ریڑھ کی ہڈی کا خم

319

مجھے بالعموم کسی کے گھر جانا ہو تو پہلے سے وقت لے کر جاتی ہوں لیکن اس دن چونکہ بازار گئی ہوئی تھی اورمیری نئی دوست شائستہ کا گھر بھی راستے میںپڑتا تھا لہٰذا بتائے بغیراس کے گھر پہنچ گئی۔ دروازے پر بیل دی تو کوئی جواب نہ آیا۔ دوسری بیل پر ذرا وقفے کے بعد دروازہ کھلا ۔ شائستہ کی آنکھوں میں نمی تھی ۔ اس نے زبردستی مسکراتے ہوئے ہمیں خوش آمدید کہا۔
’’میں پاس سے گزر رہی تھی ‘ سوچا سلام کرتی جائوں۔اچھا میںاب چلتی ہوں‘ وہ دراصل گھر میں کچھ…‘‘
’’ یہ کیسے ممکن ہے ۔آئو بیٹھتے ہیں‘ چائے پی کے چلی جانا۔‘‘ اس نے جواب دیا اور ہاتھ پکڑ کر زبردستی اندر لے گئی۔

’’کیا پریشان ہو؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’ہاں ایک مسئلہ ہے !‘‘ اس نے نیچے دیکھتے ہوئے جواب دیا۔

’’ وہ کیا…؟‘‘ میرے سوال پر وہ خاموش رہی۔’’ ہو سکتا ہے کہ میں آپ کی کوئی مدد کر سکوں۔‘‘
’’بات یہ ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے دو چاند سے بیٹے دئیے ہیں۔ ان میں سے ایک چاند یعنی چھوٹے بچے کی ریڑھ کی ہڈی میں خم (Scoliosis)ہے۔ ہمیں یہ بات اس کی پیدائش کے کچھ عرصے بعد معلوم ہوئی۔ جس دن مجھے اس کا علم ہوا ‘اس دن تو مجھے ایسے لگاجیسے میرا دل ہی بند ہوگیا ہو۔میں بہت روئی‘بارباراپنے ہاتھوں پر اس امید پر چٹکی کاٹی کہ یہ خواب ثابت ہو۔‘‘

’’اچھا ، پھر کیا ہوا؟‘‘ میں نے تجسس سے پوچھا۔
’’اسی دوران میرے ابو بھی مجھ سے ملنے آگئے۔ مجھے روتا دھوتا دیکھ کر پریشان تو ہوئے مگر ناراض بھی بہت ہوئے۔کہنے لگے ’کہ بیٹا !میں نے آپ کی ایسی تربیت تو نہیں کی تھی کہ آزمائش پڑنے پر صبرکرنے اور حوصلہ دکھانے کی بجائے رونا شروع کردو۔‘ ان کی بات سنتے ہی میرے آنسو خشک ہوگئے اور میں اچانک خاموش ہوگئی۔‘‘
’’کتنی خوبصورت بات کہی انہوں نے… ‘‘
’’ انہوںنے پاس بٹھا کر بڑے پیار سے مجھے کہاکہ ’ بیٹا جی! آزمائش تو آگئی۔ اسے گزارنا توہے‘ خواہ رو کر گزارو یا ہنس کر۔ بہتریہی ہے کہ اسے حوصلے سے گزارو۔‘مجھے آج بھی وہ جملہ یاد ہے جو اُس وقت انہوں نے مجھ سے کہاتھا:”It is better to become a symbol of inspiration than a symbol of pity.” یعنی دوسروں کے لئے حوصلے کی علامت بن جانا‘ اس شخص سے کہیں بہتر ہے جس پر سب ترس کھا رہے ہوں۔‘ اس کے بعد اس معاملے پر میں کبھی نہیں روئی۔

’’اچھا پھر؟آپ نے پہلے کبھی اس موضوع پر بات نہیں کی ؟‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا۔

’’اسی لئے نہیں کی۔ابھی اس کی ڈائری پڑھ رہی تھی کہ …‘‘ اس نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔ ایک لمحہ توقف کے بعد بولی :’’ جب میں اس خاص کیفیت سے نکل آئی تو اگلا مرحلہ یہ جاننا تھا کہ ’ریڑھ کی ہڈی کی خمیدگی‘ کا مرض اصل میں ہے کیااور اس کا علاج کیا ہے؟ہم لاہور کے ماہر ہڈی و جوڑ (orthopedic surgeon)ڈاکٹر افضل احمد کے پاس گئے۔انہوں نے بچے کامعائنہ کیا اورپھر کہنے لگے:

’’ہرنارمل انسان کی کمرمیں ایک قدرتی خم (curve) ہوتا ہے جو توازن برقرار رکھنے اورچلنے پھرنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ اس مرض میں یہ ہڈی ایک طرف کو مڑی ہوتی ہے۔ ایسا ہر 100میں سے تین افراد کے ساتھ ہوتاہے۔‘‘
ڈاکٹر محمد علی شاہ کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے اور وہ بھی ماہرامراض ہڈی وجوڑہیں۔ ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ اس مرض کی جانچ کے لئے ڈاکٹرحضرات ہڈیوں کا معائنہ کرنے کے علاوہ ایکسرے بھی کرتے ہیں اور شدید علامات کی صورت میں سی ٹی سکین یا ایم آر آئی بھی کیا جاسکتا ہے۔

