گنٹھیا آرتھرائٹس کی ایک قسم

حرکت کرنے میں جوڑوں کا کردار بہت اہم ہے۔ اگر ان کا خیال نہ رکھا جائے تو چھوٹے موٹے کاموں کی انجام دہی مشکل ہو جاتی ہے۔ ہر جوڑ دو ہڈیوں سے مل کر بنتا ہے جن کے درمیان نرم یا کرکری ہڈی (کارٹیلیج) ہوتی ہے۔ اس سے ایک رطوبت نکلتی ہے جو جوڑ کو چکنا کرتی ہے اور وہ با آسانی حرکت کرتا ہے۔ اس ہڈی کو نقصان پہنچے تو جوڑوں کی حرکت متاثر ہوتی ہے۔ نتیجتاً جوڑوں میں سوزش اور سوجن ہو جاتی ہے جسے آرتھرائٹس کہتے ہیں۔ گنٹھیا آرتھرائٹس کی ایک قسم ہے جو انگریزی میں روماٹائیڈ آرتھرائٹس کہلاتی ہے۔

یہ جوڑوں کی وہ سوزش ہے جس میں ہاتھوں، پاؤں اور کہنیوں وغیرہ کے چھوٹے جوڑ زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اگر بر وقت علاج نہ کروایا جائے تو گردن اور ریڑھ کی ہڈی کے جوڑ بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ مرض ویسے تو عمر کے کسی بھی حصے میں ہو سکتا ہے تاہم زیادہ تر صورتوں میں 20 سے 40 سال کی عمر میں ہوتا ہے۔ خواتین میں یہ مردوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ پایا جاتا ہے۔ 

گنٹھیا کی عام علامات

٭جوڑوں میں سوجن کے باعث درد ہوتا ہے۔

٭جوڑ اکڑ جاتے ہیں۔

٭جسمانی کمزوری اور وزن میں کمی ہوتی ہے۔

٭چھوٹے جوڑ خصوصاً ہاتھوں اور پاؤں کے جوڑ مثلاً انگلیاں، انگوٹھے اور کلائی بڑے جوڑوں کے مقابلے میں زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

٭علامات میں صبح کے وقت شدت آجاتی ہے۔

٭روزمرہ کے کام مثلاً مٹھی بنا کر کسی چیز کو پکڑنے میں دقت ہوتی ہے۔

٭چلتے ہوئے پاؤں یا ایڑھی میں درد ہوتا ہے اور بازو کو سر اور کمر کے پیچھے لے کر جانے میں دقت ہوتی ہے۔ 

ایڑھی یا پاؤں میں درد-گنٹھیا کی علامت-شفانیوز

گنٹھیا کیوں ہوتا ہے

ہمارے جسم میں ایک مدافعتی نظام موجود ہے جس کا مقصد حملہ آور جراثیم سے لڑنا ہے۔ اس بیماری میں یہ نظام جوڑوں پر حملہ کرنا شروع کر دیتا ہے جس کی وجہ سے ان میں سوجن اور تکلیف پیدا ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے اسے آٹو امیون ڈیزیز کہا جاتا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں مدافعتی نظام میں یہ تبدیلی کیونکر آتی ہے۔

تشخیص کیسے ہوتی ہے

مریض کی ظاہری علامات اور طبی معائنے کی روشنی میں گنٹھیا کا پتا چل جاتا ہے۔ خون کے نمونے اور ایکسرے کی مدد سے اس کی حتمی تشخیص ہو جاتی ہے اور مرض کے مرحلے کا بھی علم ہو جاتا ہے۔ اس مرض کی جلد تشخیص ضروری ہے، اس لئے کہ بروقت علاج سے بیماری کو ابتدائی مرحلے میں بہت اچھا کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور جوڑ نقصان سے بچ جاتے ہیں۔ اس لئے علامات ظاہر ہونے پر ابتدائی تین ماہ میں باقاعدہ علاج شروع کر دینا چاہئے۔

علاج کے طریقے

فی الوقت ایسا علاج ممکن نہیں جس سے بیماری کا جڑ سے خاتمہ ہو سکے۔ تاہم اس سے علامات کی شدت میں کمی آتی ہے اور مریض نارمل کے قریب زندگی گزار سکتے ہیں۔ مرض کی شدت، مریض کی حالت اور علامات کے مطابق یہ طریقے استعمال ہوتے ہیں:

٭گھٹنیا کے درد کو کم کرنے کے لئے ادویات دی جاتی ہیں۔ یہ درد کو کم کرتی ہیں لیکن جوڑوں کی سوجن ختم نہیں کرتیں اور نہ ہی نقصان کو روک پاتی ہیں۔

٭مریض کو سوجن دور کرنے والی دوائیں دی جاتی ہیں۔ یہ درد اور سوجن کو کم کرنے میں مدد تو دیتی ہیں لیکن طویل مدتی نقصان نہیں روکتیں۔ ان کے مسلسل استعمال سے معدے میں تیزابیت بڑھ جاتی ہے اور گردوں کی فعالیت پربھی اثر پڑتا ہے۔ اس لئے ان ادویات کو بغیر ڈاکٹری مشورے کے اور طویل عرصے تک استعمال نہ کریں۔

٭تیسری قسم کی ادویات وہ ہیں جو علامات کو بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ بیماری کی وجہ سے نقصان اور ٹوٹ پھوٹ کے عمل کو بھی روکتی ہیں۔ ان کی وجہ سے گنٹھیا کے علاج میں واضح بہتری آئی ہے۔

گنٹھیا کے لئے ادویات-گنٹھیا کا علاج-شفانیوز

گنٹھیا کے علاج میں استعمال ہونے والی مختلف طرح کی ادویات کے مختلف مقاصد ہیں۔ اس لئے خود علاجی کے بجائے روماٹالوجسٹ سے رابطہ کریں۔ وہ بیماری کی نوعیت کے لحاظ سے موزوں ترین دوا تجویز کر سکتے ہیں۔

کچھ مریضوں کو سٹیرائیڈز بھی دیے جاتے ہیں جو سوجن کو کم کرنے میں بہت مؤثر ہیں۔یہ گولیوں اور ٹیکوں دونوں صورتوں میں دستیاب ہیں۔ ان کے برے اثرات کا اکثر ذکر ہوتا ہے لیکن اس کا تعلق انہیں اندھا دھند اور معالج کے مشورے کے بغیر استعمال کرنے سے ہے۔ اگر انہیں صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ بیماری کے علاج میں بہت مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔

Vinkmag ad

Read Previous

کیا اسپغول فائدہ مند ہے؟

Read Next

MYTH: Starving helps lose weight

Leave a Reply

Most Popular