحال کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے

تھیراپیز

٭ الٹرا وائلٹ بی لائٹ تھراپی بیماری کے پھیلاؤ کو سست کر سکتی ہے اور اثر ظاہر ہونے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں

٭ ڈی پیگمینٹیشن میں باقی جلد کا رنگ ختم کر کے یکساں رنگت بنائی جاتی ہے، جو مستقل ہوتی ہے

سرجری

٭ جلد کی پیوند کاری میں صحت مند جلد متاثرہ حصوں پر منتقل کی جاتی ہے

٭ بلسٹر گرافٹنگ میں جلد کے چھوٹے حصے متاثرہ جگہ پر لگائے جاتے ہیں

٭ سیل ٹرانسپلانٹ میں جلد کے خلیے متاثرہ حصے میں منتقل کیے جاتے ہیں اور نتائج چند ہفتوں میں ظاہر ہو سکتے ہیں

مستقبل کے ممکنہ علاج

٭ میلانو سائٹس کو بڑھانے والی ادویات پر تحقیق جاری ہے

٭ پروسٹاگلینڈن ای2 جیل جلد کی رنگت بحال کرنے کے لیے تجرباتی مرحلے میں ہے

احتیاطی تدابیر

٭ جلد کو دھوپ سے بچانے کے لیے سن سکرین کا باقاعدہ استعمال کریں

٭ میک اپ یا سیلف ٹیننگ مصنوعات سے دھبے مؤثر طریقے سے چھپائے جا سکتے ہیں

٭ ٹیٹو بنوانے سے پرہیز کریں کیونکہ جلد کی چوٹ نئی جگہوں پر دھبے پیدا کر سکتی ہے

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

یووائٹس: آنکھ کی سوزش

Read Next

جھریاں

Leave a Reply

Most Popular