ہماری صحت کس کا مسئلہ ہونا چاہیئے

100

مختلف النوع ہنگامی صورتوں میں صحت کی ایمرجنسی غالباً وہ واحد ایمرجنسی ہے جہاں فوری اقدام کیا جاتا ہے یا اسے فوری اقدام کے قابل سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس ہنگامی صورت میں ایک فرد کی عافیت حتی کہ بعض صورتوں میں بقا بھی خطرے کی زد میں ہوتی ہے۔ ہم سب ایمبولنسوں کو راستہ دینے، شعبہ ایمرجنسی میں ڈاکٹروںکے مریضوں تک دوڑکر پہنچنے اور مریضوں کے اہل خانہ کا مریض کی حالت خطرے سے باہر ہونے تک ہر کام چھوڑ دینے کے مناظر سے بخوبی واقف ہیں۔ یہ بالکل فطری سی بات ہے، انسانی عافیت اور بقا کوہمیشہ ہر ممکن حد تک دیگر تمام کاموں پر فوقیت حاصل ہونی چاہیے۔
تاہم حیرانی کی بات یہ ہے کہ اپنے پیاروں کی عافیت اور تحفظ کے لئے عام حالات میں اس تشویش کا عشرِ عشیر بھی دیکھنے کو نہیں ملتا جس کا مظاہرہ ہنگامی صورتوں میں سامنے آتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ایک فرد عام حالات میں اس طرح کے رویئے کا مظاہرہ نہیں کرتا جیسا وہ ہنگامی صورتوں میں کرتا ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی قابل فہم ہے کہ عام حالات نہیں بلکہ ہنگامی حالات ہی فوری اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔ تاہم یہ مظہر حیران کن ہے کہ جس طرح ہنگامی صورتوں میں ہماری اپنے پیاروں کے لئے تشویش اور فکر بڑی نمایاں ہوتی ہے بالکل اسی طرح عام حالات میں ایسے پر خطر اور غافلانہ رویوںکا مظاہرہ اور مناسب احتیاط برتنے میں ناکامی بھی عام دیکھنے کو ملتے ہیں جو ہمیں ممکنہ طور پر ہنگامی صورت حال کا شکار کر سکتے ہیں۔ یہ متضاد رویہ نفسیات دانوں اور نفسیاتی معالجین کے لئے تحقیق کا ایک دلچسپ موضوع ہو سکتا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کی کوئی وضاحت پہلے سے ہی دستیاب ہو۔
تاہم ہماری توجہ کا مرکز یہ نکتہ ہے کہ ہماری صحت اور عافیت کس کا مسئلہ ہے۔کیا ڈاکٹر ہماری صحت کے ذمہ دار ہیں؟ یا ہماری صحت کا خیال کرنا ہسپتالوں اور صحت سے وابستہ حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے؟ ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کے اس انتہائی اہم پہلو کا انچارج کون ہے؟ دلچسپ جواب یہ ہے کہ مذکورہ بالا افراد اور اداروں میں سے کوئی بھی ہماری صحت کا نہ تو ذمہ دار ہے اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ہماری صحت سے زیادہ ہماری بیماریاں شعبہ صحت کے اداروں، ہسپتالوں، دوا ساز کمپنیوں، ڈاکٹروں اور میڈیکل کمیونٹی کے لئے تشویش کا موضوع ہیں۔ یہ ادارے، تنظیمیں، کاروبار اور افراد اس لئے قائم کئے گئے ہیں اور ان کی تربیت ان خطوط پر کی گئی ہے کہ یہ اس وقت ہماری مدد کریں جب ہم بیمار پڑ جائیں۔ یہ صرف بیماری کا شکار ہونے کے بعد ہی ہوتا ہے کہ ہسپتال اور ڈاکٹر ہماری ”نگہداشت صحت“ کے ذمہ دار بنتے ہیں۔ ان کا اصل کام ”بیماروں کی نگہداشت“ ہے۔ ہماری بیماریوں کا علاج کرتے ہوئے اور ہمیں صحت یاب ہونے میں مدد فراہم کرتے ہوئے یہ اپنا اصل کام یعنی ”بیماروں کی نگہداشت“ کر رہے ہوتے ہیں۔
صحت کا آغاز مذکورہ بالا صورت حال سے بہت پہلے یعنی گھر سے ہوتا ہے اور یہ خراب ہونا بھی گھر سے ہی شروع ہوتی ہے۔ میڈیسن اور ٹیکنالوجی میں حیران کن پیش رفتوں کے باوجود ابھی تک کوئی ایسا نظام موجود نہیں ہے جو ایسے لوگوں کو صحت مند رہنے میں مدد دے سکے جو خود اپنی صحت اور اپنے گھروں میں صحت مندانہ ماحول قائم کرنے کی ذمہ داری اٹھانے میں ناکام یا اس سے منکر ہوں۔ متعلقہ حکومتی اداروں کو اس فکر کو ترویج دینی چاہئے تاکہ ایسی بیماریوں کے ساتھ صحت کی سہولیات لینے کے لئے آنے والے مریضوں کی تعداد کم سے کم کی جا سکے جن بیماریوں سے پرہیز ممکن ہے۔ شعبہ صحت پر قومی اخراجات کا ایک مناسب حصہ صحت کے بارے میں آگاہی پھیلانے پر بھی صرف ہونا چاہئے۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of