خون کا خوف مقابلہ کیسے کریں

51

آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض لوگ خون دیکھ کر بہت زیادہ خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ وہ جانوروں کو ذبح ہوتے یا حادثات میں زخمی ہونے والوںکو دیکھنے کی ہمت نہیں کر پاتے ۔بہت سے لوگ سرنج کے خوف کی وجہ سے سنگین بیماریوں کی بھی ویکسی نیشن نہیں کرا پاتے اور ہر ایسی صورت حال سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں جس میں خون دینے یا لینے کا معاملہ ہو‘ کوئی بلڈ ٹیسٹ کرانا‘ انجیکشن لگوانا یا کوئی چھوٹا موٹا آپریشن کروانا ہو۔ہم نے ایسے طالب علم بھی دیکھے ہیں جو آپریشن کے خوف سے اس پیشے کا انتخاب نہیں کرتے ۔اس خوف میں مبتلا افراد ٹیلی وژن یا فلموں میں اس قسم کے مناظر دیکھنے سے خود کو بچاتے ہیں‘ حتیٰ کہ وہ اس قسم کی معلومات پڑھنے سے بھی ہچکچاتے ہیں ۔

یہ خوف بھی بے جا خوف ( فوبیاز)کی ایک قسم ہے تاہم اس کا عملی اظہارخوف کی دیگر قسموں سے مختلف ہوتاہے ۔ گزشتہ اقساط میں جن بھی بے جاخوف کا ذکر کیا گیا ہے‘ ان کا جسمانی طور پر اظہار دل کی دھڑکن تیز ہونے ، پسینہ آنے اور سانس کی رفتا ر زیادہ ہونے سے ہوتا ہے ۔ اس کے برعکس اس خوف کے شکار افراد کو جونہی ایسی صورت حال کا سامنا ہوتا ہے‘ ان کا بلڈ پریشر بڑھتا اور پھر اچانک کم ہو جاتا ہے جس سے ان پر وقتی طور پربے ہوشی کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔یہ صورت حال قریبی عزیزوں ‘حتیٰ کہ ڈاکٹر کے لیے بھی پریشان کن ثابت ہو تی ہے۔

خون سے خوف کیوں
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس میں لوگ بے ہوش کیوں ہو جاتے ہیں۔ اس کے بارے میں مختلف نظریات ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ زمانہ قدیم میں انسان کو وحشی جانوروں کا سامنا زیادہ رہتا تھا جنہیں دیکھ کر وہ بے ہوش ہو جانا تھا۔ ایسا ہو جانے کی وجہ سے وہ ان جانوروں سے بچ جاتا تھا ‘ اس لئے کہ اکثر درندے بے ہوش انسانوں کو مردہ سمجھ کر اس پر حملہ نہیں کرتے تھے۔ خطرے سے بچائو کا یہ طریقہ انسانوں کے لا شعور میں باقی رہ گیا ہے اور اس کا اظہار لاشعوری طور پر ہو جاتاہے۔
فوبیا کے بارے میں ہم جان چکے ہیں کہ ان میں مبتلا افراد کے خیالات غیر حقیقی ہوتے ہیں جو اس کے خوف کو نہ صرف برقرار رکھتے ہیں بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ان میں اضافہ بھی کرتے چلے جاتے ہیں۔مثال کے طور پر خون سے خوف کا شکار فرد یہ سوچتا ہے کہ سرنج جسم کے اندر رہ جائے گی،ڈاکٹر یا نرس سرنج چبھوتے وقت کوئی بڑی غلطی کر دے گی جس سے ان کی جان چلی جائے گی۔انہیں لگتا ہے کہ سرنج لگواتے وقت وہ اتنا زیادہ خوف زدہ ہو جائیں گے کہ ان کا خود پر کنٹرول ختم ہو جائے گا۔ان خیالات کی وجہ سے وہ فرد ڈا کٹر، ہسپتال، خون ، دانتوں کے علاج اور خون آلود تصویروں، ڈراموں ، فلموں اوراس سے متعلق پیشوں سے سختی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ طرز فکرو عمل ان کے اندرکے خوف کو مزید پختہ کرتا چلا جاتا ہے ۔

علاج کیا،نجات کیسے
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا یہ خوف کم ہو جائے تو سب سے پہلے آپ کو اس سے وابستہ خیالات کو چیلنج کرنا ہوگا۔اس کے لئے آپ خود سے پوچھیں کہ آپ کے پاس اس بات کا کیا 100فی صدثبوت ہے کہ سرنج آپ کی جلد کے اندر ہی رہ جائے گی یا وہیں ٹوٹ جائے گی۔ آپ کے سامنے ایسے کتنے کیس آئے جن میں اس طرح کے واقعات رونما ہوئے ۔دوسراطریقہ یہ ہے کہ آپ ان خیالات کو اپنے سابقہ تجربات سے چیلنج کریں۔ مثلاً ڈینٹسٹ سے دانت چیک کروانا اگر آپ کو خطرناک لگتا ہے تو اس تجربے سے گزرنے کے بعد دیکھیں کہ کیا اتنا ہی خطرناک یا تکلیف دہ تھا جتنا کہ آپ نے سمجھ رکھا تھا۔ تیسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ دوسروں کو اس کیفیت سے گزرتے دیکھیں۔ مثلاً دوسروں کو خون دیتے ہوئے یا لیتے ہوئے ، ڈاکٹر سے علاج کرواتے ہوئے اور سرنج لگواتے ہوئے مشاہدہ کریں اور اپنے خیالات کو پرکھیں کہ اس دوران کیا واقعتاً ایسا ہی ہوتاہے جیسا کہ آپ تصور کرتے ہیں۔

