بول میری مچھلی کتنا پانی

211

لوگوں کی بڑی تعدادپالتو جانوراور پرندے مثلاً بلی، کتا، بکریاں، طوطے، مرغیاں وغیرہ پالنے میں دلچسپی رکھتی ہے لیکن کچھ باذوق لوگ مچھلیاں پالنے کے بھی شوقین ہوتے ہیں۔”جل کی رانی“ یعنی مچھلی کو گھر میں رکھنا اور اس کی شوخیوں سے لطف اندوز ہونانہ صرف ایک صحت بخش مشغلہ ہے بلکہ یہ دن بھر کی تھکاوٹ دور کرنے اور موڈ کو بہتر کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔

ایسا ماحول گھر میں بنانا اب نہایت آسان ہے۔اس مقصد کے لئے خوبصورت پتھروں اور سمندری پودوں سے سجا صاف شفاف ایکویرئیم جہاں مچھلیوں کو ان کی ضرورت کے مطابق موزوں ماحول دیتا ہے وہیں گھر کی خوبصورتی کو بھی چار چاند لگا دیتا ہے۔

مچھلیوں کی اقسام
گھر میں رکھی جانے والی خوبصورت مچھلیوں کی بہت سی اقسام ہیں جن میں گولڈ فش، البینو، کلون لوچ، ٹیٹرا، گپی، اینجل فش، بٹرفلائی اور فائٹر فش شامل ہیں۔مچھلیوں کے مختلف دام اور نام ہیں جبکہ ان میں سب سے زیادہ پسند کی جانے اور گھروں میں رکھنے والی ”گولڈ فش“ہے۔
مچھلیوں کی دیکھ بھال

صاف شفاف پانی
مچھلی کی زندگی کے لئے صاف پانی بہت ضروری ہے لہٰذا اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ 8 سے 10 دن بعد ایکویرئیم کا پانی ضرورفلٹر ہوجائے۔ اس سے اس کے پیندے میں اکٹھا ہونے والا فضلہ اور جراثیم بھی دور ہوجائیں گے ۔ واضح رہے کہ مچھلی گھرمیں نل کا پانی ہی ڈالا جاتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ اس میں ڈالے جانے والے دانے، کنڈیشنر اور چند مخصوص ادویہ اس پانی میں تیزابیت اور آکسیجن کو ایک خاص سطح پر رکھتی ہیں جس کی وجہ سے یہ مچھلیاں زندہ رہ پاتی ہیں۔

پانی کی فلٹریشن
ایکویرئیم کا صاف پانی بڑی حد تک اس کی فلٹریشن پر منحصر ہوتا ہے۔ اس میں نصب کی گئی موٹریں اس کے اندر پانی کو گردش دیتی اور اسے صاف کر تی ہیں۔ فلٹریشن موٹر اگر نارمل کوالٹی کی ہوتو پانی کو 10سے15دنوں کے بعد تبدیل کرنا پڑتا ہے۔اس کے برعکس اچھی کوالٹی کی موٹر سے آپ کو تین ماہ تک پانی تبدیل کرنے کی ذمہ داری سے نجات مل سکتی ہے۔

پانی کا درجہ حرارت
پانی کا درجہ حرارت مچھلیوں کی زندگیوں پربہت زیادہ اور براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ مچھلی گھر کے پانی کا درجہ حرارت مناسب ہو ورنہ مچھلیاں بیمار ہوجائیں گی اور انتہائی صورت میں مر بھی سکتی ہیں۔ ان کے لئے پانی کا موزوں درجہ حرارت 22سے32 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ہے۔ اگرٹمپریچر اس لیول سے زیادہ ہو جائے تو پانی میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے مچھلیوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔ اس کے برعکس درجہ حرارت نیچے جانے سے مچھلی کو ٹھنڈ لگ سکتی ہے جو اس کے لئے جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔
درجہ حرارت کو ماپنے کے لئے ایکویریم پر ایک تھرما میٹر لگا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں کچھ ہیٹر بھی نصب کئے جاتے ہیں تاکہ وقت ضائع کئے بغیر پانی کا درجہ حرارت مناسب سطح تک لایا جاسکے۔ مگر خیال رہے کہ تھرما میٹر بھی درست حالت میں ہو۔

