تھکاوٹ کی اقسام

0

تھکاوٹ کی اقسام

ہمارے ہاں بہت سےا فراد ہیں جوپوری نیند لینے اورمناسب آرام کرنے کے باوجود مسلسل تھکن کا شکار رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض فارغ رہنے کے باوجود تھکے رہنے کی شکایت کرتے ہیں۔ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے میڈیکل سپیشلسٹ ڈاکٹر قمراعوان  کے مطابق اس کا تعلق تھکن کی دو بڑی اقسام جسمانی اورمرضیاتی تھکن سے ہے۔

عام جسمانی تھکن

یہ تھکن شدید محنت کے بعد پیدا ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں خون میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دودھ کا تیزاب جمع ہوکر توانائی کو چوس لیتے ہیں۔ اس سے تھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے۔ مناسب آرام کے بعد صورت حال ٹھیک ہوجاتی ہےکیونکہ اعصاب کو مناسب آرام کا موقع مل جاتا ہے۔

مرضیاتی تھکاوٹ

اس قسم کی تھکاوٹ جسمانی نظام میں کسی خلل کی نشاندہی کرتی ہے۔ ذیابیطس‘سرطان‘امراض قلب اورسانس کی بیماریاں مریض کی توانائیاں مسلسل ضائع کرتی رہتی ہیں۔ اسکے باعث تھکاوٹ اور کمزوری کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں۔اس کی کچھ مثالیں درج ذیل ہیں

٭خون کی کمی کے باعث انیمیا کے مریضوں کے اعصاب کو آکسیجن بہت کم پہنچتی ہے لہٰذا وہ اکثر تھکے تھکے سے رہتے ہیں۔

٭پیٹ کے کیڑے بھی جسمانی تھکاوٹ کی وجہ بن جاتے ہیں۔ یہ خون کے سرخ ذرات پر پلتے ہیں اورانسانی جسم کو بہتر نشوونمااورتوانائی کے اہم ذخیرے سے محروم کردیتے ہیں۔

٭ ہمارے گلے میں ایک تھائی رائیڈ گلینڈ ہوتا ہے جو غذا کو جذب اور ہضم کرنے کے نظام کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔ جب یہ گلینڈ پوری طرح سے متحرک نہیں ہو پاتا تواس نظام میں سُستی آ جاتی ہے اور فرد کو تھکن محسوس ہوتی ہے۔

٭ گردوں پر ایک اورغدہ ’’ایڈرینل گلینڈ‘‘ پایا جاتا ہے جوبیماریوں اوربیرونی عناصرسے لڑنے میں معاون ہوتا ہے۔ غصہ، ذہنی دبائو ، پریشانیاں‘خوف‘زہریلے مادے اورانفیکشن اسے ہمہ وقت مصروف رکھ کر تھکا دیتے ہیں۔ اسے ایڈرینل تھکاوٹ کہا جاتا ہے۔

٭شدید تھکاوٹ کی شکایت کرنے والے بعض افراد اصل میں ڈپریشن کے شکارہوتے ہیں، تاہم تھکاوٹ کی وجہ سے وہ اپنی اصل بیماری کو سمجھ نہیں پاتے۔

خواتین کی تھکن

بہت سی گھریلو خواتین کوبظاہر کوئی جسمانی تکلیف نہیں ہوتی لیکن پھر بھی وہ خود کو بہتر محسوس نہیں کرتیں۔ وہ اکثر سردرد‘ کمردرد‘ بیزاری‘ اعصابی تنائو اورتھکاوٹ کی شکایت کرتی ہیں۔اس حوالے سے ڈی ایچ کیو ہسپتال فیصل آبادکی ماہر نفسیات ڈاکٹرعاصمہ ارشد باجوہ کہتی ہیں کہ جس تھکن سے انہیں زیادہ تکلیف پہنچتی ہے‘ وہ جسمانی نہیں بلکہ ذہنی ہے۔ انسان جب اپنی فکریں اور پریشانیاں کسی سے نہیں کہہ پاتا تو اس کے پیدا کردہ ذہنی دبائو کی وجہ سے اس کے اعصاب اندر ہی اندر تھکنے لگتے ہیں۔ تھکاوٹ کی شکایت کرنے والی اکثر گھریلوخواتین کااصل مسئلہ یہی ہے۔

اس کے علاوہ ماہانہ ایام کے دوران بعض خواتین کا خون زیادہ بہتا ہے جس سے ان میں خون کی کمی ہوجاتی ہے۔ یوں خلیوں اور بافتوں (ٹشوز) کو آکسیجن فراہم کرنے کی رفتار بھی سست ہو جاتی ہے جس سے وہ تھکی تھکی سی رہتی ہیں۔

lactic acid, anemia, adrenal fatigue, types of fatigue , physical

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x