ایک قابل عمل تکنیک
جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے‘ اس قسم کے بے جا خوف میں سب سے اہم مسئلہ بے ہوش ہو جانا ہے۔آپ ایک طریقہ استعما ل کر کے اس کے امکانات کم کر سکتے ہیں۔ اسے پٹھوں میں کھچائو لانے کی تکنیک (Muscle Tension Technique) کہتے ہیں۔
اس کا طریقہ یہ ہے کہ جب آپ کا سامنا ایسی صورت حال سے ہو اور آپ بے ہو شی کی کیفیت محسوس کرنے لگیں تو ایک آرام دہ کرسی پر بیٹھ جائیں ۔اس کے بعد اپنے دھڑاور ٹانگوں کے پٹھوں میں سختی پیدا کر کے ان میںکھچائو لائیں ۔اس سختی کو 10 سے15 سکینڈ تک برقرار رکھیں اور پھر خود کو پرسکون کر لیں۔ ایسا پانچ بار کریں۔ایسا کرنے سے آپ کا بلڈ پریشر کم نہیں ہو گا اور بے ہوشی کے چا نسز کم ہو جائیں گے۔

اس خوف سے نکلنے کے لیے صرف بے ہو شی پر قابو پانا کافی نہیںبلکہ آپ کو ان چیزوں کا بار بار سامنا کرنا ہو گا جن سے آپ خوف محسوس کرتے ہیں‘ حتیٰ کہ آپ کاخوف آپ کی برداشت کی حد تک آ جائے۔ مثلاً اگر آپ خون سے خوف محسوس کرتے ہیں تو ایسی فلمیں دیکھیں جن میں خون دکھا یا گیا ہو ۔اگر آپ کو اس سے خوف محسوس ہوتا ہو اور دل انہیں نہ دیکھنے کو چاہتا ہو تو خود کو اس کیفیت سے بچا نے کی خواہش پر قاپو پائیں اور پھر اسے دیکھنے کی کوشش کریں ۔حقیقی زندگی میں بھی اس کا سامنا کریں۔ اگر کوئی منفی سوچ آئے یا بے ہوشی طاری ہونے لگے تو اوپر بتائے گئے طریقوں سے اس کا مقابلہ کریں ۔
اگر آپ کو سرنج سے خوف آتا ہو تو خود کو سرنج لگتے ہوئے تصور کریں اور اپنی سوچ کو پرکھیں کہ جوخیالات آپ نے اپنائے تھے‘ وہ کس حد تک سچ ثابت ہوئے ۔ یہ بھی دیکھیں کہ اس دوران آپ کی کیفیت کیا ہے، کیا آپ کا سانس رک رہا ہے یا درد بہت زیادہ ہوتا ہے۔آپ اپنے حواس اور خود پر قابوپائیں‘ آپ دیکھیں گے کہ اس کے بعد یہ خوف حیرت انگیز حد تک کم ہوتا چلا جائے گا۔

اگر آپ کو علاج کروانے یا ڈینٹسٹ کے پاس جانے سے خوف آتا ہے تو آپ اس کی ویڈیو زدیکھ کریا بار بار اس کو تصور میں لا کر اس پر قابو پا سکتے ہیں ۔یہ بات ذہن نشین رکھیں کہ آپ نے اچانک خون کا سامنا نہیں کرنا بلکہ کم درجے سے شروع کرتے ہوئے زیادہ مشکل درجے کی طرف جانا ہے ۔یہ درجات اس لیے بنائے گئے ہیں تاکہ آپ آسانی سے اپنے خوف میں کمی لا سکیں ۔
آخری بات یہ ہے کہ آپ کو جس بھی خوف کو ختم کرنا ہے‘ اس کا بار بار سامنا کریں ۔ خود کو تسلی دیں کہ یہ بات بہت سی تحقیقات سے ثابت شدہ ہے کہ خوف کاباربار سامنا کرنے سے وہ یقینی طور پر کم ہوجاتا ہے۔اپنے خوف پر قابو پانے کے لیے مستقل مزاجی سے کام کرنا شرط اولین ہے۔

شہزاد حسین
کلینیکل سائیکالوجسٹ
ڈی ایچ کیو ہسپتال‘ جہلم

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x