مچھلی کی خوراک
مچھلی گھر خریدتے وقت ہر گاہک کو تین ماہ کے لئے مچھلی کی مخصوص خوراک اور ادویہ دی جاتی ہیں جو اس کی اچھی صحت کی ضامن ہوتی ہیں۔یہ چیزیں مچھلی کی اقسام کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہیں۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ خوراک‘ تجویز کردہ مقدار سے زیادہ نہ ہو ورنہ یہ مچھلیوں کی صحت کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ مچھلی گھر میں لگے فلٹرز کا کام بھی بڑھا دے گی۔ عام طور پر مچھلیوں کو دن میں دو مرتبہ خوراک دی جاتی ہے۔
پودے ‘فضلہ جذب کرنے کی صلاحیت
ایکویرئیم میںپودوںکا مقصد مچھلی گھر کی خوبصورتی بڑھانے کے ساتھ ساتھ چھوٹی چھوٹی شرمیلی مچھلیوں کو چھپنے کے لئے محفوظ مقام بھی مہیا کرنا ہے۔پودوں کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ آکسیجن کی بڑی مقدار پانی میںخارج کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے مچھلیاں صحت مند ماحول میں سانس لے پاتی ہیں۔اس کے علاوہ یہ مچھلیوں کا فضلہ (امونیا اور نائیٹریٹ) اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں۔ان پودوں کے اترنے والے پتوں کے لئے فلٹر کا استعمال بہت ضروری ہے۔ مچھلی گھرکا یہ ماحول مچھلیوں کو زندہ رہنے میں بہت مدد دیتا ہے۔
مچھلیاں رکھیں لیکن ان کی دیکھ بھال ،صفائی اور خوراک کا لازماً خیال رکھیں تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سے اتنا ہی لطف اٹھائیں جتنا آپ ان کے ساتھ سے اٹھاتے ہیں۔


 

مچھلیوں کے بارے میں چند دلچسپ حقائق
مچھلیوں کی دیکھ بھال کرنے والا ربورٹ
روبو ایکیوریم آپ کی پالتو مچھلیوں کے لئے بہت اچھی ایجاد ہے جس کے ڈچ ڈیزائزز نے اسے” فش آن ویلز “کا نام بھی دیا ہے۔اس سے مچھلیاں روزانہ گھومنے پھرنے کے ساتھ اپنے گھر کے باہر نئی دنیا بھی دریافت کرسکیں گی۔ ریموٹ کنٹرول ایکیوریم میں کیمرہ نصب ہے جو مچھلی کی حرکت دیکھتے ہوئے ہی روبو ایکیوریم کی حرکت کنٹرول کرتا ہے۔

مچھلیوں کی چہچہاہٹ
آسٹریلوی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ صبح سویرے صرف چڑیاں ہی نہیں چہچہاتیں بلکہ مچھلیاں بھی ایک ساتھ مل کر آوازیں نکالتی ہیں جنہیں مچھلیوں کی چہچہاہٹ سے تشبیہہ دی جاسکتی ہے۔اب تک خشکی اور پانی میں پائے جانے والے جانوروں کی 800 سے زیادہ ایسی انواع دریافت ہوچکی ہیں جو خاص طرح کی آوازیں نکال کر آپس میں باتیں کرتی ہیں، ایک دوسرے کو دھمکیاں دیتی ہیں، مدد کے لیے پکارتی ہیں اور اپنے مُردوں کا ماتم تک کرتی ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے جب مچھلیوں کا زیرِ آب چہچہانا بھی دریافت کیا گیا ہے۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق کرٹن یونیورسٹی پرتھ(آسٹریلیا) میں ماہرینِ حیاتیات نے 18 ماہ تک مچھلیوں کی مختلف اقسام کا مطالعہ کیا اور دریافت کیا کہ صبح طلوع آفتاب اور شام میں سورج غروب ہوتے وقت مچھلیاں ایک ساتھ مل کر (پانی کے اندر) خاص آوازیں پیدا کرتی ہیں جیسے سورج کی آمد و رخصت کا اعلان کررہی ہوں۔ پانی میں ہونے کی وجہ سے ان کی آوازیں ایسے لگتی ہیں جیسے مکھیاں بھنبھنا رہی ہوں۔ مطالعے کے دوران انہوں نے ایسی سات آوازیں ریکارڈ کیں جن میں زیرِ آب ایک ساتھ (یعنی کورس میں) چہچہاتی ہوئی مچھلیوں کی آوازیں صاف سنی جاسکتی ہیں۔مثلا کلان فش کی آواز جھینگر کی جھائیں جھائیں سے مماثلت رکھتی ہے جب کہ اوئسٹر ٹوڈفش کہلانے والی مچھلیوں کی آواز مینڈک کی ٹرٹراہٹ سے مشابہت رکھتی ہے۔ ان میں سے بعض مچھلیاں اپنے دانت کٹکٹاتی ہیں جبکہ کچھ اقسام کی مچھلیاں آوازیں پیدا کرنے کے لیے گلپھڑوں کا استعمال کرتی ہیں۔