Vinkmag ad

نیند کے مسائل

اچھی صحت کے لیے جتنی اہمیت متوازن غذا اور ورزش کی ہے، اتنی ہی مکمل اور پرسکون نیند کی بھی ہے۔ نیند نہ آئے یا بار بار آنکھ کھلتی رہے تو جاگنے پر تھکاوٹ ہوتی ہے اور دن پھر کے کام متاثر ہوتے ہیں۔ یہ کیفیت زیادہ عرصے تک رہے تو کئی امراض کا سبب بن سکتی ہے۔ اسلام آباد کے سلیپ سپیشلسٹ ڈاکٹر سہیل نسیم نیند کے مسائل پر تفصیلات فراہم کر رہے ہیں

نیند کیوں ضروری ہے؟

نیند وہ حالت ہے جس کے دوران دماغ اور جسم خود کو پر سکون کرتے ہیں۔ اس دوران مختلف خلیوں اور ٹشوز کی مرمت ہوتی ہے اور وہ دوبارہ پیدا بھی ہوتے ہیں۔ نیند میں ہارمونز کی سطح تبدیل ہوتی ہے جس کے باعث جسمانی نشوونما میں مدد ملتی ہے اور قوت مدافعت بھی بہتر ہوتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ سونے کے دوران ہمارا جسم اپنی کھوئی ہوئی توانائی بحال کرتا ہے مزیدبرآں پر سکون نیند کے دوران ہمارے دماغ کو آکسیجن سے بھرپور خون ملتا ہے۔ اس کی مدد سے وہ آنے والے دن میں بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے۔ ان سب کاموں کے لیے نیند ضروری ہے۔

کیا رات کی تھوڑی نیند دن کی زیادہ نیند سے بہتر ہے؟

جن فوائد کا پہلے ذکر کیا گیا ہے وہ کسی بھی وقت نیند سے حاصل ہو جاتے ہیں۔ مگر رات کی نیند کی اپنی اہمیت ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسانی جسم میں سونے جاگنے کا ایسا سائیکل ہے جو سورج کی روشنی سے کنٹرول ہوتا ہے۔ قدرت نے دن کمائی کے لیے اور رات سونے کے لیے دی ہے۔ دن بھر میں جتنا کام کریں گے، رات کو تھکاوٹ کے باعث نیند بھی اتنی پرسکون آئے گی۔

گہری نیند سے کیا مراد ہے؟

پرسکون یا گہری نیند سے مراد وہ حالت ہے جس میں فرد پر سکون اور لگاتار نیند سے لطف اندوز ہو سکے۔ اسے سوتے ہوئے سانس لینے میں دشواری یا بار بار آنکھ کھلنے کی شکایت نہ ہو۔ ماہرین صحت نیند کو چار مراحل میں تقسیم کرتے ہیں۔ نیند کی کوالٹی کو جانچنے کے لیے یہ دیکھاجاتا ہے کہ اس کے کتنے مراحل اس میں شامل ہیں اور ان میں گہری نیند کا دورانیہ کتنا ہے۔

دن میں چھ سے نو گھنٹے تک سونا نقصان دہ نہیں ہے۔ اگر کوئی پورا دن سو رہا ہو تو اس کی عموماً یہی وجہ ہوتی ہے کہ اس کی نیند پر سکون نہیں

کیا زیادہ نیند صحت کے لیے نقصان دہ ہے؟

دن میں چھ سے نو گھنٹے تک سونا نقصان دہ نہیں ہے۔ اگر کوئی پورا دن سو رہا ہو تو اس کی عموماً یہی وجہ ہوتی ہے کہ اس کی نیند پر سکون نہیں یا اسے صحت سے متعلق کوئی مسئلہ ہے۔ سوتے میں خراٹے لینا، سانس کا ٹوٹنا اور جگر یا پھیپھڑوں کی کچھ بیماریاں اس کا سبب ہو سکتی ہیں۔ ان بیماریوں میں جسم سے کچھ ایسے مادے خارج ہوتے ہیں جن کے باعث پورا دن غنودگی طاری رہتی ہے۔ اگر نیند نو گھنٹوں سے زیادہ ہو یا بیٹھے بیٹھے سو جاتے ہوں تو ڈاکٹر کو دکھائیں۔

