بے بی واکر رحمت نہیں‘ زحمت

135

صبح نو بجے کے قریب بچوں کو سکول بھیج کر میں ناشتہ کر رہی تھی کہ اچانک مجھے اپنی ہمسائی وریشہ کی چیخ و پکار سنائی دی۔ میں گھبرا کر فوراً اس کے گھر کی جانب بھاگی ۔کیا دیکھتی ہوں کہ اس کی چھ ماہ کی بیٹی عائزہ واکر سمیت سیڑھیوں کی گرِل میں پھنسی ہوئی ہے۔ اس کی ماں بدحواسی میں اس کی طرف دیکھ تو رہی تھی لیکن کچھ کر نہیں پا رہی تھی۔ میں نے بھاگ کر اسے واکر سے نکال کر گود میں اٹھایا۔ وہ مارے ڈر کے شدید رو رہی تھی۔ ایک طرف ماں تو دوسری طرف بیٹی‘ دونوں ہی زاروقطار رو رہی تھیں۔ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ بالاخر اوپر گئی اور فریج سے پانی لا کروریشہ کو پلایا اوراسے تسلی دی کہ بچی بالکل ٹھیک ہے۔ حواس بحال ہوتے ہی وریشہ نے جھپٹ کر بیٹی کو گود میں بھر لیا اور پھر سے رونے لگی۔ اسے پرسکون ہونے میں کچھ دیر لگی ۔

میرے دریافت کرنے پر کہنے لگی کہ وہ عائزہ کو واکر میں بٹھا کر اس کا دودھ بنانے کچن میں گئی۔ جلدی میں سیڑھیوں کا دروازہ کھلا رہ گیا۔ بس، لمحے بھر کی غفلت تھی کہ عائزہ واکر سمیت نیچے گر گئی۔ یہ کہہ کر وہ پھر سے رونے لگی۔” وریشہ! جو ہونا تھا‘ وہ ہو گیا، مگر آئندہ احتیاط کرنا۔شام کو جب طاہر بھائی آئیں تو ان کے ساتھ جا کر ڈاکٹر کو بھی دکھا دینا، اس لئے کہ اسے کچھ خراشیں بھی آئی ہیں۔“
اسے تسلی دینے کے بعد میں واپس آگئی مگر میرا دل ابھی تک زور زور سے دھڑک رہا تھا۔مجھے یاد ہے کہ جب احمد اور عنائیہ چھوٹے تھے تو میں نے بھی حسن سے ان کے لئے بے بی واکر کی فرمائشیں کی تھیں، اس لئے کہ دونوں بچے جڑواں تھے اور مجھ پر کام کا دباﺅ زیادہ تھا۔ ایسے میں واکر مجھے بڑی کام کی چیز لگتا تھا، اس لئے کہ انہیں ان میں بٹھا کر گھر کے کام کاج آسانی سے کئے جا سکتے تھے۔ مگر اللہ کا شکر ہے کہ میری ڈاکٹرکزن نے مجھے اس کے خوفناک نتائج سے آگاہ کرکے اس ارادے سے باز رکھا۔یوں ہم کسی بڑی زحمت یا نقصان سے بچ گئے۔

ڈاکٹروجیہہ ہارون ایک ماہر امراضِ بچگان ہیں جن کا تعلق لاہور سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بچے کی6 سے 12 ماہ کی عمر الٹنے‘ پلٹنے‘ لڑھکنے‘ گھٹنوں کے بل چلنے اور قدم اٹھانے کی ہوتی ہے۔ یہی ان کے پسندیدہ مشاغل ہوتے ہیں جوانہیں لطف دینے کے ساتھ ساتھ ان کی جسمانی نشو و نما میں مددگار بھی ہوتے ہیں ۔ان کے بقول:
” بچہ پہلے لڑھکنا‘ گھٹنوں کے بل چلنا اورپھر پیدل چلنا سیکھتا ہے۔ قدرتی انداز میں بڑھوتری بچوں کے اعضاءمیں توازن اور مطابقت پیدا کرتی ہے۔ اس لئے بڑھوتری کے عمل کو ترتیب سے‘ بتدریج ‘اپنے وقت پر اورمرحلہ وار ہونا چاہئے۔ اس کے برعکس بعض والدین اس قدرتی عمل کو تیز کرنے کیلئے بے بی واکر جیسی چیزوں کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ نہ صرف اس قدرتی عمل میں رکاوٹ ڈالتا ہے بلکہ حادثات کا باعث بھی بنتا ہے۔“
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے جریدے میں ماہر امراض بچگان ڈاکٹر رفعت رحمانی کے تحریرکردہ ایک مضمون کے مطابق ”یہ بات ثابت شدہ نہیں ہے کہ واکر بچوں کے چلنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کے برعکس اس کا استعمال بچوں کے متحرک ہونے کی قدرتی صلاحیت ،جو مرحلہ وار نشوونما پاتی ہے، کو پیچھے لے جاتا ہے۔“

