ریٹینا یا پردہ چشم آنکھ کے پچھلے حصے میں موجود ایک باریک تہہ ہے، جو روشنی کو محسوس کرکے تصویری معلومات دماغ تک پہنچاتی ہے۔ جب یہ تہہ اپنی معمول کی جگہ سے الگ ہو جائے تو اسے ریٹینا کا الگ ہو جانا (Retinal detachment) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ہنگامی حالت ہے، کیونکہ بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں متاثرہ آنکھ کی بینائی مستقل طور پر ضائع ہو سکتی ہے۔
علامات
ریٹینا کا الگ ہونا عموماً درد کا باعث نہیں بنتا، لیکن اس سے پہلے یا ابتدائی مرحلے میں درج ذیل علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:
٭ اچانک آنکھوں کے سامنے چھوٹے سیاہ دھبے یا باریک لکیریں تیرتی محسوس ہونا
٭ ایک یا دونوں آنکھوں کے سامنے اچانک چمکتی ہوئی روشنیاں دکھائی دینا
٭ نظر دھندلی ہونا
٭ اطراف کی نظر بتدریج کم ہونا
٭ ایسا محسوس ہونا جیسے آنکھ کے سامنے پردہ آ گیا ہو
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر ریٹینا کے الگ ہونے کی کوئی بھی علامت ظاہر ہو تو فوراً ماہر امراض چشم سے معائنہ کرائیں۔ یہ ہنگامی کیفیت ہے اور بروقت علاج ہی بینائی کو محفوظ رکھنے کا بہترین طریقہ ہے۔
وجوہات
ریٹینا کے الگ ہونے کی تین بنیادی وجوہات ہیں۔
سوراخ یا شگاف
یہ سب سے عام قسم ہے۔ اس میں ریٹینا میں سوراخ یا شگاف بن جاتا ہے، جس سے آنکھ کا مائع ریٹینا کے نیچے جمع ہونے لگتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ریٹینا اپنی جگہ سے الگ ہو جاتا ہے۔
اس کی سب سے عام وجہ بڑھتی عمر ہے۔ عمر کے ساتھ آنکھ کے اندر موجود جیلی نما مادہ سکڑنے یا پتلا ہونے لگتا ہے اور بعض اوقات ریٹینا کو کھینچ کر اس میں شگاف ڈال دیتا ہے۔ اگر اس شگاف کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو مائع اس کے نیچے جمع ہو کر ریٹینا کو الگ کر دیتا ہے۔
کھچاؤ
اس قسم میں ریٹینا کی سطح پر زخم کا ٹشو بن جاتا ہے، جو اسے آنکھ کے پچھلے حصے سے کھینچ کر الگ کر دیتا ہے۔ یہ حالت زیادہ تر ذیابیطس کے ان مریضوں میں دیکھی جاتی ہے، جن کی شوگر مناسب طور پر کنٹرول میں نہ ہو۔
مائع جمع ہونا
اس قسم میں ریٹینا میں کوئی سوراخ یا شگاف نہیں بنتا، بلکہ اس کے نیچے مائع جمع ہو جاتا ہے، جو اسے اپنی جگہ سے الگ کر دیتا ہے۔ اس کی ممکنہ وجوہات میں عمر سے متعلق مرکزی نظر کی خرابی، آنکھ کا انفیکشن، رسولیاں اور سوزش والی بیماریاں شامل ہیں۔
خطرے کے عوامل
درج ذیل عوامل ریٹینا کے الگ ہونے کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں:
٭ عمر 40 سے 70 سال کے درمیان ہونا
٭ پہلے ایک آنکھ میں ریٹینا کا الگ ہو چکا ہونا
٭ فیملی میں اس بیماری کی سابقہ ہسٹری ہونا
٭ نظر کا بہت زیادہ کمزور ہونا
٭ موتیے سمیت آنکھ کی کوئی سرجری ہونا
٭ آنکھ پر شدید چوٹ لگنا
٭ ریٹینا یا آنکھ کی دیگر بیماریوں کی سابقہ تاریخ ہونا
تشخیص
٭ خاص روشنی اور عدسوں کی مدد سے ریٹینا کا معائنہ کیا جاتا ہے
٭ اگر آنکھ کے اندر خون موجود ہو اور ریٹینا واضح نظر نہ آئے تو الٹراساؤنڈ کیا جاتا ہے
٭ علامات صرف ایک آنکھ میں ہوں، تب بھی دونوں آنکھوں کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ اگر پہلے معائنے میں شگاف نظر نہ آئے تو چند ہفتوں بعد دوبارہ معائنہ کیا جا سکتا ہے۔ اس دوران نئی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر دوبارہ ڈاکٹر سے رجوع کریں