عمر بڑھنے کے ساتھ نیند کم کیوں ہو جاتی ہے؟

ہر شخص کی نیند کی ضرورت اس کی عمر، کام اور دیگر عوامل کی بنا پر مختلف ہوتی ہے۔ عموماً ایک صحت مند فرد کے لیے چھ سے آٹھ گھنٹوں کی نیند تجویز کی جاتی ہے۔ یہ درست ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ نیند کی ضرورت کم ہو جاتی ہے۔ مثلاً نوزائیدہ بچے 18گھنٹے، بچے 10 سے 12 گھنٹے اور بزرگ 4 سے 5 گھنٹے سوتے ہیں۔ بڑھاپے میں کم سونا بذات خود کوئی بیماری نہیں ہے تاہم اس عمر میں صحت کے مختلف مسائل ہوتے ہیں لہٰذا بزرگ رات کو سو نہیں پاتے۔ وہ اس کمی کو دن کے اوقات میں کسی نہ کسی طرح اونگھتے ہوئے پورا کر لیتے ہیں۔

پر سکون نیند کا ماحول سے کیا تعلق ہے؟

پرسکون نیند کے لیے پرسکون ماحول ضروری ہے۔ ایسے ماحول کی تعریف مختلف افراد کے لیے مختلف ہو سکتی ہے۔ سونے کا ارادہ رکھنے والا شخص جس جگہ اور ماحول میں خود کو پرسکون اور مطمئن محسوس کرتا ہے، وہی اس کے لیے مثالی ہے۔ ایک خاص تناظر میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ پرسکون نیند کا تعلق اندھیرے، روشنی، شور یا خاموشی سے زیادہ فرد کی عادت سے ہے۔

انسانی نیند کا تقریباً 75 فی صد حصہ گہری نیند پر مشتمل ہوتا ہے۔ نیند کا فالج تب ہوتا ہے جب انسان گہری نیند سے نکل یا اس میں داخل ہو رہا ہو

نیند کے سائیکل کا دورانیہ کتنا ہوتا ہے؟

عموماً نیند کے ایک چکر یعنی سائیکل کو مکمل ہونے میں 90 سے 120 منٹ لگتے ہیں۔ اس کے بعد یہ دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔ پہلا مرحلہ سب سے چھوٹا ہوتا ہے۔ دوسرا مرحلہ سب سے لمبا ہوتا ہے جس کے بعد تیسرا مرحلہ آتا ہے۔ پھر گہری نیند شروع ہوتی ہے جس کا دورانیہ پہلے چکر میں 10 منٹ ہوتا ہے اور اس کے بعد نیند گہری ہونے کے مطابق بڑھتا ہے۔

نیند کا فالج کیا ہے؟

نیند کا فالج (sleep paralysis) ایک ایسی کیفیت ہے جس میں متاثرہ شخص عارضی طور پر نہ تو بول یا اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتا۔ یہ حالت چند سیکنڈ یا منٹوں میں ختم ہو جاتی ہے۔ اکثر لوگوں کے ساتھ زندگی میں ایک یا دو دفعہ ہی ایسا ہوتا ہے۔ اس کر برعکس کچھ کو ہر چند ماہ بعد باقاعدگی سے اس صورت حال سے گزرنا پڑتا ہے۔

نیند کے فالج کی علامات کیا ہیں؟

اس حالت میں فرد مختلف قسم کی کیفیات سے گزرتا ہے۔ ان میں سینے پر کسی بھاری شے کا دباؤ محسوس ہونا، سانس رکنا، آواز بند ہونے لگنا اور کچھ غیر معمولی تصاویر ذہن میں ابھرنا نمایاں ہیں۔ اس کے زیر اثر شخص نہ صرف نادیدہ چیزوں کو محسوس کرتا ہے بلکہ بعض اوقات خود کو مردہ بھی تصور کر لیتا ہے۔ کبھی کبھی وہ خود کو اونچائی سے گرتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ کچھ لوگ اسے جن کی پکڑ وغیرہ سمجھ لیتے ہیں لیکن یہ سب فریب نظر (hallucinations) ہیں۔

نیند نہ آنے کے پیچھے زیادہ تر نفسیاتی مسائل ہوتے ہیں جن میں سر فہرست ذہنی تناؤ ہے۔ جب یہ کیفیت زیادہ عرصے تک رہے تو اسے بے خوابی کہتے ہیں

نیند کے فالج کی عام وجوہات کیا ہیں؟

نیند کی مختلف حالتیں ہیں جن میں گہری اور ہلکی نیند زیادہ نمایاں ہیں۔ انسانی نیند کا تقریباً 75 فی صد حصہ گہری نیند پر مشتمل ہوتا ہے اور مذکورہ فالج اس وقت ہوتا ہے جب انسان گہری نیند سے نکل یا اس میں داخل ہو رہا ہو۔ اس دوران جسم کا رابطہ دماغ سے منقطع ہو جاتا ہے جس کے باعث جسم عارضی طور پر وہ بے حس و حرکت ہو جاتا ہے۔

