Vinkmag ad

ٹائپ 2 ذیابیطس

A Type 2 Diabetic person is monitoring his sugar level with the help of a glucose meter

ٹائپ 2 ذیابیطس (Type 2 diabetes) میں جسم انسولین کو مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کر پاتا۔ اس کے نتیجے میں خون میں شوگر کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ ماضی میں اسے بالغ افراد کی ذیابیطس کہا جاتا تھا۔ ٹائپ 1 اور ٹائپ 2 ذیابیطس دونوں بچوں اور بڑوں میں ہو سکتی ہیں، تاہم ٹائپ 2 ذیابیطس بڑی عمر کے افراد میں زیادہ عام ہے۔ حالیہ برسوں میں بچوں میں موٹاپے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے نوجوانوں میں بھی اس بیماری کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔

علامات

ٹائپ 2 ذیابیطس کی علامات عموماً آہستہ آہستہ ظاہر ہوتی ہیں۔ بعض افراد برسوں تک اس بیماری میں مبتلا رہتے ہیں، مگر انہیں اس کا علم نہیں ہوتا۔ اس کی علامات میں شامل ہیں:

٭ زیادہ پیاس لگنا

٭ بار بار پیشاب آنا

٭ زیادہ بھوک لگنا

٭ وزن میں کمی ہونا

٭ مسلسل تھکن محسوس ہونا

٭ دھندلا نظر آنا

٭ زخموں کا دیر سے بھرنا

٭ بار بار انفیکشن ہونا

٭ ہاتھوں یا پاؤں میں سن ہونے یا جھنجھناہٹ کا احساس ہونا

٭ بغلوں اور گردن کی جلد کا سیاہ پڑ جانا

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

اگر آپ میں ٹائپ 2 ذیابیطس کی کوئی بھی علامت ظاہر ہو تو جلد از جلد ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

وجوہات

ٹائپ 2 ذیابیطس بنیادی طور پر دو وجوہات کی بنا پر ہوتی ہے۔

٭ پٹھوں، چربی اور جگر کے خلیے انسولین پر مناسب ردعمل نہیں دیتے، جس کے باعث خون سے شوگر خلیوں میں مناسب مقدار میں داخل نہیں ہو پاتی

٭ لبلبہ اتنی انسولین پیدا نہیں کر پاتا کہ خون میں شوگر کی سطح کو صحت مند حد میں برقرار رکھ سکے

خطرے کے عوامل

درج ذیل عوامل ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔

٭ زیادہ وزن یا موٹاپا، جو اس بیماری کا سب سے بڑا خطرہ ہے

٭ کمر کے گرد زیادہ چربی جمع ہونا، خاص طور پر کولہوں اور رانوں کے مقابلے میں

٭ جسمانی سرگرمی کی کمی یا زیادہ دیر تک بیٹھے رہنا

٭ والدین یا بہن بھائی میں ٹائپ 2 ذیابیطس کی موجودگی

٭ اچھے کولیسٹرول (ایچ ڈی ایل) کی مقدار کم ہونا

٭ خون میں ٹرائی گلیسرائیڈز کی زیادہ مقدار ہونا

٭ عمر میں اضافہ، خاص طور پر 35 سال کے بعد

٭ پری ڈایابیٹیز، جس میں خون میں شوگر معمول سے زیادہ مگر ذیابیطس کی حد سے کم ہوتی ہے

٭ حمل کے دوران ذیابیطس ہونا

٭ حمل کے دوران چار کلوگرام سے زیادہ وزن والے بچے کی پیدائش، جس سے ماں میں بعد میں ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

٭ پولی سسٹک اووری سنڈروم، جس میں ماہواری بے قاعدہ ہوتی ہے، غیر ضروری بال بڑھتے ہیں اور موٹاپا ہو سکتا ہے

پیچیدگیاں

ٹائپ 2 ذیابیطس کی ممکنہ پیچیدگیوں میں شامل ہیں:

٭ دل اور خون کی نالیوں کی بیماریاں

٭ ہاتھوں اور پاؤں کے اعصاب کو نقصان

٭ جسم کے دیگر اعصاب کو نقصان

٭ گردوں کی بیماری

٭ آنکھوں کو نقصان

٭ جلد کی بیماریاں، جن میں بیکٹیریا اور فنگس سے ہونے والے انفیکشن شامل ہیں

٭ زخموں اور چھالوں کا دیر سے بھرنا، جس سے شدید انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے

