صحت کے لئے یا صحت کی بچت

92

پاکستان میں پرائم منسٹر کے نیشنل ہیلتھ پروگرام کا آغاز کر دیا گیا ہے جو ملک میںپہلا”نیشنل ہیلتھ انشورنس پروگرام“ ہے۔وزیراعظم محمد نواز شریف نے 31دسمبر2015ءکو اس پروگرام کا افتتاح کیاجس کا مقصد مستحق افراد کوعلاج معالجے کی سہولت فراہم کرنا ہے ۔
اس پروگرام کے تحت جن بیماریوں کے علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی ، ان میں امراض قلب ،ذیابیطس،زندگی اورا عضاءکو بچانا(پیوندکاری اور مصنوعی اعضاءلگانا) ،آخری مراحل میں گردے کے امراض اور ڈائلیسز،پرانے انفیکشنز( ہیپاٹائٹس)،اعضاء(جگر،گردے ،دل اور پھیپھڑوں ) کا ناکارہ ہوجانااور کینسر(کیموتھیراپی،ریڈیوتھیراپی اور سرجری) شامل ہیں ۔
اسلام آباد اور لاہور میں300مراکز کے ذریعے63,000کے لگ بھگ لوگوں کو ہیلتھ کارڈ مہیاکےے جائیں گے۔ یہ مراکز ابتدائی طور پر ہیلتھ کارڈ تقسیم کرنے کے لےے بنائے گئے ہیں۔کارڈ کا حامل ہر شخص سالانہ تین لاکھ روپے مالیت کی سہولیات ِصحت حاصل کرنے کا اہل ہوگا ۔تاہم لاگت اگر اس حد سے تجاوز کر جاتی ہے تو مریض کو بیت المال کے ذریعے مالی معاونت فراہم کی جائے گی ۔
پہلے مرحلے میں ان خاندانوں کو یہ سہولت فراہم کی جائے گی جن کی یومیہ آمدن محض 200روپے یا اس سے کم ہے ۔ اس پروگرام کے لےے 9 ارب روپے مختص کےے گئے ہیں۔ سات ترجیحی اور ثانوی امراض کے لئے یہ رقم پاکستان کے 23اضلاع میں پھیلے ان خاندانوںتک پہنچے گی جوخطِ غربت سے بھی نیچے کی سطح پرزندگی گزار رہے ہیں۔اس پروگرام میں شامل اضلاع میں نارووال،خانیوال،سرگودھا،رحیم ےار خان،شیخوپورہ،بدین،شہید بے نظیرآباد، سانگھڑ، مردان، مالاکنڈ، کوہاٹ، چترال ،کوئٹہ،لورالائی ،لسبیلہ اورکیچ شامل ہیں۔علاوہ ازیں اس فہرست میں مظفرآباد،کوٹلی،دیامر،سکردو،باجوڑایجنسی،خیبرایجنسی اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد بھی شامل ہےں۔
آسان لفظوں میں انشورنس مشکل وقت کے لئے بچت کا نام ہے ۔لغوی معنوں میں اس سے مراد’حفاظتی اقدام‘ ہے۔لہٰذا ہیلتھ انشورنس ایک ایسا بندوبست ہے جو بوقت ضرورت فرد کے صحت پر اخراجات کی ذمہ داری اٹھاتا ہے ۔روایتی ہیلتھ انشورنس میں آپ کسی انشورنس کمپنی کو ایک خاص حد تک رقم کی ادائیگی کرتے رہتے ہیں جس کے بدلے میں کمپنی انشورنس کی مدت کے دوران صحت پر اٹھنے والے آپ کے غیر متوقع اخراجات پہلے سے طے شدہ حد تک برداشت کرتی ہے ۔نظر ی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ جب کوئی شخص بیمار پڑتا ہے تو یہ اسے اچانک پڑنے والے اضافی مالی دباﺅ کی پریشانی سے بچاتی ہے ۔دوسرے لفظوں میں جب آپ کی صحت کو خطرہ لا حق ہوتا ہے توصحت کے لئے بچت آپ کو تحفظ فراہم کرتی ہے ۔
وزیر اعظم کے ’نیشنل ہیلتھ پروگرام‘ میں اس سے استفادہ کرنے والے افراد نہ توخود بچت کر تے ہیں اور نہ وہ کسی انشورنس کمپنی کو ادائیگی کرتے ہیں۔ اس کے برعکس یہ حکومت ہے جس نے شدید غریب افراد کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے خاص رقم مختص کی ہے۔ یہ ایک قابل تحسین اقدام ہے جس سے ان لوگوں کو یقیناً مدد ملے گی جن کے پاس بیمار ہونے کی صورت میں کوئی آسرا نہیں ہوتا۔ تاہم آبادی کے حجم اور غریبوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے خدشہ ہے کہ یہ رقم اونٹ کے منہ میں زیرہ کی طرح ناکافی ثابت ہو گی ۔
ہم اس بات کے قائل ہیں کہ صحت ”کے لئے“ بچت کی اہمیت پر زور دینا جتنا اچھا ہے، صحت” کی“ بچت پر زور دینااتنا ہی ناگزیر ہے۔ پرہیز کے اصول پر عمل اور صحت مند طرز زندگی اختیار کر کے ابتدائی مرحلے پر بیماریوں کو دور رکھناایک کم قیمت ، آسان اورمفید حکمت عملی ہے ۔اس پر جتنا زور دیا جائے، کم ہے ۔اس پیغام کو سکولوں سے لے کر عبادت گاہوں تک، سڑکوں سے لے کر تفریحی پارکوں تک اور کابینہ کے اجلاسوں سے لے کر سیاسی جلسوں تک ہر جگہ اوربارباردہرایا جانا چاہئے ۔ہم ایک ترقی پذیر ملک ہیںاور خوش قسمتی سے ان ا قوام میں شامل ہیں جن کے پاس نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے ۔ہمیں نوجوانوں کو تحریک دینے ‘ انہیں زندگی اور اس کے مواقع کوکھوجنے اوران خطرناک رویوں سے بچانے کے طریقوں پر سوچ و بچار کرنا ہوگی جوہمارے ہسپتالوں کو پر ہجوم بنائے رکھنے کے ذمہ دار ہیں ۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of