علاج
ریٹینا کے سوراخ، شگاف یا الگ ہونے کا علاج زیادہ تر سرجری سے کیا جاتا ہے۔ علاج کا انتخاب ریٹینا کے نقصان کی جگہ اور شدت کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔
صرف سوراخ یا شگاف
اگر ریٹینا ابھی اپنی جگہ سے الگ نہ ہوئی ہو تو درج ذیل طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں:
لیزر سے علاج: لیزر کے ذریعے شگاف کے اردگرد ایسے نشانات بنائے جاتے ہیں، جو ریٹینا کو اپنی جگہ مضبوطی سے چپکنے میں مدد دیتے ہیں۔
منجمد کرنا: اس طریقے میں شگاف کے مقام کو منجمد کیا جاتا ہے، جس سے ایک باریک داغ بن جاتا ہے اور ریٹینا اپنی جگہ مضبوطی سے جڑ جاتا ہے۔
یہ دونوں علاج عموماً کلینک میں کیے جاتے ہیں اور مریض اسی روز گھر جا سکتا ہے۔ علاج کے بعد چند ہفتوں تک ایسی سرگرمیوں سے پرہیز کرنا چاہیے، جن سے آنکھ کو جھٹکا لگنے کا خدشہ ہو۔
اگر ریٹینا الگ ہو چکا ہو
اس صورت میں سرجری ضروری ہوتی ہے اور بہتر نتائج کے لیے جلد از جلد آپریشن کرانا چاہیے۔
آنکھ میں ہوا یا گیس کا بلبلہ ڈالنا
اس طریقے میں آنکھ کے اندر ہوا یا گیس کا بلبلہ ڈالا جاتا ہے، جو ریٹینا کو واپس اپنی جگہ دباتا ہے۔ اس کے ساتھ لیزر یا منجمد کرنے کا طریقہ بھی استعمال کیا جاتا ہے تاکہ شگاف مکمل طور پر بند ہو جائے۔ بعض مریضوں کو چند دن تک سر مخصوص پوزیشن میں رکھنا پڑتا ہے۔
سکلیرل بکلنگ
اس طریقے میں آنکھ کی سفید جھلی پر سلیکون کی ایک پٹی لگائی جاتی ہے، جو آنکھ کی دیوار کو سہارا دے کر ریٹینا پر پڑنے والا کھچاؤ کم کرتی ہے۔ ضرورت پڑنے پر ریٹینا کے نیچے جمع مائع بھی نکال دیا جاتا ہے۔
وٹریکٹومی
اس سرجری میں آنکھ کے اندر موجود جیلی نما مادہ اور ریٹینا کو کھینچنے والے ٹشو نکال دیے جاتے ہیں۔ بعد ازاں اس جگہ ہوا، گیس یا سلیکون آئل بھرا جاتا ہے تاکہ ریٹینا دوبارہ اپنی جگہ پر چپک جائے۔ اگر سلیکون آئل استعمال کیا جائے تو اسے بعد میں دوسری سرجری کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔
سرجری کے بعد
سرجری کے بعد بینائی بہتر ہونے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ بعض مریضوں کو دوسری سرجری کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ کچھ افراد کی بینائی مکمل طور پر بحال نہیں ہو پاتی۔
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا ریٹینا کا الگ ہو جانا خود بخود ٹھیک ہو سکتا ہے؟
نہیں، یہ ایک ہنگامی طبی کیفیت ہے اور عموماً اس کے علاج کے لیے سرجری کی ضرورت ہوتی ہے۔
کیا بروقت علاج سے بینائی بچائی جا سکتی ہے؟
جی ہاں، اگر علاج جلد کر لیا جائے تو بینائی محفوظ رہنے کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ جاتے ہیں۔
کیا ایک آنکھ متاثر ہونے کے بعد دوسری آنکھ بھی خطرے میں ہوتی ہے؟
جی ہاں، بعض افراد میں دوسری آنکھ میں بھی یہ مسئلہ پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے، اس لیے باقاعدہ معائنہ ضروری ہے۔
سرجری کے بعد کن احتیاطوں پر عمل کرنا چاہیے؟
ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کریں، تجویز کردہ ادویات باقاعدگی سے استعمال کریں، سر کو مطلوبہ پوزیشن میں رکھیں اور آنکھ پر جھٹکا لگنے والی سرگرمیوں سے پرہیز کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=ophthalmologist