پاکستان نے نپاہ وائرس کے خطرے کے پیش نظر تمام داخلی راستوں پر سکریننگ شروع کر دی ہے۔ تمام ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور زمینی راستوں پر 100 فیصد سکریننگ لازمی ہوگی۔ ہر فرد کا پچھلے 21 دن کا سفرنامہ بھی چیک کیا جائے گا۔
بارڈر ہیلتھ سروسز نے مشتبہ علامات پر خصوصی توجہ دینے کا حکم دیا ہے۔ ان میں بخار، سانس میں دقت، سر درد یا اعصابی مسائل نمایاں ہیں۔ مشتبہ کیسز کو فوری آئسولیشن میں منتقل کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ حفاظتی اقدامات جاری رہیں گے تاکہ کسی ممکنہ پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
نپاہ وائرس قریبی رابطے، متاثرہ شخص کے جسمانی مائع، سانس یا تھوک کے ذریعے انسان سے انسان میں منتقل ہو سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وائرس کی اموات کی شرح 40 سے 75 فیصد ہے۔ فی الحال اس کی کوئی منظور شدہ ویکسین دستیاب نہیں۔ علاج زیادہ تر معاونتی ہے، جس میں بخار، سانس کی دشواری اور اعصابی مسائل سے نپٹنا شامل ہے۔ شدید مریضوں کو ہسپتال میں داخل کرنا اور بعض اوقات وینٹیلیٹر پر ڈالنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