تربوز- رکھے آپ کو تازہ دم

225

ہم دیکھتے ہیں کہ مخصوص سبزیاں‘ پھل اور جڑی بوٹیاں مخصوص علاقوں میں زیادہ پائی جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ مخصوص پھل بھی مخصوص موسموں میں پیدا ہوتے ہیں۔ یہ سب کچھ محض اتفاق نہیں بلکہ اس کے پیچھے کچھ خاص مقاصد ہیں جن میں انسانوں کے جسموں میں موجود کمیوں کو دور کرنا‘ ان کے مختلف اعضاءکی فعالیت میں اضافہ کرنا اور انہیں موسم کے ممکنہ مضر اثرات سے محفوظ رکھنا نمایاںہے۔تربوز کا شمار ان پھلوں میں ہوتا ہے جو ہمیں نہ صرف گرمی کی شدت کے برے اثرات سے محفوظ رکھتے ہیں بلکہ دیگر بہت سے فوائد کے حامل ہےں۔ اگر اسے گرمیوں کاخاص تحفہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔

تربوز کو ہندکو،پشتو اور پنجابی میں ہندوانہ،انگریزی میں واٹر میلن، عربی میں بطیخ اور ترکی میں تاجور کہتے ہیں۔ شکل کے اعتبار سے یہ گول اور لمبوترا ہوتاہے۔اس کا رنگ سبز اور چھلکا سخت ہوتا ہے ۔ پاکستان،بھارت،شمالی بنگال،شام،فلسطین اور افغانستان میں اس کی کاشت بکثرت کی جاتی ہے۔اگر یہ پکا ہوا ہو تو اس کے گودے کی رنگت سرخ اورذائقہ شیریں ہوتا ہے ۔
بہت سے لوگ شکایت کرتے ہیں کہ وہ بڑے شوق سے تربوز خرید کر لاتے ہیں لیکن گھر آ کر وہ پھیکا نکلتا ہے ۔خریدنے سے پہلے اسے ایک ہاتھ میں اٹھا کر دوسرے ہاتھ سے تھپتھپائیں ۔اگر اس میں تھر تھراہٹ (vibration)سی محسوس ہو تو یہ اس

بات کی علامت ہے کہ تربوز رسیلا اور میٹھا ہے ۔
ابن سینا کی معروف کتاب ’القانون‘کے مطابق تربو ز کھانا معدے کو صحت مند رکھتا ہے ۔مزید براں اس کے بیج کھانا بھی فائدہ مند ہے جبکہ انہیں پیس کر اور ان کا لیپ بنا کر جلد پر لگاناجلد کی صفائی اوراس کی چمک کا باعث بنتا ہے ۔اسی طرح اس کے چھلکے کو پیشانی پر رکھنے سے وہ چہرے اور آنکھوں کی گرمی کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔ حکیم مظفر حسین نے اپنی کتاب ’المفردات‘ میں اسے پیشاب کی جلن میں مفید بتایا ہے۔ اگر تربوز شکر کے ساتھ ملا کر خالی پیٹ (نہار منہ) کھایا جائے تو بہت ہی مفید اور موثر ہے ۔اس کے تقریباً تین گھنٹے بعد ہلکا سا ناشتہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس کے مزید فوائد درج ذیل ہیں:

تروتازہ دل
اس پھل میں موجود لائیکوپین(lycopene) اوراس کا پانی دل کوتقویت پہنچاتے ہیں ۔لائیکو پین دل کے سخت پٹھوں پر دباو¿ کم کرتا ہے ۔اسی طرح اس میں پائے جانے والاایک جزو پوٹاشیم ، دل کی دھڑکن کو متوازن اوربلڈ پریشر کو قابو میں رکھتا ہے۔

جگر اور گردے کی فعالیت
تربوز کا پانی جگر کی صفائی اورگردوں کو فعال بنانے کے علاوہ جسم سے فاسد مادے نکالنے میں بھی مدد دیتا ہے ۔ایسے شواہد بھی ملے ہیں کہ تربوز کے مناسب استعمال سے گردے اور مثانے سے پتھری بھی خارج ہو جاتی ہے ۔تاہم یہ دونوں بیماریاں بہت خطرناک ہیں لہٰذاان کے لئے ٹوٹکوں پر انحصار کی بجائے ان کا باقاعدہ علاج کروایا جائے۔

آنکھوں کی چمک
تربوز کے سرخ گودے میں بیٹاکیروٹین موجود ہوتا ہے ۔یہ جب ہمارے جسم میں جاتا ہے تو وٹامن اے میں تبدیل ہو کر نہ صرف بینائی اور آنکھوں کی چمک کوبڑھاتا ہے بلکہ آنکھوں کو وقت سے پہلے اندھے پن اور موتیا وغیرہ سے محفوظ رکھتا ہے۔
مدافعتی نظام کی تقویت
تربوز میں موجود لائیکوپن مدافعتی عمل کو نہ صرف تقویت دیتا ہے بلکہ خلیوں کو توڑ پھوڑ سے بھی روکتا ہے۔

مزاج بحال کرنا
تربوز میں شامل وٹامن بی6 انسانی جسم میں موجود ہارمونز کو متوازن کر کے فرد کے مزاج کی بیزاری،مایوسی اور بجھے پن کو دور کرتا ہے جس سے وہ ہشاش بشاش ہو جاتا ہے۔

موٹاپے سے نجات
تربوز میں 92فی صدپانی ہوتا ہے جو انسانی جسم کو ترو تازہ رکھنے،موٹاپے سے بچانے ،کم خوراکی کی جانب مائل کرنے اور جمع شدہ چربی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

احتیاطی تدابیر
٭کھانا کھانے کے فوراً بعد تربوز کھانے سے ہیضہ یا قولنج ہو سکتا ہے ۔
٭اس کے زیادہ استعمال سے جوڑوں کے درد اور بلغم کی شکایت ہو سکتی ہے۔
مہنگائی کے اس دور میںاگرچہ پھل وغیرہ خریدنا مشکل ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ جسم میں بہت سے اہم اجزاءکی کمی کو بھی پورا کرتے ہیں۔ان اجزاءکی بھی ایک قیمت ہے جو بعد میں ہمیں دواﺅں کی شکل میں ادا کرنا پڑتی ہے ۔ موسمی پھل اور سبزیاں قدرت کا انمول تحفہ ہیں ، اس لئے انہیں اپنی خوراک میں شامل کرنا چاہیے تاکہ بعد کے بڑے نقصانات سے بچا جا سکے ۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

    موسم سرما بہت سے لوگوں کا پسندیدہ ترین موسم ہے اور م

آج کل نوجوانوں میں جہاں جنک فوڈ ز اور کولا مشروبات کامن

موسم گرما میںجہاں ہمیں شدیدگرمی اور لُو کا سامنا کرنا