بیری بیری کی اقسام

0

 بیری بیری کی اقسام

اس کی اقسام  مندرجہ ذیل ہیں۔

گیلی بیری بیری

اس میں دل اور خون کی گردش کانظام بُری طرح متاثر ہوتا ہے۔ جب دل بحیثیت پمپ اپنا کام ٹھیک طرح سے نہیں کرپاتا تو مریض کے جسم میں پانی جمع ہونے لگتا ہےاور جسم سوج جاتا ہے۔ ایسے افراد کو سانس لینے میں دقت ہوتی ہے ‘ تھوڑی سی حرکت پر سانس اور نبض کی رفتاربڑھ جاتی ہے۔ اگر ان کا بروقت علاج نہ ہو تو یہ لوگ عارضہ قلب کی وجہ سے فوت بھی ہوسکتے ہیں۔ مرض کی اس قسم کو گیلی بیری بیری  کہاجاتا ہے۔اس کی وجہ تسمیہ مریض کے جسم میں فالتو پانی کا جمع ہوجانا ہے۔

خشک بیری بیری

اس میں فرد کے اعصابی نظام پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ ایسے مریضوں کے پٹھے آہستہ آہستہ کمزور ہوجاتے ہیں۔ یہ کمزوری ان کو اتنی متاثر کرتی ہے کہ بالآخر وہ چلنے پھرنے سے بھی معذور ہوجاتے ہیں۔ اُن کے ہاتھ پائوں سن ہوجاتے اور کانٹے کی طرح سوکھ جاتے ہیں۔ اس کا سبب ان کے پٹھوں کا شل ہوکر اپنا کام کرنا چھوڑ دینا ہے۔ وٹامن کی کمی کا اثر دماغ پر بھی ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ مریض ٹھیک طرح سے بول نہیں پاتے اورسوچنے سمجھنے میں دقت ہوتی ہے۔اُن کی چال بے ڈھنگی ہوجاتی ہے،اپناتوازن برقرارنہیں رکھ پاتے اور آنکھیں ادھر ادھر گھومتی رہتی ہیں( ڈیلے کا پھڑکنا)۔ یہ افراد اکثراوقات الٹیاں بھی کرتے ہیں۔

طفلانہ بیری بیری

ننھے بچوں میں یہ مرض طفلانہ بیری بیری کہلاتا ہے۔ یہ بالعموم دو سے چھ ماہ کے بچوں میں ہوتی ہے۔ ایسے میں ان کی آوازٹھیک طرح سے نہیں نکل پاتی اوربیٹھ جاتی ہے۔ایسے بچوں کا وزن بہت کم ہوتا ہے‘ انہیں اُلٹیاں زیادہ آتی ہیں اورپائوں وغیرہ میں سوجن بھی ہوجاتی ہے۔انہیں دست آتے ہیں‘ نبض تیز ہوجاتی ہے اور کبھی کبھی مرگی کی طرح کے دورے بھی پڑتے ہیں۔ایسے بچے چڑچڑے مزاج کے ہوتے ہیں ۔

چوتھی قسم

اس کی ایک چوتھی قسم بھی ہے جس کا تعلق معدے اور انتڑیوں سے ہے۔ایسے مریضوں کو پیٹ میں درد ہوتا ہے‘الٹیاں آتی ہیں اور اُن کے خون میں دودھ کا تیزاب بھی بڑھ جاتا ہے۔

beriberi, types, wet, dry, four types

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x