ان کا کہناتھاکہ اکثرصورتوں میں یہ جھکائو معمولی نوعیت کا ہوتا ہے جس میں علاج کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی‘ تاہم ہرچار سے چھ ماہ کے بعد اس کا چیک اپ ضروری ہوتاہے تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جا سکے کہ یہ خم کہیں زیادہ بڑھ تو نہیں رہا‘ اس لئے کہ شدید صورتوں میں یہ پھیپھڑوں یا دل کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ڈاکٹرشاہ کا یہ بھی کہناتھا کہ ریڑھ کی ہڈی میں خم دو طرح کا ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک کی شکل انگریزی حرف سی (C) جبکہ دوسرے کی ایس(S) جیسی ہوتی ہے۔ موخرالذکر کو ’’ڈبل کٹر‘‘ بھی کہتے ہیں اور یہ زیادہ نقصان کا باعث ہے۔

بچوں میں اس مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب ان کی ہڈیوں کی نشوونما ایک خاص حد تک پہنچنے کے بعد رُک جاتی ہے تو خم کی شدت میں بھی کمی آجاتی ہے۔ بڑھوتری کے سالوںمیں ڈاکٹر حضرات عموما ًبریسز( braces) کا مشورہ دیتے ہیں جو خم کو بڑھنے سے تو روکتے ہیں لیکن اسے ٹھیک نہیں کرتے۔ انہیں ہر وقت پہنے رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ ہڈیوں کی بڑھوتری کی عمر کے بعد ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اگرخم بہت زیادہ ہو توآپریشن بھی تجویزکیاجاسکتا ہے۔

شائستہ تھوڑی دیر خاموش رہیں‘ پھر کہنے لگیں:
’’امیداورناامیدی کی کشمکش کے دوران گزرتی زندگی جیسی ہوتی ہے‘ ویسی ہی میری بھی ہے۔اب میرا بچہ 13سال کا ہوگیا ہے۔ وہ اب کافی بہتر ہے‘مگر اس کے اصل احساسات اس کی ڈائری پڑھ کر معلوم ہوئے۔ آپ بھی پڑھیں۔‘‘ اس نے ہاتھ میں پکڑی ڈائری میری طرف بڑھا دی۔ میں نے وہ صفحہ پڑھنا شروع جو اس نے مجھے نکال کر دیاتھا:
’’جب دریا مڑتا ہے تو خوبصورت دِکھتا ہے۔ پانی وہاں جاتا ہے جہاں اس کا بہائو اس کو لے جاتا ہے۔ اس(پانی) میں طمانیت اور سکون ہے۔میرا جسم بھی اسی جانب کو جاتا ہے جہاں اس کی بڑی (ریڑھ کی)ہڈی اسے لے جاتی ہے۔ تو پھر میرے وجودمیں توازن اور خوبصورتی کیوں نہیں؟ یہ بُری کیوں دِکھتی ہے؟۔ میں ساری عمر کے لئے اس موڑ میں قیدکیوںہوگیا ہوں۔‘‘

’’کیا یہ اس کی اپنی تحریر ہے؟‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا جس پر اس نے اثبات میں سر ہلا یا۔ میں نے آگے پڑھنا شروع کیا:

’’لوگ اچھے اچھے مناظر دیکھتے ہیں اورپھر ان کی تصویر کو اپنے ذہن میں ایسے محفوظ کر لیتے ہیں کہ وہ نیند میں آکر بھی انہیں محظوظ کر جاتی ہے۔ ڈاکٹرجب میری کمر کو دیکھتے ہیں تو اسے ایکسرے کی شکل میں محفوظ کر لیتے ہیں، لیکن یہ تصویر مجھے مزید اداس کر جاتی ہے۔مجھے اپنی ٹیڑھی کمر پرلوگوں کے کمنٹس سن کربہت دکھ ہوتا ہے۔ وہ دریا کے موڑ کو توقبول کرلیتے ہیں مگر انسان کی ہڈی کے جھکاؤپر ہنستے ہیں۔ اور جو لوگ ایسا نہیں کرتے‘ وہ مجھ پر صرف ترس کھاتے ہیں جو مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا…‘‘

میں نے ڈائری کوبند کردیاور اس سے کہاکہ ہماری سوچیں اور استعداد محدود ہے جبکہ ایک ذات ہے جس کی طاقتیں لامحدود ہیں اور وہ ہم سے بہت محبت کرتی ہے۔ اس ذات سے دعا ہے کہ وہ آپ کے لئے آسانیاں پیدا کرے۔ تھوڑی دیر گفتگو کے بعدمیںنے اجازت چاہی اور گھر واپس آگئی۔ میں سوچ رہی تھی کہ بہت سے ہنستے مسکراتے چہروں کے پیچھے کوئی نہ کوئی دکھ چھپا ہوتا ہے۔ میرے دل سے یہ دعا بے ساختہ نکلی کہ خدا سب کو اپنی امان میں اور خوش رکھے۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of