ٹیکنالوجی ‘نشہ نہیں ضرورت

132

سوشل میڈیا پر ایک نوجوان لڑکی کی تصویر بہت زیادہ دیکھی‘ ’’لائیک ‘‘ اور پھر شئیر کی گئی جو پیدل چلتے ہوئے موبائیل پر ’’میسجنگ ‘‘ کر رہی تھی کہ ایک کھلے مین ہول میں گر گئی۔ جب لوگوں نے اسے باہر نکالا تو نہ صرف اس کے کپڑے گندے پانی سے لتھڑے ہوئے تھے بلکہ اسے چوٹیں بھی آئی تھیں تاہم موبائل اس کے ہاتھ سے نہ چھوٹا تھا۔ اسی طرح سیلفی لیتے ہوئے اونچی جگہ سے گرنے کے واقعات بھی میڈیا میں سامنے آ چکے ہیں۔ ڈرائیونگ کے دوران مو بائل فون پر مصروف گفتگو ہونے کی وجہ سے حادثات کے واقعات میں بھی بہت اضافہ ہو گیا ہے ۔
میڈیاٹیکنالوجی نے ہمار ی زندگی آسان کر دی ہے۔ اس کی مدد سے نہ صرف دور بیٹھے رابطے آسان ہوگئے ہیں بلکہ یہ معلومات میں اضافے،تفریح اور دیگر کاموں کی انجام دہی میں بھی معاون ہیں۔ کہتے ہیں کہ’ کسی بھی چیز کی زیادتی اچھی نہیں ‘۔ ٹیکنالوجی کے بے جا استعمال کی وجہ سے لوگ بے سکونی کا شکار ہو رہے ہیں ۔ ڈسرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال فیصل آباد کی ماہر نفسیات ڈاکٹر عاصمہ باجوہ کہتی ہیں:
’’سائنس کی نعمتوں سے انکار ممکن نہیں مگر انسان نے خود کو ان کا عادی بنا کر اور اعتدال سے زیادہ استعمال کرکے انہیں اپنے لئے وبال جان بنا لیا ہے۔ٹیکنالوجی کے بے مہابا استعمال سے بہت سے نفسیاتی اور جسمانی عوارض جنم لے رہے ہیں۔‘‘
ٹیکنالوجی کی وجہ سے پیداشدہ چند مسائل درج ذیل ہیں:
بے خوابی کا مرض
اس کے زیادہ استعمال سے بہت سے افراد نیند کی کمی کا شکار ہورہے ہیں ۔نیند کے دوران پٹھوں اور اعصاب کو سکون ملتا ہے جس سے ہم تازہ دم ہوجاتے ہیں۔کم سونے سے نظر‘پٹھے اور اعصاب سب تھک کر کمزور ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ مزید براں اس سے جسمانی دفاعی نظام بھی کمزور ہوتا ہے اور ذہنی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔
آنکھوں کی خشکی
موبائل‘ٹی وی‘کمپیوٹر‘ آئی پیڈوغیرہ سے ریڈیائی لہریں خارج ہوتی ہیں اور مسلسل سکرین پر نظر جمائے رہنے سے بصارت کے مختلف مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ محمد آباد(فیصل آباد) کے ماہر امراض چشم ڈاکٹر ثاقب شاہ کے مطابق:
’’مسلسل ایک ہی پوزیشن میں لیٹ یا بیٹھ کر سکرین پر نظریں جمانے سے آنکھوں کے پٹھے اکڑ اور اعصاب تھک جاتے ہیں۔ سکرین کی طرف دیکھتے ہوئے عموماً لوگ آنکھ بھی کم جھپکتے ہیں جس کے باعث آنکھوں کی خشکی کے مسائل پیداہوسکتے ہیں۔‘‘
سماعت کی قوت متاثر
بعض لوگ موبائل فون پر بہت سے سوفٹ ویئرز کو’ ایکٹو‘ رکھتے ہیں۔ ایسے میں موبائل کان سے لگائے رکھنے سے سننے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے فیصل آباد کے ماہرامراض ناک، کان اورگلا ڈاکٹر عباس خواجہ کہتے ہیں:
’’موبائل فون سے بہت تیز برقی لہریں خارج ہوتی ہیں جو سننے سے متعلق خلیوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔موبائل فون‘آئی پیڈ اور لیپ ٹاپ وغیرہ میں موسیقی کی سہولت بھی میسرہوتی ہے۔کانوں پر ہیڈ فون لگا کر اُونچی آواز میں مو سیقی سننے والے خود اپنی قوت سماعت کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔‘‘
موٹاپے کا ایک سبب
ٹی وی اور کمپیوٹر وغیرہ کے آگے مسلسل بیٹھے رہنے سے جسمانی حرکت محدود ہوجاتی ہے جس سے وزن بڑھ سکتاہے۔ سکرین ٹیکنالوجی نے بچوں کو دوسری کھیلوں سے دور اورموٹاپے سے قریب کردیا ہے جوبہت سی بیماریوں کی جڑ ہے۔
ہڈیوں کی کمزوری
کمروں میں لیپ ٹاپ‘ٹی وی اور موبائل پر زیادہ مصروف رہنے کی وجہ سے ہمارے جسم دھوپ سے حاصل ہونے والے ’وٹامن ڈی‘ سی محروم ہوتے جارہا ہیں۔ اس کی کمی ہڈیوں کی کمزوری کا باعث بنتی ہے۔(جھنگ روڈ)فیصل آبادکے آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر نصیرکے مطابق:
