موٹاپے سے بچائو کچھ اہم ٹِپس

502

نائلہ آج کل بہت پریشان تھی ۔ اس کی پریشانی کا سبب شادی کے بعد اس کا تیزی سے بڑھتا ہوا وزن تھا۔ موٹاپے کا شکار ہونے کی وجہ سے وہ نہ صرف بھدی لگ رہی تھی بلکہ تھوڑا سا چلنے پربھی اس کا سانس پھولنے لگتا۔ ایک دن مارکیٹ میں خر یداری کرتے ہوئے اس کی نظر اپنی پرانی دوست عائشہ پر پڑی جو طب کے میدان میں تعلیم مکمل کرنے کے بعدبحیثیت ڈاکٹر اپنے فرائض انجام دے رہی تھی ۔ اتنی پرانی دوست کو اتنے عرصے بعد دیکھ کر اسے بہت خوشی ہوئی۔وہ اسے اصرار کر کے اپنے گھر لے آئی۔گفتگو کے دوران عائشہ نے بتایا کہ اس ک شوہر کی ٹراسفرلاہور ہو گئی ہے اوروہ آج کل لاہور ہوتی ہے۔

’’کیسی چل رہی ہے آپ کی ڈاکٹری؟‘‘ نائلہ نے چائے کا کپ اسے پکڑاتے ہوئے پوچھا۔’’ڈاکٹری تو بالکل ٹھیک چل رہی ہے ۔‘‘عائشہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا’’ـــلیکن تم بتائو کہ وہ دبلی پتلی نائلہ کہاں گئی؟‘‘ عائشہ نے اسے چھیڑا۔’’کیا کروں یہ موٹاپا جان ہی نہیں چھوڑتا۔‘‘ نائلہ نے شرمندگی سے نظریں چرائیں۔عائشہ نے کہا’’ لو، یہ کون سا مشکل کام ہے‘ البتہ صبرآزما ضرور ہے ۔تم چند باتوں کا خیال رکھو‘موٹاپاخودبخود غائب ہوجائے گا۔‘‘ا س نے اسے وزن میں کمی کے حوالے سے کچھ اہم باتیں بتائیں جو درج ذیل ہیں۔

کیلوریز کلچر اپنائیں
کھانے یا پینے کی ہر چیز میں کیلوریز کی خاص تعداد موجود ہوتی ہے جو ہمیں اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ وہ چیز ہمیں کس قدر توانائی فراہم کرے گی ۔ہمیں اس توانائی کو دن بھر مختلف کاموں کے لئے استعمال کرنا ہوتا ہے ۔اگر ہم ضرورت سے زیادہ توانائی اپنے جسم میں جمع کرلیں گے تو وہ چربی کی شکل میں جم جائے گی اور ہم موٹاپے کا شکار ہو جائیں گے۔ اپنے وزن کو مناسب حد میں رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہمیں ہماری توانائی کی اوسط ضرورت کا علم ہو۔ ایک عام شخص (مرد) کو دن بھر میں اوسطاً 2000سے 2500 کیلوریز جبکہ ایک عام خاتون کو 1500 سے 2000 کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ بات بھی اہم ہے کہ یہ کیلوریز مختلف فوڈ گروپس سے لی جائیں۔ہمارے ہاں اکثراوقات اس کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ ہمیں چاہئے کہ اتنی خوراک کھائیں جتنی ہمارے جسم کوضرورت ہے اور پھر اضافی کیلوریز کو خرچ بھی کریں ۔ کیلوریز کو استعمال کرنے کاایک آسان ذریعہ تیز چلنا یا ورزش ہے ۔

تین پرہیز
انسانی جسم کو چکنائی اور شوگر کی مخصوص مقدار درکار ہوتی ہے۔اگر اس کو بڑھالیا جائے تو ہم موٹاپے کے علاوہ مختلف بیماریوں کابھی شکار ہوسکتے ہیں۔ ڈاکٹر حضرات کا کہنا ہے کہ اس سے بچاؤ کے لیے تین چ (چاول ، چینی ، چکنائی) سے حتی الامکان دوری اختیار کریں۔ چکنائی کا زیادہ استعمال کولیسٹرول کی زیادتی کا سبب بنتا ہے اور جسم موٹا ہونے لگتا ہے اس لئے بیکری کی بنی اشیاء مثلاًمٹھائیاں ، کیک وغیرہ ترک کریں۔ چائے کے شوقین بہت سے افراد اس میں دل کھول کرچینی ڈالتے ہیں جس سے نہ صرف وزن بڑھتا ہے بلکہ ذیابیطس سمیت کئی مسائل بھی سا منے آرہے ہیں۔اس لئے ہمیں چاہیے کہ چینی کے استعمال میںاعتدال کا رویہ اختیار کریں۔

