میٹھی عید پر آپ کے ہاں میٹھے میں کیا بنتا ہے؟

153

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی حنا اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہتی ہیں:
”ہمارے گھر میں عیدالفطر کے موقع پر میٹھے میں شیر خرما بنتا ہے جو گھربھر میں اور رشتہ داروں میں بہت پسند کیا جاتا ہے۔ ہم سب اسے بہت شوق سے کھاتے ہیں ۔ “
ہری پور سے نعلین عباس کا کہنا ہے :
”رمضان کے بعد آنے والی عید ہمارے ہاں میٹھی عید کے نام سے مشہور ہے۔ پہلے دن ناشتہ میں میٹھی دودھ والی سویاں بنائی جاتی ہیں۔اس کے علاوہ نمکین پکوان میں میری امی چنا چاٹ اور دہی بھلے بناتی ہیں جو مجھے بہت پسند ہیں۔ “
پشاور سے منیب طاہر کا کہنا ہے :
”ہمارے ہاں عید کے دن کھیر اور فروٹ ٹرائفل بنتا ہے جو ہم سب کو بہت پسند ہے۔ اس کے کھانے سے ہماری میٹھی عید کی خوشیاں دوبالا ہوجاتی ہیں۔ “
سیالکوٹ سے نائلہ کہتی ہیں:
”عید الفطر ہم عموماً اپنی دادی امی کے گھر مناتے ہیں۔ وہاں عید پر بہت سے مزیدار پکوان بنائے جاتے ہیں ۔میٹھے میں دیسی گھی میں بھنی ہوئی سویاں ، شیر خرما،فرنی وغیرہ اور نمکین کھانوں میں چاﺅمن، املی والی چنا چاٹ اور دہی بھلے بنائے جاتے ہیں جو ہم سب بچوں کو بہت پسند ہے۔ “
چکوال سے آمنہ کا کہنا ہے:
”ہمارے گھر میں عید پرحلوہ پوری بنائی جاتی ہے۔ دوپہر کے کھانے میں روایتی کھانوں کے ساتھ آلو گوشت بنانے کا رواج ہے ۔ “
گوجرخان سے راجا وسیم نے کہا:
”ہمارے گھر میں انڈے والا حلوہ اور بھنی ہوئی سویاں بنائی جاتی ہیں جو کافی شوق سے کھائی جاتی ہیں ۔ “
کوئٹہ سے اسفید کہتے ہیں:
’ہمارے گھر میں میٹھی عید کا آغا زدودھ والی میٹھی سویوں سے ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ فروٹ چاٹ بھی بنائی جاتی ہے۔ “
خان پو ر سے مہر انعام کا کہنا ہے:
” چھوٹی عید کی خوشیوںمیں اضافہ کرنے کے لئے ہماری امی کسٹرڈ اور شیرخرما بناتی ہیں۔ اس سے میٹھی عیداوربھی میٹھی ہو جاتی ہے ۔ “
لاہور سے احمدکہتے ہیں:
” عید الفطر پر ہمارے گھر میں حلوہ بنایا جاتا ہے ۔ نمکین ڈش میں پاپڑی چاٹ،اچاری گوشت اور نہاری بنائی جاتی ہے جو مجھے بہت پسند ہے۔ “
لالہ موسیٰ سے علی کا کہنا ہے:
” ہمارے گھر میں میٹھی عید کا آغاز شیر خرمہ سے ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ نمکین میں ہمارے گھر میں اچاری چھولے اور نان بہت شوق سے کھائے جاتے ہیں۔ “
ژوب(بلوچستان )سے مریم کہتی ہیں:
” ہمارے گھر میں عید پر ناشتے میں کسڑڈ بنایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دوپہر میں چھوٹے گوشت کی سجی بنائی جاتی ہے۔ سارا خاندان نانی اما کے گھر میں جمع ہوتا ہے اور ایک جشن کا سماں ہوتا ہے۔سب اہل خانہ مل کر اور بہت شوق سے سجی کھاتے ہیں۔ اس کے بعد کہوہ پیا جاتا ہے۔ “