اپنی صحت کی ذمہ داری خود لیں

177

صحت کاتصور ”جزو“نہیں، ”کُل“ کے ساتھ وابستہ ہے جسے کُل سے الگ کر کے نہیں دیکھاجا سکتا۔ کسی فرد‘ خاندان یا معاشرے میں بیماری کا نہ ہونا اس بات کا کافی ثبوت نہیں کہ انہیں ”صحت مند“ قرار دے دیا جائے۔
عالمی ادارہ¿ صحت کا کہنا ہے کہ ”صحت ، بیماری یا جسمانی ضعف کے عدم وجود نہیں بلکہ مکمل جسمانی، ذہنی اورسماجی مامونیت کا نام ہے۔“
صحت سے متعلق ہمارے تصورات عملی اور حقیقت پسندانہ ہونے چاہئیں تاکہ ان کی روشنی میں اس اہم معاملے سے نپٹنے کے لئے زاوی¿ہ نظر کی تشکیل بھی عملی اور حقیقت پسندانہ ہو۔اس سلسلے میں سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ ایک فرد کی صحت کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کا صحیح جواب یہ ہے کہ :” فرد خود“۔ تاہم عملاً ہماری آبادی کی اکثریت اس پر یقین نہیں رکھتی۔
دوسرا سوال: ”وہ کون سی جگہ ہے جہاں صحت سب سے پہلے تشکیل پاتی ہے ؟“ حقیقت یہ ہے کہ صحت ہسپتالوں میں نہیں بلکہ گھروں میں تشکیل پاتی ہے۔ اس کے برعکس ہسپتال مریضوں کے مراکز برائے علاج ہیں۔ صحت گھروں میں تشکیل پاتی اور اس بات سے متاثر ہوتی ہے کہ ایک فرد کس طرح زندگی گزارتا‘ کھاتاپیتا‘ بیماریوں سے بچاﺅ کی تدابیر اختیار کرتااور کس حد تک صحت کواپنی ترجیح بناتا ہے ۔
ان دو بنیادی سوالوں کے حقیقی جواب میں مسئلے کا حل پنہاں ہے ۔افسوسناک بات یہ ہے کہ ہم بحیثیت فرد اور معاشرہ اپنی صحت کی ذمہ داری خود نہیں لیتے۔ کھانا پکانے اور کھانے کی عادات اور انداز سے لے کر خطرناک اورغیرمحتاط رویے اختیار کرنے ‘ غیر متحرک طرز زندگی اپنانے اور پرہیز سے غفلت برتنے سمیت ہر معاملے میں ہم جسمانی مامونیت کے بارے میں بہت کم فکرمند ہوتے ہیں۔ ذہنی اور سماجی مامونیت کے حالات بھی کچھ زیادہ تسلی بخش نہیں۔
مزید براں ہمارے تحت الشعور میں کہیں یہ بات پوشیدہ ہے کہ ہماری صحت کو یقینی بنانے کی ذمہ داری حکومت پر ہے۔ اس نقطہ نظرکی حامل گفتگو ہمیں اکثر گلی محلے اور تقریبات میں سننے کو ملتی ہے۔ہمیں نگہداشت صحت کی سہولیات بہم پہنچانے کے سلسلے میں حکومت کی نا اہلی اور بے حسی پر مبنی رویوں کی شکایات کا طومار سننے کو مل سکتا ہے۔ تاہم اس دوران ہم اس بات کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ اس طرح کی زیادہ تر شکایات کا تعلق علاج کے مراکز کی سہولیات سے ہوتا ہے ۔گھروں،گلیوں اور رہائش گاہوں کو صاف رکھنے میں حکومت اگر کچھ کر بھی سکتی ہے تو اس کا تناسب انتہائی کم ہے ۔
اپنے گردوپیش کو صاف رکھنے سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔کوئی ہمیں اس بات پر مجبور نہیں کر سکتا کہ ہم گھر وںمیں یا سڑکوں پرخطرناک اور غیر محتاط روئیے اپنائیں۔کوئی بھی اتنا بااثر اور طاقت ور نہیں کہ ہمیں کھیل کے میدانوں اور پارکوں کو ویران اور فاسٹ فوڈز کی دکانوں کوآباد اور پرہجوم بنانے پر مجبور کرسکے۔ اپنی صحت کو بہتر بنانے اور بیماریوں اور حادثات سے بچاﺅ کے سلسلے میں ایسے اقدامات بہت ہی کم ہیں جو ہم حکومتی امداد کے بغیر خود نہیں کر سکتے۔
تو پھر ہم اتنے لاتعلق کیوں واقع ہوئے ہیں؟کیا ہم اپنے بچوں ، اہل ِ خانہ اور سوسائٹی کا خیال نہیں رکھتے؟کیا ہم بے حس لوگ ہیں؟خوش قسمتی سے ایسا نہیں ہے۔ ہم وہ قابل رشک لوگ ہیں جو اپنے دیہات اور قصبوں کو سیلاب سے تباہ ہوتے دیکھتے ہی فوراً حرکت میں آ جاتے ہیں۔ جب زلزلوں سے ہمارے شہر وں میں تباہی آتی ہے تو ہم لوگوںکی مدد کے لئے انتہائی فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔
اصل بات یہ ہے کہ ہم میں آگہی کی کمی ہے۔ ہمارے پاس معلومات کی کمی ہے۔بالعموم ہم کسی کو تکلیف یا مصیبت میں مبتلا نہیں دیکھ سکتے اور ان کے مصائب ختم کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں ،اور پھر ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہوجاتے ہیں جو افراد اور خاندانوں میں لمبے عرصے کی مصیبتوں کا سبب بن سکتی ہیں۔ہمیں سیکھنے اورپھرسیکھے ہوئے کو آگے پھیلانے کی ضرورت ہے۔
صحت مند پاکستان کی طرف جانے والا واحد راستہ یہی ہے ۔