ٹی وی لائے موٹاپا
اگرچہ آپ کو یہ بات عجیب لگے گی کہ موٹاپے کا ایک سبب ٹی وی بھی ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ٹیلی وژن کے سامنے بیٹھ کر کھانا زیادہ کھایاجاتا ہے۔خاص طور پر بچے ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر چپس وغیرہ زیادہ کھاتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں بھی وزن بڑھنے کے مسائل سامنے آرہے ہیں۔ اس لیے ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر کھانے سے گریز کرنا چاہئے۔

پھل اور سبزی کھائیں
بھوک لگنے پرجنک فوڈ کی بجائے سیب ،کیلا یا کوئی موسمی پھل اور سبزیاں (مثلاًـبندگوبھی،کھیرا،ٹماٹر) استعمال کریں۔ ڈبوں میں بند جوس پر تازہ جوس کو ترجیح دیںکیونکہ یہ صحت بخش ہے۔ پھلوں کا جوس پینے سے بھی بہتر یہ ہے کہ آپ انہیں قدرتی حالت میں کھائیں‘ اس لئے کہ ان میں موجود فائبر نہ صرف صحت بخش ہے بلکہ وزن گھٹانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ہری سبزیاں مثلاًپالک،مولی،چقندراور شکجم بھی آپ کے لیے مفیدہیں لہٰذا انہیں اپنی غذا میں لازماًشامل کریں۔یہ غذائیں وزن کو بھی قابو میں رکھتی ہیں ۔

واک اور ورزش
واک اور ورزش نہ صرف ہمیں چاق چوبند رکھتی ہے بلکہ وزن کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ خواتین میں موٹاپے کی شرح نسبتاً زیادہ ہے جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ گھر یلو کام کاج اور دیگر ذمہ داریوں کی وجہ سے خود پر توجہ نہیں دے پاتیں۔ اس کے علاوہ بہت سی خواتین گھریلو کام کاج کو ورزش کا متبادل سمجھتی ہیں جو درست نہیں۔ انہیں چاہئے کہ کم از کم ہفتے میں پانچ دن 30 منٹ کی واک یا ورزش کو اپنی عادت بنائیں اورایسے کام شوق سے کریں جن میں جسمانی سرگرمی زیادہ ہو ۔صبح کی واک کوزیادہ مفید قرار دیا جاتا ہے جس کی وجہ اس وقت فرد کا تازہ دم اور ہوا کا گردوغبار سے پاک ہونا ہے۔

سافٹ ڈرنکس نہ لیں
آج کل بازاروں میں نت نئے کولا مشروبات دستیاب ہیں جو بڑے پیمانے پر شوق سے پئے جاتے ہیں ۔گھر میںدعوت ہو‘ دوست احباب کی پارٹی یا شادی بیاہ کی تقریبات‘ یہ مشروب ان کا لازمی جزو سمجھے جاتے ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق ان کا زیادہ استعمال صحت کے لئے مضر ہے‘ اس لئے کہ ان میں شوگر کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ مثال کے طور پرایک گلاس کولا مشروب میں اوسطاً 11 چمچ چینی ہوتی
ہے لہٰذا ان مشروبات کے زیادہ استعمال سے وزن بڑھنے لگتا ہے۔
سافٹ ڈرنکس کی بجائے تازہ پانی یا گھریلو مشروبات پی لینا بہتر ہے۔

رات کو جلدی سوئیں
بہت سے لوگوں کو رات دیر سے سونے کی عادت ہوتی ہے جو نہ صرف مضرِصحت ہے بلکہ موٹاپے کا بھی باعث بنتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ آپ جتنا زیادہ بیدار ہیں گے اتنا زیادہ کھانے کی کوشش کریں گے۔اس لئے موٹاپے پر قابو پانے کے لئے ضروری ہے کہ سونے سے کم و بیش تین گھنٹے پہلے کھانا کھائیں اور رات کو جلدی سونے کی عادت اپنائیں۔

خشک میوہ جات وزن بڑھائیں
خشک میوے صحت مند خوراک کا اہم جزو ہیں‘ اس لئے کہ ان میں پوٹاشیم، فائبراور فائدہ مندفیٹس کی اچھی مقدار پائی جاتی ہے تاہم ان کازیادہ استعمال موٹاپے کا باعث بن سکتا ہے۔ مزیدار خشک میوہ جات کھا تے ہوئے ان کی مقدار کا اندازہ نہیں ہوپاتا لہٰذا اکثر لوگ انہیں زیادہ کھا لیتے ہیں جو موٹاپے کا سبب بن سکتا ہے۔ انہیں محدود مقدار میںکھاناصحت پر اچھا اثر ڈالتا ہے۔
موٹاپا بہت سی بیماریوں کی جڑ ہے لہٰذا اس سے چھٹکارا حاصل کرناضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی اہم ہے کہ وزن کم کرنے کے لئے صحت بخش طریقے اختیار کئے جائیں ۔اس کے لئے متوازن مقدار میں متوازن غذا کھائیں اور معمولات زندگی میں ایسی تبدیلیاں لائیں جو آپ کو متحرک رکھیں۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of