ذہنی دباو‘ کیسے بچیں

297

ذہنی دباو¿ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں انسان خود کو بے بس سا محسوس کرتا ہے۔ ہرشخص کو کبھی نہ کبھی اس کا سامنا ضرور ہوتاہے ۔اگر یہ ایک حد میں ہو تو مفید ہے ورنہ ہمارے معمولات اور زندگی کو الٹ پلٹ کر رکھ دیتا ہے۔ چند آسان طریقوں پر عمل کر کے اس میں کمی لائی جا سکتی ہے


جدید دور میں زندگی بہت مصروف ہو گئی اوربہت سے حصوں اور کاموں میں بٹ گئی ہے۔اس وجہ سے ذہنی الجھنیں اور پریشانیاں بڑھ گئی ہیں اور نتیجتاً ذہنی دباو¿ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ تھوڑابہت ذہنی دباو¿اچھا ہوتا ہے، اس لئے کہ اس سے ہمیںکاموں کو کرنے اورذہنی طور پر مضبوط ہونے میں مدد ملتی ہے۔ تاہم اگر یہ بڑھ جائے یا لمبے عرصے تک برقراررہے تو اس کے بہت سے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔اس کے باعث ہمیں سرمیں درد اور صحت کے دیگرمسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔علاوہ ازیں ہمارے معمولات زندگی اورتعلقات بھی خراب ہو سکتے ہیں۔

وجوہات کیا ہیں
ذہنی دباو کی چند عام وجوہات درج ذیل ہیں:
صحت کے مسائل: لمبے عرصے تک برقرار رہنے والی بیماری کی وجہ سے ذہنی دباو¿ اور چڑاچڑا پن ہو سکتا ہے۔ کسی عزیز کے بیمارہونے کی وجہ سے بھی یہ ہو سکتا ہے۔
دوسروں سے تعلقات: گھر اور باہر کے تعلقات میں خرابی بھی
اس کا سبب بن سکتی ہے۔
جذبات کا اظہار: جذبات کا اظہارضروری ہے۔ اگر کسی وجہ سے جذبات دبے رہ جائیں تو ہم ذہنی دباو¿ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
زندگی میں تبدیلی: کسی عزیز کی وفات،نئی ملازمت،گھر کی تبدیلی یا زندگی کے اچانک نیا یا غیرمتوقع رخ اختیار کرنے پر ذہنی دباو ہوسکتا ہے۔ مثبت تبدیلیاں مثلاً ملازمت سے ریٹائرمنٹ یا شادی بھی اس کی وجہ بن سکتی ہےں۔
معاشی مسائل کا دباﺅ: معاشی دشواریاں ذہنی دباو¿ کی ایک عام وجہ ہےں۔ آپ کے پاس کیا ہے کیا نہیں اور آپ معاشی طور پر کتنامضبوط ہیں؟یہ معاملات ہر فرد کو متاثر کرتے ہیں۔
دوسروں کی منفی آراء: ذاتی،مذہبی یا سیاسی اعتقادات پر دوسروں کی منفی رائے ذہنی تناﺅ پیدا کرتی ہے۔
ملازمت میں عدم اطمینان: ملازمت سے غیر مطمئن ہونا،کام کا زیادہ دباو¿ یا دفتروں میںباہمی اختلاف ذہنی دباو کی وجہ بنتے ہیں۔

ناخوشگوار ماحول: غیر محفوظ ماحول،کوئی ناخوشگوار واقعہ یا قدرتی آفت بھی ذہنی دباو¿ کی وجہ بن سکتی ہیں۔

کرنے کے کام
ذہنی دباو سے بروقت نمٹاضروری ہے۔اس سے پہلے کہ یہ آپ کی زندگی کو متاثر کرنے لگے، آپ ایسے طریقے اختیار کرنے کی کوشش کریں جن سے اس پر قابو پا لیا جائے۔اس سلسلے میں درج ذیل اقدامات مفید ثابت ہو سکتے ہیں :

منفی اور مثبت سوچ
منفیسوچیںذہنی دباوکو جنم دیتی ہیں۔آپ جتنا زیادہ اس طرح سوچیں گے، اتنا ہی الجھتے جائیں گے۔ اس لےے اگر کسی مسئلے میں الجھ جائیں اور کوئی راہ نہ سجھائی دے رہی ہو تو کسی ایسے فرد سے مشاورت کریں جو خود مثبت سوچ کا حامل ہو۔ اس طرح آپ کو ذہنی دباو سے بچاو میں مدد ملے گی۔
مثبت سوچ ذہنی دباو کو مات دینے میںبہت معاون ثابت ہوتی ہے۔اس صورت حال میں یہ کام ذر امشکل ہوتاہے لیکن تھوڑی سی کوشش سے اسے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔زندگی میں مثبت سوچ رکھنے سے آپ نہ صرف ذہنی دباو¿ سے بچے رہیں گے بلکہ آپ کے لےے مطمئن اور پرسکون زندگی گزارنا آسان ہو جائے گا۔

