ریت کھانے کی لَت

238

بچوں کی بات تواور ہے ، ا س لئے کہ ان میں سمجھ بوجھ کی کمی ہوتی ہے لیکن بعض اوقات حاملہ خواتین کو بھی مٹی کھانے کی عادت ہو جاتی ہے ۔ تاہم ان خاتون کی عمر تو 78سال ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ روزانہ ریت کھاتی ہیں۔

ماہرین صحت مسلسل ایک ماہ تک غیرغذائی اشیاءکھانے کو ایک طرح کی نفسیاتی بیماری قرار دیتے ہیں اور ان کاخیال ہے کہ اس عادت کے نتیجے میں آنتوں کے بند ہوجانے (blockage) یا ان میں زخم ہوجانے کا خدشہ ہوتا ہے ۔دوسری طرف ان خاتون کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اس وقت سے ریت کھارہی ہیں جب ان کی عمر محض 15 سال تھی‘ یعنی یہ عمل اب چھ عشروں سے بھی زیادہ عرصے سے جاری ہے ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ انہیں ذہنی یا جسمانی اعتبار سے کبھی کسی خاص مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اپنی عمر کے دیگر بہت سے لوگوں کے مقابلے میں وہ بیمار بھی بہت کم ہوتی ہیں۔ ان کے پوتے نے بتایا کہ وہ تو بچپن سے انہیں ریت کھاتے دیکھ رہاہے اور اس سارے عرصے میں وہ صرف ایک بار یعنی گزشتہ برس بیمار پڑیں۔ ان کی بینائی بھی ٹھیک ہے‘چنانچہ انہیں عینک کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اکثر خواتین و حضرات کی کمر اس عمر میں جھک جاتی ہے لیکن ان کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔ وہ نہ صرف گھر کے کام کاج کرتی ہیں بلکہ کھیتی باڑی میں بھی حصہ لیتی ہیں جو ظاہر ہے کہ خاصا محنت اور مشقت طلب کام ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ 15 سال کی عمر میں انہوں نے پہلی مرتبہ ریت ایک طبیب کے مشورے پر کھائی ۔ اس وقت ان کے پیٹ میں درد تھا اور انہیں کہاگیا کہ وہ گائے کے دودھ میں ریت ملاکر پئیں۔ روایتی اطباءمخصوص حالات میں اورمخصوص مریضوں کو اس طرح کے مشورے دیتے رہے ہیںلیکن ظاہر ہے کہ اسے معمول نہیں بنایا جا سکتا، اس لئے کہ یہ معدے کے شدید مسائل کا باعث بن سکتا ہے ۔ خاتون کہتی ہیں کہ پیٹ کا درد تو کچھ وقت میں ٹھیک ہوگیا لیکن ریت کا ذائقہ ایسا منہ کو لگا کہ پھر چھوٹ نہ سکا۔ اب رات کو سوتے ہوئے اور صبح اٹھنے پر تو وہ لازماً کچھ ریت کھاتی ہیں۔ دن میں بھی طلب ہوتو کھا لیتی ہیں اور کبھی کبھار تو بار بار کھاتی ہیں۔ اس طرح ان کا معمول ہے کہ دن میں 250 گرام سے لے کر ایک کلوگرام تک ریت کھالیتی ہیں‘ حالانکہ یہ عمل ان کے لئے اتنا آسان نہیں ہوتا۔ جس طرح ہم دالوں اور چاولوں میں سے کنکر نکالتے ہیں‘ اسی طرح انہیں بھی ریت سے کنکر وغیرہ چن کر اسے صاف کرنا ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ اسے دھوتی ہیں اور دھوپ میں سکھاکر محفوظ کرتی ہیں‘ تب وہ کھائے جانے کے قابل ہوتی ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ انہیں ریت کی مختلف اقسام اور ان کے ذائقوں کا بھی اندازہ ہوگیاہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ ایک بار ان کے پڑوس میں تعمیرات کے لیے ریت آئی جو چکھنے پر انہیں بہت اچھی لگی۔ چنانچہ انہوں نے وہاں سے دوتین بوریاں اٹھا کر اپنے گھر میں موجود بوریوں سے بدل لیں۔

اس خاص عادت کے علاوہ ان میں کوئی اور ابنارمل بات نہیں ہے۔ شادی کی عمر ہوجانے پر انہوں نے اپنا گھر بسایا اور ان کے تین بچے ہیں ۔ اب تو ان کے پوتے پوتیاں بھی موجود ہیں جو دیگر کاموں کے علاوہ ان کے لیے ریت بھی جمع کرتے ہیں۔ اردگرد کے لوگ بھی ان کی اس عادت سے واقف ہیں ‘ چنانچہ بعض اوقات پڑوسی بھی ریت کے حصول میں ان کی مدد کرتے ہیں۔

تو کیا اس صورت حال کی کوئی توجیہ بیان کی جاسکتی ہے؟
جن ماہرین نے ان خاتون کے کیس کا جائزہ لیاہے‘ ان کاکہناہے کہ یہ پکا(Pica) نامی بیماری ہی کی ایک شکل ہے جس میں انسان نہ کھائی جانے والی چیزیں بھی کھانے لگتا ہے۔ عام حالات میں ایسا کرنے والے انسان کو مختلف بیماریاں لاحق ہوجانی چاہئیں لیکن اگر وہ بیمار نہیں ہوتیں تو شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ریت ان کے جسم میں موجود کسی کمی کو پورا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ میڈیکل سائنس میں اس کا کوئی شافی جواب موجود نہیں۔ مزیدتحقیق اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شاید اس مسئلے کو اور بھی زیادہ گہرائی میں سمجھا جاسکے۔
وقتاً فوقتاً ایسے واقعات کاسامنے آنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جوں جوں انسانی علم او رتحقیق کاعمل آگے بڑھتا ہے‘ نئے نئے عنوانات اور سوالات ہمارے سامنے آتے ہیں۔ اس تناظر میں کوئی شک نہیںہوناچاہیے کہ قدرت کے بہت سے سربستہ رازوں سے ابھی پردہ اٹھنا باقی ہے اور یہ عمل شاید ہی کبھی مکمل ہوسکے گا۔