ماہرین صحت کے مطابق طویل اوقات کار پاکستانی ڈاکٹروں کی صحت کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ یہ انتباہ اسلام آباد میں میڈی ورس کے تحت منعقدہ قومی علمی فورم ”لائف اِن اے میٹرو” میں سامنے آیا۔
مقررین کے مطابق برن آؤٹ کی کیفیت طویل دباؤ، زیادہ کام اور آرام کی کمی سے پیدا ہوتی ہے۔ اس میں شدید تھکن، بے دلی، توجہ کی کمی اور جذباتی دباؤ شامل ہوتا ہے۔ ماہرین نے بتایا کہ تقریباً 10 میں سے 6 ڈاکٹر اس کیفیت کا شکار ہیں۔ صرف ایک تہائی معالج اس سلسلے میں پیشہ ورانہ طبی یا نفسیاتی مدد حاصل کرتے ہیں۔
انٹروینشنل کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر ایم ریحان عمر صدیقی نے کہا کہ طویل اوقات کار اور نیند کی کمی ان کے بنیادی مسائل ہیں۔ مسلسل دباؤ ڈاکٹروں کو امراضِ قلب، ذیابیطس اور ڈپریشن کی طرف دھکیل رہا ہے۔ کنسلٹنٹ ماہرِ نفسیات ڈاکٹر کلثوم حیدر کے مطابق طویل ذہنی دباؤ اکثر جسمانی علامات میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
مقررین نے زور دیا کہ صحت کی نگہداشت کرنے والوں کی اپنی صحت کا تحفظ پورے نظامِ صحت کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