شدید سردی اور برفباری کے دوران ہائپوتھرمیا کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ ڈاکٹر بین ویسٹن ملواکی کاؤنٹی آفس آف ایمرجنسی مینجمنٹ کے ہیلتھ پالیسی ڈائریکٹر ہیں۔ ان کے مطابق مطابق ہلکے ہائپوتھرمیا میں جسمانی درجہ حرارت 32 سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہتا ہے۔ اس میں کپکپی، شدید تھکن، کمزور نبض اور جسمانی توازن میں کمی کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ اگر کپکپی زیادہ ہو تو متاثرہ شخص کو فوری طور پر گرم جگہ منتقل کرنا ضروری ہے۔
ڈاکٹر مہروترا یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا کے ایمرجنسی میڈیسن فزیشن ہیں۔ ان کے مطابق درمیانے درجے کے ہائپوتھرمیا میں جسمانی درجہ حرارت 28 سے 32 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔ اس میں بولنے میں دشواری اور دل کی دھڑکن سست ہو سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ 28 ڈگری سے کم پر جسم کے اہم نظام متاثر ہوتے ہیں۔ ایسے میں کوما یا موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بس لیے بچوں، بزرگوں اور طویل مدتی بیماریوں میں مبتلا افراد کو خصوصی احتیاط برتنی چاہیے۔
ماہرین کے مطابق شدید سرد موسم میں کئی تہوں پر مشتمل کپڑے پہننے چاہئیں۔ سر، ہاتھوں اور پاؤں کو ڈھانپنا ضروری ہے۔ وقفے وقفے سے پانی پیتے رہنا چاہیے۔ چھوٹے بند کمروں میں گیس ہیٹر یا اوون کا استعمال کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