ڈیرہ اسماعیل خان سے ماہر امراض اطفال ڈاکٹر فاروق اعظم کہتے ہیں کہ واکر نارمل انداز سے چلنے میں مدد نہیں دیتا۔ ان کے بقول :
”بچے کے مسلز وقت کے ساتھ ساتھ طاقتور ہوتے ہیں۔ انہیں قبل از وقت چلانے کی کوشش میں جب واکر میں ڈالا جاتا ہے تو وہ اپنا وزن نہیں سہار سکتے، اپنی کمر کو سہارا نہیں دے پاتے‘ اپناتوازن قائم نہیںرکھ سکتے اور پنجوں کے بل چلتے ہیں۔ ایسے میں ان کا واکر دائیں بائیں تیزی سے حرکت کرتا ہے جس سے ہرچیز ان کی پہنچ میں آجاتی ہے۔یوں وہ گھریلو حادثات کا شکار ہوجاتے ہیں ۔“
اس کی وضاحت کتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طرح وہ گرم دودھ یا اشیاءاپنے اوپر گِرا کر اپنے آپ کو جلا بیٹھتے ہیں‘ کوئی بھاری چیز اپنے اوپر گرا لیتے ہیں‘ زہریلا مواد یا دوا پی جاتے ہیں اور ہیٹرز یا اوون سے اپنے آپ کو نقصان پہنچالیتے ہیں۔ اپنی تیزرفتاری کے باعث بعض اوقات ان کا واکر راستے میں پڑی اشیاءسے ٹکرا کر الٹ جاتا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ حادثات سیڑھیوں سے لڑھک کر گرنے کے ہیں جو کبھی معمولی تو کبھی سنگین نتائج کو جنم دیتے ہیں۔

بے بی واکر کے نقصانات کو دیکھتے ہوئے ’امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس‘ نے اس کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی ہے اور امریکہ میں اس پر پابندی عائد کرنے کی تجویز بھی دی ہے جبکہ کینیڈا میں تو اس کی خرید و فروخت پر پابندی لگ چکی ہے۔
ماﺅں کے لئے بہتریہ ہے کہ اس کے استعمال سے حتیٰ الامکان گریز کریں۔ اور اگرکبھی استعمال کرنا ہی ہوتو پھرپوری طرح احتیاط سے کام لیں۔ مثلاً اس دوران بچے پر کڑی نظر رکھیں‘ واکر ہمیشہ ہموار سطح پر استعمال کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ مثلاً فرنیچروغیرہ نہ ہو۔ اسے نازک اشیاءاور گرم پانی سے دور رکھیں اور سیڑھیوں کے اختتام اور ابتداءمیں حفاظتی گیٹ ضرور لگائیں۔ کسی سوئمنگ پول کے پاس واکر ہرگزاستعمال نہ کریں۔
اگر کوئی طبی مسئلہ نہ ہوتو بچے عموماً 8سے 13 ماہ کی عمر کے دوران چلنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ دورانیہ کم و بیش ہو سکتا ہے جس کے پس پردہ عوامل میں وراثت‘ جراثیم‘ وزن اور جسمانی صحت وغیرہ شامل ہیں۔مجھے یاد ہے کہ میری اماں کہا کرتی تھیں کہ تم نے کافی دیر سے چلنا شروع کیا تھا۔ آخر اماں ابا‘ پریشان ہو کر مجھے ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔ ڈاکٹر نے اچھی طرح معائنے کے بعد مسکراتے ہوئے کہا کہ بچی کے ساتھ مسئلہ کوئی خاص نہیں‘ بس اس کا زیادہ وزن ہے۔ آج بھی میرے بہن بھائی اس بات سے مجھے چڑاتے ہیں۔

میں ماﺅں سے کہنا چاہوں گی کہ آخر انہیں جلدی کس چیز کی ہے ۔جلدی کا کام تو ویسے بھی شیطان کا ہوتا ہے۔بچپن کوئی دوڑ نہیں کہ بچہ کب چلے گا‘ بولے گا‘ پڑھے گا یا لکھے گا۔ ہر کام اپنے وقت پر اچھا لگتاہے۔ اس لئے بچوں کو قدرتی انداز میں پروان چڑھنے دیں اورانہیں واکر جیسی بیساکھیوں کی مدد سے جلدی چلانے کی کوشش نہ کریں۔
بچے کا چلنا والدین کیلئے ناقابل بیان خوشی کا لمحہ ہوتا ہے۔ جب وہ اس کا ہاتھ تھام کر اس کو قدم اٹھانے میں مدد دیتے ہیں تو اس سے دونوں کا قلبی تعلق مضبوط ہوتا ہے اور بچے کو تحفظ کا احساس بھی ہوتا ہے۔ بچے کا ننھا سا قدم ماں باپ کے دل میں بڑا سا نقش چھوڑتا ہے۔ یہ وقت لوٹ کر نہیں آئے گا، لہٰذا اسے خوب انجوائے کریں۔ہم نے تو ان لمحات کو اپنے دلوں اور کیمروں میں محفوظ کر لیاہے۔ آپ بھی ضرور کیجئے گا۔