٭ سماعت میں کمی

٭ نیند کے دوران سانس رکنے کی بیماری، جسے سلیپ اپنیا کہا جاتا ہے

٭ یادداشت کی کمزوری اور ڈیمنشیا، بشمول الزائمر، کا بڑھا ہوا خطرہ

بچاؤ کی تدابیر

صحت مند طرزِ زندگی ٹائپ 2 ذیابیطس سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر آپ کو پری ذیابیطس ہے تو کچھ احتیاطی تدابیر بیماری کو آگے بڑھنے سے روکنے یا اس کی رفتار کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ احتیاطی تدابیر میں شامل ہیں:

٭ کم چکنائی، کم کیلوریز اور زیادہ فائبر والی غذا کا انتخاب کریں

٭ پھل، سبزیاں اور ثابت اناج اپنی خوراک کا حصہ بنائیں

٭ ہفتے میں کم از کم 150 منٹ معتدل یا تیز رفتار جسمانی سرگرمی کریں، جیسے تیز چہل قدمی، سائیکل چلانا، دوڑنا یا تیراکی

٭ اگر وزن زیادہ ہے تو اسے کم کریں اور دوبارہ بڑھنے سے بچائیں

٭ زیادہ دیر تک مسلسل نہ بیٹھیں، بلکہ ہر 30 منٹ بعد چند منٹ کے لیے اٹھ کر چہل قدمی کریں

تشخیص

اے ون سی (A1C) ٹیسٹ

ٹائپ 2 ذیابیطس کی تشخیص کے لیے سب سے زیادہ اے ون سی (A1C) ٹیسٹ استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ٹیسٹ گزشتہ دو سے تین ماہ کے دوران خون میں شوگر کی اوسط مقدار ظاہر کرتا ہے۔ نتائج کی تشریح درج ذیل ہے:

5.7 فیصد سے کم: معمول کی سطح

5.7 سے 6.4 فیصد: پری ذیابیطس

دو الگ ٹیسٹوں میں 6.5 فیصد یا اس سے زیادہ: ذیابیطس

٭ زیادہ تر افراد کے لیے اے ون سی (A1C) کی سطح 7 فیصد سے کم رکھنا تجویز کیا جاتا ہے۔

اگر اے ون سی ٹیسٹ دستیاب نہ ہو یا اس کے نتائج کسی وجہ سے درست نہ ہوں تو درج ذیل ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں:

رینڈم بلڈ شوگر ٹیسٹ

اس ٹیسٹ میں کھانے کے وقت کی کوئی شرط نہیں ہوتی۔ اگر خون میں شوگر 200 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر یا اس سے زیادہ ہو، اور ذیابیطس کی علامات بھی موجود ہوں، تو ذیابیطس کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

فاسٹنگ بلڈ شوگر ٹیسٹ

رات بھر کچھ نہ کھانے کے بعد خون کا نمونہ لیا جاتا ہے۔ رزلٹس کی تشریح:

 100 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے کم: نارمل

100 سے 125 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر: پری ذیابیطس

دو الگ ٹیسٹوں میں 126 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر یا اس سے زیادہ: ذیابیطس

گلوکوز ٹالرنس ٹیسٹ

یہ ٹیسٹ زیادہ تر حاملہ خواتین اور خون کے خلیوں کی خرابی (سسٹک فائبروسس) کے مریضوں میں کیا جاتا ہے۔ اس میں پہلے کچھ وقت تک کچھ نہیں کھایا جاتا، پھر میٹھا محلول پلایا جاتا ہے اور دو گھنٹے کے دوران خون کے نمونے لیے جاتے ہیں۔

دو گھنٹے بعد 140 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے کم: نارمل

140 سے 199 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر: پری ذیابیطس

دو گھنٹے بعد 200 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر یا اس سے زیادہ: ذیابیطس

سکریننگ

امریکن ڈایابیٹیز ایسوسی ایشن کے مطابق 35 سال یا اس سے زیادہ عمر کے تمام افراد کو ٹائپ 2 ذیابیطس کی باقاعدہ سکریننگ کرانی چاہیے۔ درج ذیل افراد کو بھی ذیابیطس کا ٹیسٹ کروانا چاہیے:

٭ 35 سال سے کم عمر مگر زیادہ وزن یا موٹاپے کا شکار افراد، جن میں ذیابیطس کے ایک یا زیادہ خطرے کے عوامل موجود ہوں

٭ وہ خواتین جنہیں حمل کے دوران ذیابیطس ہوئی ہو

٭ وہ افراد جن میں پری ذیابیطس کی تشخیص ہو چکی ہو

٭ زیادہ وزن یا موٹاپے کا شکار بچے، جن کی فیملی ہسٹری میں ٹائپ 2 ذیابیطس یا دیگر خطرے کے عوامل موجود ہوں

علاج

علاج میں درج ذیل اقدامات شامل ہیں:

