ماہرین صحت کے مطابق پاکستان میں ذیابیطس کے حوالے سے آخری قومی سروے 17-2016 میں ہوا تھا۔ تب سے ملک میں موٹاپے کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ جسمانی سرگرمیوں میں کمی اور غیر صحت مند غذاؤں کا استعمال بھی بڑھ گیا ہے۔ اس لیے پرانا ڈیٹا اب حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ایسے میں اس مرض سے نپٹنے کیلئے نئے قومی سروے کی اشد ضرورت ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر عبدالباسط، پاکستان کے معروف ڈایابیٹالوجسٹ اور ذیابیطس ایشیا سٹڈی گروپ کے صدر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف تازہ اعداد و شمار کافی نہیں ہیں۔ سستی ادویات، مضبوط پرائمری کیئر، تربیت یافتہ ڈاکٹرز اور مریضوں کے رجسٹر بھی ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیا قومی سروے بین الاقوامی معیار کا ہونا چاہیے۔ بہتر نتائج کیلئے اس میں حکومت اور نجی شعبے کا مالی اور تکنیکی اشتراک ضروری ہے۔