خود کو وقت دیں
آج کل معمولات زندگی کچھ ایسے ترتیب پا گئے ہیں کہ خود اپنے لےے وقت نکالنا مشکل ہو گیا ہے۔اس وجہ سے بھی طبیعتوں میں چڑچڑاپن پید اہونے لگاہے۔ روزانہ اپنے لےے کچھ وقت ضرور نکالیں جسے آپ اپنی مرضی کے مطابق گزارسکیں۔اس مشق کے بعد آپ اپنی طبیعت میںواضح فرق محسوس کریں گے۔

ہنسیں اور مسکرائیں
ہنسی کو علاج غم اور بہترین دوا قرار دیا گیا ہے۔ جب ہم ذہنی دباو¿ کا شکار ہوتے ہیں تو بہت سنجیدہ ہو جاتے ہیں اور ہنسنا بھول جاتے ہیں۔نتیجہ یہ نکلتاہے کہ پریشانی ہمیں دوگنی محسوس ہوتی ہےں ۔ایسے میں ہنسنا یا کم از کم مسکرانا کافی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔اس کے لےے آپ مختلف طریقے اختیار کر سکتے ہیں ۔ مثلاً کوئی مزاحیہ فلم دیکھیں یا حس مزاح رکھنے والے دوستوں کی صحبت میں کچھ دیر بیٹھ جائیں۔

تفریح کے لئے وقت نکالیں
معمولات زندگی میں لمبے عرصے تک ےکسانیت سے بھی طبیعت بےزار ہونے لگتی ہے۔ اس لےے ہمیں ہر کچھ عرصے بعدسیر وتفریح کی غرض سے کسی پر فضا مقا م یا پارک وغیرہ کا رخ کرنا چاہےے۔اس سے نہ صرف آپ کی طبیعت ہشاش بشاش ہو گی بلکہ ذہن بھی تروتازہ ہو گا۔

ماحول میں تبدیلی لائیں
انسانی فطرت تبدیلی کو پسند کرتی ہے ۔اس لئے ماحول میں چھوٹی موٹی تبدیلی لائیں، یہ آپ کے دل و دماغ پر مثبت اثر ڈالے گی۔ دفتر میں اپنے ٹیبل پر بہت زیادہ چیزیں یا انہیں بکھیرے رکھنے سے پر ہیز کریں۔ اسی طرح کچھ عرصے بعداپنے کمرے میں چیزوں کی ترتیب تبدیل کرنے سے آپ اچھا محسوس کریں گے۔

مشاغل مت چھوڑیں
ذہنی دباو¿کی وجہ سے لوگ اپنے مشاغل تک چھوڑ بیٹھتے ہےں۔ ایسا کرنا آپ کو مزید دباو¿ کا شکار کرسکتا ہے۔ اس لےے ضروی ہے کہ آپ انہیں وقت دیں ۔ان سے آپ کو ذہنی دباو¿ کم کرنے میں کافی مدد ملے گی۔
پر سکون نیندکا اہتمام کریں
پریشانیوں کے باعث اکثر لوگوں کی نیند کم ہو جاتی ہے ۔دماغ کو تروتازہ کرنے اور ذہنی دباو¿ کوکم کرنے کے لےے یہ بہت اہم ہے۔اس لےے کم از کم چھے گھنٹوں کی پر سکون نیندضرور لینی چاہےے۔

ورزش کو معمول بنائیں
روزانہ ورزش بھی ذہنی دباو¿ سے بچاو¿ میں مدد دیتی ہے۔اس لےے ہر روز کم از کم 30سے20 منٹ چہل قدمی ،جاگنک، فٹ بال یا ٹینس وغیرہ جیسی سرگرمیاں اپنی معمول میں شامل کریں۔

مساج سے دباﺅ کم، تھکاوٹ دور
ذہنی دباو کو کم کرنے کے لےے مساج سے مدد لی جاسکتی ہے۔ اس سے جسمانی تھکاوٹ سے بھی نجات ملتی ہے۔
لیونڈر اور مالٹے کی خوشبو
لیونڈر اور مالٹے کی خوشبو ذہنی دباو¿ کو کم کرتی ہے۔اس مقصد کے لےے آپ اپنے کمرے میں لیونڈر کا ائیر فریشنربھی استعمال کرسکتے ہیں۔

نیم گرم پانی سے نہانا
نیم گرم پانی سے نہانے سے ہم نہ صرف ہلکاپھلکامحسوس کرتے ہےں بلکہ ہماراذہن بھی پر سکون ہوتاہے۔
(ن۔ح)

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x