٭ متوازن اور صحت بخش غذا اختیار کرنا

٭ باقاعدگی سے ورزش کرنا

٭ ضرورت کے مطابق وزن کم کرنا

٭ ضرورت پڑنے پر ذیابیطس کی ادویات یا انسولین استعمال کرنا

٭ خون میں شوگر کی سطح کی باقاعدہ نگرانی کرنا

یہ اقدامات خون میں شوگر کو صحت مند حد میں رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ بیماری کی پیچیدگیوں کو مؤخر یا ان سے بچاؤ بھی ممکن ہو سکتا ہے۔

طرزِ زندگی اور گھریلو احتیاط

ٹائپ 2 ذیابیطس پر مؤثر انداز میں قابو پانے سے سنگین اور جان لیوا پیچیدگیوں کا خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔ درج ذیل عادات اپنانے سے بیماری کو بہتر انداز میں کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے:

٭ صحت بخش غذا اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں

٭ اگر آپ انسولین یا خون میں شوگر کم کرنے والی دوا استعمال کرتے ہیں تو ایسی شناختی بریسلیٹ پہنیں، جس سے دوسروں کو معلوم ہو سکے کہ آپ ذیابیطس کے مریض ہیں

٭ ہر سال مکمل طبی معائنہ اور آنکھوں کا تفصیلی معائنہ ضرور کرائیں

٭ تمام ضروری حفاظتی ٹیکے بروقت لگوائیں، کیونکہ خون میں شوگر زیادہ رہنے سے جسم کا مدافعتی نظام کمزور ہو سکتا ہے

٭ ہر سال فلو سے بچاؤ کی ویکسین لگوائیں اور کووڈ-19 ویکسین بھی مکمل رکھیں۔ ڈاکٹر ضرورت کے مطابق نمونیا اور دیگر ویکسین بھی تجویز کر سکتے ہیں

٭ دانتوں اور مسوڑھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں، باقاعدگی سے برش اور فلاس کریں اور وقتاً فوقتاً ڈینٹسٹ سے معائنہ کرائیں۔ اگر مسوڑھوں سے خون آئے یا وہ سرخ اور سوجے ہوئے ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں

٭ روزانہ نیم گرم پانی سے پاؤں دھوئیں۔ انہیں اچھی طرح خشک کریں، خاص طور پر انگلیوں کے درمیان، اور جلد کو نرم رکھنے کے لیے موئسچرائزر استعمال کریں

٭ ہر روز پاؤں کا معائنہ کریں۔ اگر چھالا، زخم، کٹ، رنگت میں تبدیلی یا سوجن نظر آئے اور وہ جلد ٹھیک نہ ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں

٭ متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور تجویز کردہ ادویات کے ذریعے بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو قابو میں رکھیں

٭ تمباکو نوشی اور تمباکو کی دیگر مصنوعات سے مکمل پرہیز کریں، کیونکہ یہ ذیابیطس کی پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھاتی ہیں

٭ الکوحل کا استعمال محدود رکھیں یا اس سے مکمل پرہیز کریں

٭ روزانہ مناسب اور معیاری نیند کو اپنی معمول کی زندگی کا حصہ بنائیں

Frequently Asked Questions (FAQs)

کیا ٹائپ 2 ذیابیطس مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے؟

فی الحال ٹائپ 2 ذیابیطس کا مکمل علاج موجود نہیں، تاہم صحت مند طرزِ زندگی، وزن میں کمی، مناسب غذا، ورزش اور ادویات کے ذریعے اسے مؤثر انداز میں قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔

کیا ٹائپ 2 ذیابیطس صرف زیادہ وزن والے افراد کو ہوتی ہے؟

نہیں۔ اگرچہ موٹاپا اس بیماری کا اہم خطرہ ہے، لیکن فیملی ہسٹری، عمر، جسمانی سرگرمی کی کمی اور دیگر عوامل بھی اس کا سبب بن سکتے ہیں۔

کیا ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریض کو روزانہ شوگر چیک کرنی چاہیے؟

اس کا انحصار مریض کی حالت اور علاج پر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر ضرورت کے مطابق خون میں شوگر چیک کرنے کا شیڈول تجویز کرتے ہیں۔

کیا ٹائپ 2 ذیابیطس سے دل، گردے اور آنکھیں متاثر ہو سکتی ہیں؟

جی ہاں۔ اگر خون میں شوگر طویل عرصے تک قابو میں نہ رہے تو دل، گردے، آنکھیں، اعصاب اور خون کی نالیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=endocrinologist

Vinkmag ad

Read Previous

موچ

Read Next

بے خوابی

Leave a Reply

Most Popular