’’وٹامن ڈی کی کمی اورزیادہ دیر بیٹھے رہنے سے ہڈیاں کمزور ہوجاتی ہیں۔ ریڑھ کی ہڈی پر مسلسل دباؤ رہنے سے کمردرد اور گھٹنوں میں درد کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔‘‘
دماغ پر اثرات
ماہرین کے مطابق الیکٹرونک آلات سے نکلنے والی ریڈیائی لہریں ذہنی تناؤ سے متعلق ہارمونمیں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ اس سے ذہنی دباؤ اورڈپریشن کی کیفیات بھی جنم لے سکتی ہیں۔ ماہر نفسیات ڈاکٹر عاصمہ باجوہ کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کا حد سے زیادہ استعمال انسانی دماغ میں ’ڈوپا مین ہارمون‘ کی مقدار پر بھی اثرانداز ہوتاہے۔ اس کی مقدار کا اتار چڑھاؤ مختلف ذہنی بیماریوں اورخصوصاً نشے کی جانچ کے لئے استعمال ہوتاہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کسی درجے میں ذہنی صحت کو بھی متاثر کرتا ہے ۔
ٹیکنالوجی کا نشہ
میری لینڈ یونیورسٹی (امریکہ )میں کی گئی ایک تحقیق میں جب طلبہ کو ایک دن کے لیے موبائل فونز‘ٹی وی اور کمپیوٹر سے دور رکھا گیا تو وہ شدید بے چینی کا شکار ہو گئے۔ اپنی بے چینی کو بیان کرتے ہوئے طلبہ نے وہی کیفیات بیان کیں جو نشے کے عادی افراد نشہ نہ ملنے پر ظاہرکرتے ہیں۔ان میں اضطراب‘دل کی دھڑکن تیز ہونااور بدن ٹوٹنا شامل ہیں۔ہم اسے’ ٹیکنالوجی کا نشہ‘ کہہ سکتے ہیں۔ دنیا بھر کے ماہرین نفسیات اور تھیراپسٹ اس بات پرغور کر رہے ہیں کہ ٹیکنالوجی کے نشے کو ذہنی بیماریوں میں شامل کیا جائے۔ برطانیہ‘جنوبی کوریا اور امریکہ میں ایسے ادارے بھی ہیں جو ٹیکنالوجی کے باعث پیدا ہونے والے مسائل کا علاج کررہے ہیں۔ انہیں ٹیکنالوجی ری ہیبلی ٹیشن سنٹرز (technology rehabilitation centers)کانام دیا گیا ہے۔
ویڈیو گیمز‘ ایک لَت
ٹی وی کے شوقین خواتین وحضرات یا بچوں سے ان کا کوئی پسندیدہ پروگرام دیکھنا رہ جائے تو وہ عجیب بے چینی اور چڑ چڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ بچے ویڈیوگیمز کے عادی بھی ہوجاتے ہیں۔ سنگاپور میں ہونے والے ایک سروے میں( جو 3,000 بچوں پر کیاگیا )یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ زیادہ ویڈیو گیمز کھیلنے والے بچوں میں جسمانی وذہنی دباؤ ،منفی رویوں‘تھکن اور پٹھوں اور جوڑوں کے درد وغیرہ کی علامات نسبتاً بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔
رشتوں میں دراڑیں
جدید ٹیکنالوجی آپ کی ہروقت کی ساتھی سہی مگر یہ انسان نہیں جو آپ کے جذبوں کی حرارت کو محسوس کرسکے ۔اس کے باعث ہم اپنے پیاروں سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ گھر کے ایک کمرے میں بیٹھے انسان ایک دوسرے سے نہیں بلکہ سوشل نیٹ ورک کے ذریعے اوروں سے رابطے میں مشغول ہیں۔ ڈاکٹر عاصمہ کہتی ہیں
’’بلاشبہ یہ ڈیجیٹل دور ہے لیکن رشتے مشینوں کی زبان نہیں سمجھتے۔ انہیں اظہار‘تمہید‘ شدت‘ محبت اور الفاظ کی ضرورت ہوتی ہے۔ رشتوں میں دوریاں اور دراڑیں نہ صرف زندگی کو تلخ کردیتی ہیں۔بلکہ بہت سے نفسیاتی عوارض کو بھی جنم دیتی ہیں۔‘‘
روحانیت سے دوری
ٹیکنالوجی میں مگن نئی نسل مذہب، اخلاقیات اور روحانیات سے دورہوتی جارہی ہے کیونکہ انہوں نے اپنی ترجیحات بدل لی ہیں۔ مذہب اور روحانیات سے دوری انسان کو جسمانی طور پر متاثر کرتی ہے۔
گفتگو کو سمیٹتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ خود کو ٹیکنالوجی کا بہت زیادہ عادی ہونے سے بچائیں اور اسے ضرورت کے مطابق استعمال کریں۔ اپنی صحت اور رشتوں کو مقدم جانیں۔ موبائل‘ لیپ ٹاپ‘ٹی وی‘ویڈیو گیمزوغیرہ کے لئے کچھ وقت مخصوص کرلیں۔ اس طرح آپ صحت مند اور بھرپور زندگی گزارسکتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے جن کو بوتل میں بند کرکے ہی رکھیں تو اچھا ہے، ورنہ یہ آپ کو کھاسکتا ہے۔