سبزیاں, 10 فائدے

397

متوازن غذا اور جسمانی سرگرمیاں صحت مند طرز زندگی کی بنیاد ہیں۔ اگر ہم غذا کی بات کریں تو بہت سے لوگوں کی عادات کچھ ایسی بن‘ بلکہ بگڑ گئی ہیں کہ سبزیاں کھانے کو دل ہی نہیں چاہتا۔ بچے ‘ بڑے اور خواتین یا تو گوشت کھانا چاہتے ہیں یا پھر چاولوں کی طرف ان کا دھیان جاتا ہے ۔اگر سبزیوں کو نظرانداز کیا جائے تو یہ سب کچھ کھانے کے باوجود اچھی صحت کا حصول ممکن نہیں‘ اس لئے کہ قدرت نے ان میں انسانی جسم کیلئے ضروری چیزیں رکھی ہیں۔ اس لئے اپنی غذاءمیں سبزی کا استعمال لازمی رکھئے ۔ماہر غذائیات ثمرین منظور نے زیر نظر مضمون میں کچھ سبزیوں کے طبی فوائد بیان کئے ہیں


1:کریلے‘ کڑوے مگر اکسیر
کریلے بلغم کو دور کرتے ہےں۔ان میں پاخانہ لانے والے اجزاءبھی پائے جاتے ہیں۔ان کی ترکاری نظامِ ہضم کو درست رکھتی ہے۔یہ لبلبے کی اصلاح کرتا ہے اور شوگر کے مریضوں کے لیے عمدہ ہے۔ جگر کے امراض کی صورت میں بھی اس کا استعمال اچھا ہے۔ یہ قبض کشا ہونے کے ساتھ ساتھ موٹاپا کم کرنے کے لیے بھی مفید ہے۔
ایک سو گرام کریلوں میں پروٹین 1.6فی صد،چکنائی 0.2 فی صد،کاربوہائیڈریٹس 4.2 فی صد، کیلشیم30ملی گرام ،آئرن 18ملی گرام اوروٹامن سی 88ملی گرام پائے جاتے ہیں۔

2:کدو‘ سنت بھی صحت بھی
کدو حضور اکرم کی پسندیدہ سبزی ہے۔ یہ ایک ہلکی غذا ہے جو نہ صرف جلد ہضم ہو جاتا ہے بلکہ دوسری غذاﺅں کو ہضم ہونے میں بھی مدد کرتا ہے۔ پاﺅں اور ہاتھوں کی گرمی دور کرنے کے لیے اسے کاٹ کر پھیرنا مفید ہے۔
ایک کپ پکے ہوئے کدو میںپوٹاشیم 564ملی گرام ،سوڈیم 2ملی گرام،فاسفورس 74ملی گرام اور 50کیلوریزپائی جاتی ہیں۔

3:کھیرے‘ اچھی صحت خوبصورت جلد
کھیرے کا سلاد بہت مفید ہے۔اس کی قاشیں آنکھوں کو پرسکون رکھنے کے لیے استعمال کی جاسکتی ہیں۔کھیراجِلد کا کھردرا پن دور کرنے،اسے ہموار بنانے اور اس میں قدرتی نمی برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔کھیر اکچل کر دودھ میں ملا کرلگانے سے چہرہ تروتازہ ہو جاتا ہے۔آنکھوں کے حلقے دور کرنے کے لیے کھیرا بہترین علاج ہے۔
کھیرے کے چھے سے آٹھ درمیانے ٹکڑوں میںپوٹاشیم 42 ملی گرام، فاسفورس 5ملی گرام،سوڈیم 1ملی گرام اور5 کیلوریز ہوتی ہیں۔

4:پودینہ‘ ڈالے ٹھنڈ
اس کی خوشبو بھوک کا ا©حساس جگاتی ہے۔ پودینہ معدے کے لیے بہت مفید ہے۔ اس کا بنیادی جزو مینتھول(Menthol) سر درد، جوڑوں کے درد،گلے اور سینے کے انفیکشن کے لیے بطور دوا بھی استعمال ہوتاہے۔گرمیوں میں پودینے کے پانی کا استعمال جسم کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے اور پیاس کی شدت کم کرتا ہے۔
پودینے میں کیلشیم 200ملی گرام، نمی4.9فی صد، فاسفورس 6.2ملی گرام،معدنیات1.9فی صد،فائبر 2فی صد،نشاستہ5.8فی صد،فولاد15.6ملی گرام،وٹامن ای27ملی گرام ہوتا ہے۔اس کے علاوہ اس میں وٹامن بی کمپلیکس اور وٹامن ڈی کی بھی اچھی مقدار پائی جاتی ہے۔

