127

    نےشنل ےونےورسٹی آف ماڈرن لےنگوئجزاسلام آباد کی طالبہ فریحہ ارشدکہتی ہےں:
”میں عام طورپرسردی کی زےادہ پرواہ نہےں کرتی خواہ وہ کتنی ہی زےادہ کیوں نہ پڑے۔‘ مےری کوشش ہوتی ہے کہ گیس ہےٹرسے پرہےز کروں اور اشدضرورت کے علاوہ اس کا استعمال بالکل نہ کروں۔ اس موسم میںرات کوسونے سے پہلے اےک کپ نےم گرم دودھ مےںاےک چمچ شہد ڈال کرپی لےتی ہوں۔ اس سے صحت بھی ٹھےک رہتی ہے اور سردی سے تحفظ بھی ملتا ہے۔“
پشاور سے تعلق رکھنے والی اےڈوکےٹ ہما خان کاکہنا ہے :
”مےرے لئے موسم سرماکافی سخت ہوتاہے اور میں اس کے اثرات سے بچنے کےلئے قہوہ،شہد، خشک مےوہ جا ت اورانڈوں کااستعمال بڑھادےتی ہوں۔کھانے پےنے کی ےہ اشےاءسردی کا اچھا توڑ ہیں ۔میری حتیٰ الامکان کوشش ہوتی ہے کہ ہیٹر کو جلاےاہی نہ جائے‘ اس لئے کہ وہ سخت مضر صحت ہوتا ہے۔ اس سے کمرے مےںآکسےجن کم ہوجاتی ہے اورالرجی اور دمے کے مرےضوںکو مشکل پےش آتی ہے۔ “
راولاکوٹ کی رہائشی عاصمہ نے اس موضوع پر اظہارخےال کچھ ےوںکیا :
” ہمارے علاقے مےںموسم سرمابہت ہی شدےد ہوتاہے لےکن اللہ تعالیٰ نے ہمےں اتنا سخت جان بناےاہے کہ ہم اسے برداشت کرسکتے ہیں۔گےس کی کمی کی وجہ سے ہمارازےادہ ترانحصاربجلی سے چلنے والے ہےٹروںےا درختوںکی لکڑےوںپر ہوتا ہے ۔ ہم لوگ سردےوں مےںخوبانی، بادام، پستے اور اخروٹ کااستعمال زےادہ کرتے ہےں۔ سردی کی شدت سے نپٹنے کے لئے ہمارے گھرمےں رواےتی سُوپ بھی بنائے جاتے ہےںلےکن مےںذاتی طورپرچائے زےا دہ استعمال کرتی ہوں۔خود کو گرم رکھنے کےلئے ہم بھاری اور موٹے کپڑے استعمال کر تے ہےں‘اس لئے کہ سردےوں مےں ےہاں درجہ حرارت نقطہءانجماد سے بھی نےچے چلاجاتا ہے۔“
گجرات سے تعلق رکھنے والے ندیم چوہدری کہتے ہےں:
” چائے تو میں ساراسال ہی پیتاہوںلےکن سردےوںمےںاس کااستعمال مزےد بڑھ جاتا ہے۔انڈے چونکہ سردےوں میں مزےد مہنگے ہو جاتے ہےں‘ لہٰذا ہفتے مےں اےک ےا دو بار انڈا کھا لےتا ہوں۔میںکوشش کرتا ہوں کہ سردی کا مقابلہ گرم لباس سے ہی کروں۔“
کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے جوہر جنید کا کہنا ہے:
”سردےوںکاتوڑصرف ابلے ہو ئے انڈوںاور’کافی‘مےں ہے۔ مےں سردےوں مےں ان کا استعمال زےا دہ کرتاہو ں۔ اس کے علا وہ خشک مےوہ جات لذےذ بھی ہو تے ہےںاور سردی سے بھی بچاتے ہےں۔ جب موسم شدیدسرد ہو تو میں کپڑوں کے نےچے گرم پائجامہ اور چست ٹی شرٹ پہنتا ہوں۔ اگرسردی کی شدت ناقابل برداشت ہوجائے توپھر ہیٹراستعما ل کرتاہوں‘ تاہم کوشش ہوتی ہے کہ اس سے بچاجائے۔ “


انڈا کھائیں‘ ہیٹر سے دور رہیں
اگر سردی نہ ہو تو بھی طبی نقطہ نظرسے چائے اورانڈے کااستعما ل مفےد ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں انڈا‘پروٹےن کااچھا اور سستا ذرےعہ ہے جس میں فولا د بھی پا ےا جا تا ہے۔ چائے کااستعمال نزلہ، زکام اورگلے کے لئے اچھاہے، تاہم اسے زےادہ کڑک دار نہےںہونا چاہے ۔ ٹی بےگ سے بنائی جانے والی ہلکے دم والی چائے بہت مفےدشے ہے۔شہدبھی اچھی چےز ہے لےکن شوگرکے مرےضوںکواس سے پرہےزکرناچائےے۔ سردےوںمےں گےس ہےٹرکا استعمال بڑھ جاتا ہے اور جو لوگ اس سے دور رہنے کی کوشش کرتے ہےں‘ وہ بہت اچھا کرتے ہےں۔ لوگوں کی ےہ رائے درست ہے کہ گیس ہیٹرکمرے مےں موجود آکسےجن کواستعمال کر لےتے ہےں۔ اگرشدیدسردی میں اس کا استعمال کرنا ہی ہو تو اس دوران کمرے کی کھڑکےاں تھوڑی سی کھول دےنی چائےں اور اس کے اوپر پانی رکھنا چاہئے تاکہ اس سے بخارات اٹھتے رہےں اور ہوا سے نمی ختم نہ ہو۔
موتی خان‘ماہر غذائیات ‘آغاخان ہسپتال‘کراچی