رحمِ مادر میں بچے کوخون کی فراہمی

2

رحمِ مادر میں بچے کوخون کی فراہمی

بچے کی پیدائش تقریباً ہرشادی شدہ جوڑے کی فطری خواہش ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مرحلہ ان کے لئے ان کے لئے باعث مسرت ہوتا ہے۔ تاہم اگراس کے ساتھ کچھ پیچید گیاں بھی جڑی ہوں تو یہ ان کے لئے پریشانی کاباعث بنتی ہے۔

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے مبشرعلی اوران کی اہلیہ کو بھی ایسی ہی صورت حال کا سامنا تھا۔ وہ ماضی میں اپنے دو بیٹوں اورایک بیٹی کو پیدائش کے کچھ ہی دیر بعد کھونے کے درد سے گزر چکے تھے۔اس دفعہ جب حمل ٹھہرا تو وہ کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتے تھے لہٰذا انہوں نے شفاانٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد آنے کا فیصلہ کیا۔ یہاں ان کا رابطہ ماہرامراض بچگان ڈاکٹر یاسرمسعود اور ماہرامراض نسواں ڈاکٹر شازیہ فخر سے ہوا۔

جب والدین سے  پہلےبچوں کے انتقال کی وجہ پوچھی تو وہ بس اتنا جانتے تھے کہ اس کا سبب خون کی کوئی بیماری ہے۔ ڈاکٹر یاسرمسعود نے اس کی وضاحت کچھ یوں کی کہ

اس کا سبب ریسس نامی ایک مرض ہے جو آج کل کافی عام ہے۔ اس کا سبب میاں اور بیوی کے بلڈ گروپ کا مختلف ہونا ہے۔ اگر ماں اور بچے کا بلڈگروپ مختلف ہوں تومسائل جنم لیتے ہیں۔

اس کی تفصیل کچھ یوں ہے: فرض کریں کہ ماں کے خون کا گروپ نیگٹو اورباپ کا پازیٹو ہے۔ ایسے میں بچے کے خون کا گروپ دونوں میں سے کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ اگروہ نیگٹو ہو توماں کے خون کا بھی وہی گروپ ہونے کی وجہ سے کوئی مسئلہ نہیں بنتا۔ لیکن اگر وہ پازیٹو ہو توماں کا خون اس کے خلاف اپنے اندراینٹی باڈیز بنانا شروع ہو جاتا ہے۔ ایسا بچہ پیدائش کے وقت شدید قسم کے یرقان اورخون کی کمی کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس  سے بچنے کے لئے پہلے بچے کی پیدائش کے فوراً بعد اس کا بلڈ گروپ دیکھا جاتا ہے۔اگر وہ پازیٹو ہو تو ماں کو ڈیلوری کے فوراً بعداوراگلے حمل میں اینٹی ڈی انجیکشن لگوانا نہایت اہم ہے۔

ماں اگر ایک دفعہ اپنے اندرپازیٹو بلڈ کے خلاف اینٹی باڈیز پیدا کر لے تو پھر کچھ نہیں ہو سکتا۔ یہ اینٹی باڈیز بچے کے خون کے سرخ خلیوں کو تباہ کرنا شروع کر دیتی ہیں اوراسے یرقان ہو جاتا ہے۔ میاں اوربیوی کے بلڈگروپ مختلف ہونے کی صورت میں ہر حمل کے دوران بچے کا بلڈ گروپ معلوم کرنا لازمی ہے۔ اس لئے کہ یہ اس سے اگلے حمل کو متاثر کر سکتا ہے ۔

مبشرعلی کی اہلیہ اس صورت حال سے دوچار تھیں۔ ڈاکٹر یاسر کے بقول بچے کوپیچیدگیوں سے بچانے کے لئے رحم مادر کے اندرہی چار مرتبہ بلڈ ٹرانسفیوژن دی گئی۔ ڈلیوری سے قبل معالج نے والدین کو آگاہ کیا کہ پیدائش کے بعد بچے کے خون کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہوگی۔ یہ عمل کیسے انجام پایا‘ اس کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر یاسرمسعود نے کہا

بچے کا خون تبدیل کرنے کے لئے دو پتلی نالیاں ڈالی گئیں۔ ان میں سے ایک کی مددسے خون دیا جا رہا تھا جبکہ دوسرے سے بچے کے اندر پہلے سے موجود مختلف خون کو نکالا جا رہا تھا۔ اس طریقہ کار کو ایکسچینج ٹرانسفیوژن  کہتے ہیں۔ اسی کے باعث بچے کی جان بچ گئی۔

مبشر علی کا کہنا تھاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے بعد ڈاکٹر یاسر، ڈاکٹر شازیہ اور شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے شکر گزارہیں۔ انہوں نے بچے کا بہت اچھی طرح خیال رکھااوربہترین علاج کیا۔ ڈاکٹر کا بھی کہنا تھا کہ بچے کو تندرست اور والدین کو مطمئن دیکھ کر انہیں بہت خوشی ہوئی ۔

ہم سب کی زندگی میں مختلف نوعیت کے مسائل آتے رہتے ہیں ۔ ان سے پریشان یا مایوس ہونے کی بجائے اپنے اندرامید کی ایک کرن ہمیشہ جگائے رکھنی چاہئے اوراپنے بس میں جو ہو‘ وہ کرتے رہنا چاہئے۔ مرض کے بارے میں درست معلومات نہ ہونااورعلاج میں تاخیرسے مسئلہ  بگڑ سکتا ہے لہٰذا اس میں دیرنہیں کرنی چاہئے ۔

exchange transfusion, catheters, Jaundice, anemia, Rhesus, disease

3 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x