نیند نہ آنے کی وجوہات کیا ہیں؟

نیند نہ آنے کے پیچھے زیادہ تر نفسیاتی مسائل ہوتے ہیں جن میں سر فہرست ذہنی تناؤ ہے۔ جب یہ کیفیت زیادہ عرصے تک رہے تو نیند نہ آنا بذات خود ایک بیماری کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔ اسے بے خوابی (Insomnia) کہتے ہیں۔ اگر صبح اٹھنے کے مقررہ وقت سے آدھا گھنٹہ پہلے آنکھ کھل جائے تو اسے وقت سے پہلے جاگنا کہا جاتا ہے۔

بے خوابی کی وجوہات کیا ہیں؟

بے خوابی کا سب سے بڑا سبب دماغ میں دوران خون کی کمی ہے۔ چائے یا قہوے کا زیادہ استعمال اور پریشانی میں مبتلا رہنا بھی اس کا سبب بن سکتا ہے۔ نظامِ انہضام کی خرابی کے علاوہ جوڑوں یا کمر کے درد، ذیابیطس، سانس کی تکلیف، بخار اور دمے کی وجہ سے بھی نیند متاثر ہو سکتی ہے۔ ڈپریشن، ذہنی تناؤ، بے چینی اور نشے کی عادت بھی اس کی وجوہات ہیں۔ یہ بیماری خواتین اور بزرگ افراد میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ اگر بے خوابی کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو مسئلہ دائمی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

اٹھنے کا وقت ایک رکھنے سے نیند کا سائیکل ایک ہو جاتا ہے۔ اگر سائیکل ٹھیک ہوگا تو نیند رات کو بھی وقت پر آئے گی

بے خوابی کی علامات کیا ہیں؟

رات کو نیند نہ آنا، ایک دفعہ غنودگی چھا جانے کے بعد نیند اچانک غائب ہو جانا، پیاس زیادہ لگنا، دھڑکن تیز ہونا، بے چینی یا پریشانی ہونا، صبح وقت سے بہت پہلے جاگ جانا، دن کے وقت نیند یا غنودگی کے باعث کام متاثر ہونا وغیرہ اس کی بنیادی علامات ہیں۔

بے خوابی کی اقسام کیا ہیں؟

اگر بستر پر سونے کے لیے لیٹنے کے بعد 30 منٹ تک نیند نہ آئے تو اسے نیند نہ آنا کہتے ہیں۔ اگر بستر پر لیٹتے ہی آپ کو نیند تو آ جائے لیکن رات کو بار بار آنکھ کھلتی رہے، آنکھ کھلنے کے بعد کافی دیر تک جاگتے رہیں اور صبح ان تمام وقفوں کو جمع کیا جائے تو آدھا گھنٹہ یا اس سے زیادہ کا وقت بنے تو اس کیفیت کو نیند میں تسلسل نہ ہونا کہتے ہیں۔

ماہرین اعصابی امراض رات کو سوتے ہوئے صبح اٹھنے کا وقت مقرر کرنے کے لیے کیوں کہتے ہیں؟

اٹھنے کا وقت ایک رکھنے سے نیند کا سائیکل ایک ہو جاتا ہے۔ اگر سائیکل ٹھیک ہوگا تو نیند رات کو بھی وقت پر آئے گی۔ ساتھ ہی آپ اپنے معمولات زندگی بہتر انداز میں انجام دے پائیں گے۔

شفا انٹرنیشنل ہسپتال کی سلیپ لیب میں جن مسائل کی تشخیص میں مدد ملتی ہے ان میں اولین نیند کے دوران سانس رکنا ہے

شفاانٹرنیشنل ہسپتال میں موجود سلیپ لیب کا کیا مقصد ہے؟

شفا انٹر نیشنل ہسپتال نے نیند سے متعلق مسائل کی تشخیص اور علاج کے لیے یہ لیبارٹری قائم کر رکھی ہے۔ یہ ایک خوبصورت خواب گاہ ہے جہاں مریض کی نیند کی ضروریات کے مطابق تمام سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد مریض کو گھر جیسا ماحول فراہم کر کے نیند سے متعلق مختلف بیماریوں کی تشخیص کرنا ہے۔

نیند کے مسائل کی تشخیص کیسے کی جاتی ہے؟

جب مریض لیبارٹری میں آتا ہے تو بستر پر لیٹنے کے بعد اس کے دماغ کی کارکردگی جانچنے کے لیے ایک تار لگائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کے ناک پر ایک سینسر (sensor) چسپاں کیا جاتا ہے تاکہ نیند کے دوران سانس کا تسلسل معلوم ہو سکے۔ خراٹوں کی رفتار اور شدت کی جانچ کے لیے منہ کے قریب مائیک رکھا جاتا ہے۔ سینے اور پیٹ پر بیلٹ لگا کر مریض کے سانس کی رفتار اور تسلسل کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

