ٹیسٹیکولر ایگزام (Testicular exam) میں خصیوں کی ظاہری حالت اور چھونے پر ان کی کیفیت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ یہ عمل عموماً آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود کیا جاتا ہے۔
کیوں کیا جاتا ہے
اس معائنے کا مقصد خصیوں کی معمول کی شکل، سائز اور کیفیت سے واقف ہونا ہے تاکہ کسی نئی تبدیلی کو پہچانا جا سکے۔ ایسی تبدیلی انفیکشن یا سسٹ جیسے عام اور بے ضرر مسئلے کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں اس کا تعلق خصیوں کے کینسر سے بھی ہو سکتا ہے۔
خطرات
اس عمل سے براہ راست کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ تاہم، کوئی مشتبہ چیز سامنے آنے پر مزید ٹیسٹ غیر ضروری تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
تیاری کیسے کریں
اس کے لیے کسی خاص تیاری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ گرم پانی سے نہانے کے دوران یا اس کے بعد معائنہ کرنا آسان ہو سکتا ہے۔ گرمی سے سکروٹم ڈھیلا ہو جاتا ہے، جس سے کسی غیر معمولی چیز کو محسوس کرنا آسان ہوتا ہے۔
معائنہ کیسے کریں
کپڑے اتار کر آئینے کے سامنے کھڑے ہوں۔ پھر:
سوجن دیکھیں: عضو تناسل کو ایک طرف کر کے سکروٹم کی جلد کا جائزہ لیں
ہر خصیے کو چیک کریں: دونوں ہاتھوں کی شہادت اور درمیانی انگلیاں خصیے کے نیچے اور انگوٹھے اوپر رکھیں
خصیے کو نرمی سے گھمائیں: اسے انگوٹھوں اور انگلیوں کے درمیان آہستگی سے گھمائیں۔ سخت گلٹی، ہموار گول ابھار یا سائز، شکل اور ساخت میں نئی تبدیلی پر توجہ دیں
سکروٹم کی جلد پر بعض ابھار غیر معمولی لگ سکتے ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ وہ کینسر کی علامت ہوں۔ اندر کی طرف بڑھنے والے بال، ریش یا جلد کے دیگر مسائل بھی ایسے ابھار پیدا کر سکتے ہیں۔ ایک نرم، رسی جیسی نالی بھی محسوس ہو سکتی ہے۔ اسے ایپی ڈیڈیمس کہتے ہیں اور یہ سکروٹم کا معمول کا حصہ ہے۔
نتائج
اگر کوئی گلٹی یا دوسری تبدیلی محسوس ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ ڈاکٹر معائنے کے بعد بلڈ ٹیسٹ، الٹراساؤنڈ یا بایوپسی کروا سکتا ہے۔
خصیوں میں ہونے والی زیادہ تر تبدیلیاں کینسر کی وجہ سے نہیں ہوتیں۔ سسٹ، چوٹ، انفیکشن، ہرنیا اور خصیوں کے گرد سیال جمع ہونا (ہائیڈروسیل) بھی ان کا سبب بن سکتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