Vinkmag ad

درد کے ساتھ ماہواری

Woman sitting on bed holding her lower abdomen in pain, experiencing menstrual cramps (dysmenorrhea) during painful periods

درد کے ساتھ ماہواری (Painful periods) یا ڈس مینوریا (Dysmenorrhea) ایک عام مگر بعض اوقات شدید تکلیف دہ طبی کیفیت ہے۔ یہ درد مختلف خواتین میں مختلف شدت کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے اور بعض صورتوں میں روزمرہ زندگی متاثر کر دیتا ہے۔

علامات

ماہواری کے درد عام طور پر درج ذیل علامات کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں:

٭ پیٹ کے نچلے حصے میں کھچاؤ، دباؤ یا دھڑکن جیسا درد

٭ درد جو ماہواری سے پہلے شروع ہو کر ابتدائی دنوں میں زیادہ شدید ہو جاتا ہے

٭ درد کا کمر اور رانوں تک پھیل جانا

٭ مسلسل یا وقفے وقفے سے ہونے والی تکلیف

بعض خواتین میں اضافی علامات بھی دیکھی جا سکتی ہیں، جیسے:

٭ متلی

٭ سر درد

٭ چکر آنا

٭ ہاضمے کی خرابی

وجوہات

ماہواری کے دوران رحم اپنی اندرونی جھلی (اینڈومیٹریئم) کو خارج کرتا ہے، جو ٹوٹ کر خون، ٹشو اور سیال کی صورت میں جسم سے باہر نکلتی ہے۔ اس عمل میں پروسٹاگلینڈنز (prostaglandins) نامی کیمیائی مادے اہم کردار ادا کرتے ہیں، جو رحم کے سکڑاؤ کو بڑھا کر درد اور سوزش میں اضافہ کرتے ہیں۔ ہارمونی تبدیلیاں بھی رحم کے سکڑاؤ کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔

طبی وجوہات

کچھ طبی بیماریاں ماہواری کے درد کو غیر معمولی طور پر شدید بنا سکتی ہیں:

٭ اینڈومیٹریوسس میں رحم جیسا ٹشو رحم کے باہر بڑھنے لگتا ہے

٭ فائبرائڈز رحم کی دیوار میں غیر سرطانی رسولیاں ہوتی ہیں

٭ ایڈینومیوسس میں رحم کی اندرونی جھلی پٹھوں میں داخل ہو جاتی ہے

٭ پیلوک انفلیمٹری ڈیزیز تولیدی اعضاء میں انفیکشن اور سوزش پیدا کرتی ہے

٭ سرویکل سٹینوسس میں رحم کا منہ تنگ ہو کر درد اور دباؤ بڑھاتا ہے

کب ڈاکٹر سے رجوع کریں

درج ذیل حالات میں فوری طبی مشورہ ضروری ہے:

٭ درد ہر ماہ معمولات زندگی متاثر کرے

٭ درد وقت کے ساتھ بڑھتا جائے

٭ 25 سال کے بعد اچانک شدید درد شروع ہو

٭ عام ادویات سے آرام نہ ملے

تشخیص

ڈاکٹر مریض کی میڈیکل ہسٹری اور جسمانی معائنہ کرتا ہے جس میں پیلوک ایگزام شامل ہے۔ مزید تشخیص کے لیے مختلف ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں:

٭ الٹراساؤنڈ، رحم اور تولیدی اعضا کی تصاویر کے لیے

٭ سی ٹی اسکین یا ایم آر آئی زیادہ تفصیلی معائنے کے لیے

٭ لیپروسکوپی، بعض پیچیدہ کیسز میں اندرونی معائنے کے لیے

علاج

علاج کا انتخاب درد کی شدت اور بنیادی وجہ کے مطابق کیا جاتا ہے:

٭ اینٹی انفلیمیٹری ادویات درد اور سوزش کم کرتی ہیں

٭ ہارمونی مانع حمل ادویات ہارمونی توازن بہتر بنا کر درد کم کرتی ہیں

٭ بعض پیچیدہ کیسز میں سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے

احتیاطی تدابیر

طرزِ زندگی میں چند تبدیلیاں علامات کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتی ہیں:

٭ پیٹ کے نچلے حصے پر گرم ٹکور درد اور اکڑن میں واضح کمی لاتی ہے

٭ باقاعدہ ورزش ہارمونی توازن بہتر کرتی ہے

٭ مناسب نیند اور آرام جسمانی دباؤ کم کرتے ہیں

٭ ذہنی دباؤ میں کمی درد کی شدت گھٹاتی ہے

٭ وٹامنز اور معدنیات بعض خواتین میں مفید ثابت ہو سکتے ہیں

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

زیادہ فعال مثانہ: بار بار پیشاب کی حاجت

Read Next

شخصیت کے عوارض

Leave a Reply

Most Popular