5:پالک کے فوائد
پالک میں موجود معدنیات تیزابیت دور کرنے میں مدد دیتے ہیں۔یہ باآسانی ہضم ہو جانے والی غذاءہے ۔اس میں اوگزیلک ایسڈ (oxalic acid)موجود ہوتا ہے جو گردے کی پتھری کی صورت میں نقصان دہ ہے۔ لہٰذاان امراض میں مبتلا لوگ پالک کم استعمال کریں۔
پالک میں پائے جانے والے بنیادی اجزاءآئرن ،وٹامن اے اور فولک ایسڈ ہیں۔اس میں میگنیشیم ،سلفراور سیلیکون کی بھی کچھ مقدار پائی جاتی ہے ۔ایک کپ پالک میں پوٹاشیم 3.7ملی گرام، فاسفورس 27ملی گرام،سوڈیم43ملی گرام اور کیلوریز کی مقدار 10ہوگی۔

6:لہسن ،قدرت کا تحفہ
لہسن قدرت کا عطا کردہ عظیم تحفہ ہے ۔اس میں جراثیم کش اجزاءپائے جاتے ہیں۔لہسن ایک طاقتور ٹانک بھی ہے‘اس لیے نزلہ زکام،دمہ،کھانسی ،سینے کے درداور نمونیہ کی صورت میں کھانے کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔لہسن آنتوں اور معدے کی بہت سی تکلیفوں میں مفید ہے۔اس کے استعمال سے معدے کی تیزابیت دور ہوتی ہے لیکن اس بات کا خیال رکھیں کہ لہسن خالی پیٹ نہ کھائیں۔

7:دھنیا اورپارسلے
دھنیے اورپارسلے (Parsley)کو سلاد میں تازہ کھایا جاتاہے ۔منفرد ذائقے کی وجہ سے پارسلے سینڈوچیز وغیرہ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔اس کا تعلق دھنیے کے ہی خاندان سے ہے اس کا ذائقے مختلف ہوتا ہے ۔
دھنیا وٹامن اے اورآئرن کے حصول کا اہم ذریعہ ہے۔ 100گرام دھنیے میں آئرن 10ملی گرام جبکہ وٹامن سی 135ملی گرام ہوتا ہے ۔اس سے کھانوں کو ایک خا ص مہک ملتی ہے۔

8:میتھی کی خاصیت اور فوائد
طبی لحاظ سے اس کی بہت اہمیت ہے ۔اس کا باقاعدہ استعمال جسم کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتا ہے۔اس میں وٹامن اور معدنیات خاصی مقدار میںموجود ہوتے ہیں۔میتھی کے بیج خون کی کمی دور کرنے میں مدد کرتے ہیں کیونکہ یہ آئرن سے بھرپور ہوتے ہیں۔

9:کھانوں میں ادرک کا استعمال
معدے کی کمزوری اور بلغم کی زیادتی میںادرک بہت ہی مفید چیزہے ۔اس کے استعمال سے نزلہ وزکام دور ہو جاتا ہے ۔معدے ، جگراور آنتوں کی بیماریوں میںادرک استعمال کرنا چاہیے ۔ماش کی دال ،گوبھی،مٹر،شلجم اور بادی سبزیوں میںادرک ڈالنا بہت فائدہ مند ہے ۔یہ بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے بھی اچھا ہے ۔

10:گاجر‘ پکانے کی بجائے کچی کھائیں
گاجر کا جوس نکال کر پینا بہت مفید ہے ۔اس میں موجود کچھ اجزاءبینائی کیلئے فائدہ مند ہےں۔ذیابیطس کے مریضوں کے لیے گاجرکو پکاکر استعمال کرنے کی بجائے کچا کھانا زیادہ بہتر ہے یہ جلد کی خشکی اور حساسیت دور کرنے میںاہم کردار ادا کرتی ہے۔گاجر کو فیس ماسک کے طور پر بھی لگایا جاتا ہے۔
ایک درمیانے سائز کی گاجر میں پوٹاشیم 233ملی گرام ، فاسفورس32ملی گرام،سوڈیم 25ملی گرام،پروٹین ایک گرام اور 30کیلوریزہوتی ہیں۔اس میں وٹامنز وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of