دل کی دھڑکن کے معائنے کے لیے ای سی جی لیڈ لگائی جاتی ہے۔ نیند کے دوران ٹانگوں کو لگنے والے جھٹکوں کو ماپنے کے لیے ٹانگوں سے مخصوص تاریں جوڑی جاتی ہیں۔ ساری رات مختلف کیمرے نیند کے دوران جسمانی تبدیلیوں کا جائزہ لیتے رہتے ہیں۔ اس طرح ایک رپورٹ تیار کی جاتی ہے جو اصل مسئلے کی تشخیص میں مدد دیتی ہے۔

لیبارٹری کن مسائل کی تشخیص میں مدد دیتی ہے؟

شفا انٹرنیشنل ہسپتال کی سلیپ لیب میں جن مسائل کی تشخیص میں مدد ملتی ہے ان میں اولین نیند کے دوران سانس رکنا ہے۔ نیند کے دوران کچھ مریضوں کا سانس تھوڑی دیر کے لیے رک جاتا ہے جسے سلیپ اپنیا کہتے ہیں۔ سانس میں رکاوٹ کا دورانیہ چند سیکنڈز سے ایک منٹ تک ہو سکتا ہے۔ ایسا عموماً ایک گھنٹے میں 30 بار ہوتا ہے۔

ایسے میں متعلقہ شخص نیند میں تسلسل برقرار نہیں رکھ پاتا۔ بیدار ہونے پر تھکا تھکا محسوس کرتا ہے۔ یہ تھکاوٹ دن بھر برقرار رہتی ہے۔ لیب میں اس کیفیت کی تشخیص ہو جاتی ہے۔

موٹاپے کے باعث ٹھیک طرح سے سانس نہ لے پانا بھی نیند میں خلل کا ایک سبب ہے۔ ایسے لوگوں کو سی پیپ نامی مشین لگائی جاتی ہے جو ان کے منہ میں زور سے ہوا پھونکتی ہے۔ اس طرح سانس بحال رہنے کی وجہ سے مریض میٹھی نیند سوتا ہے۔

ٹانگوں کو جھٹکے لگنے (periodic lymph movement disorder) کے مرض میں مبتلا افراد کی نیند بھی متاثر رہتی ہے۔ اس کی تشخیص بھی اس لیب میں کامیابی سے کی جا سکتی ہے۔ یہ سونے کے مراحل کی تشخیص کرنے میں بھی مددگار ہے۔ با الفاظ دیگر نیند سے متعلق سر سے پاؤں تک کوئی بھی مسئلہ ہو، اس کی تشخیص یہاں با آسانی کی جا سکتی ہے۔

سونے کے لیے لیٹیں اور 20 سے 30 منٹ تک نیند نہ آئے تو دوسرے کمرے میں جائیں اور ایسے کام میں مصروف ہو جائیں جو آپ کو اچھا لگتا ہے

پر سکون نیند کے حصول کے لیے کیا کریں؟

اس سلسلے میں پہلی بات اس وجہ کی تشخیص ہے جو پر سکون نیند میں رکاوٹ بن رہی ہے۔  اس کی روشنی میں معالج مریض کو مفید مشورے دیتا ہے۔ ان میں سے کچھ مشورے یہ ہیں:

٭ باقاعدہ ورزش کریں۔

٭ رات کے وقت چائے، کافی یا کسی بھی نشہ آور چیز کے استعمال سے پرہیز کریں۔

٭ بستر کو مطالعے یا موبائل فون پر گیمز کھیلنے کے بجائے صرف سونے کے لیے استعمال کریں۔

٭ صبح اٹھنے کا وقت مقرر کریں اور رات کو جتنا بھی جلدی یا دیر سے سوئیں، اٹھنے کے وقت کی پابندی کریں۔

٭ سونے کے لیے لیٹیں اور 20 سے 30 منٹ تک نیند نہ آئے تو بستر سے اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلے جائیں۔ وہاں جا کر مطالعے یا کسی ایسے کام میں مصروف ہو جائیں جو آپ کو اچھا لگتا ہے۔

٭ سونے سے پہلے ڈائری لکھنے کی عادت ڈالیں۔ اس میں پورے دن کے کاموں کی تفصیل، نیند نہ آنے کی ممکنہ وجوہات اور آرام کرنے کا دورانیہ تفصیل سے لکھیں۔

٭ کچھ لوگ پر سکون نیند کے لیے ادویات استعمال کرتے ہیں۔ انہیں ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے سے ہی استعمال کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

Inverter | Non-inverter | AC buying guide | Air conditioner | Shifa News

Read Next

پاکستان میں ڈبہ پیک دودھ پیرس سے بھی مہنگا

Leave a Reply

Most Popular